وفاق کے زیر انتظام اسپتالوں کے سربراہان کی فوری تقرری کا حکم
2 ہفتوں کے اندر تمام سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کے تقرر کے قواعد و ضوابط مرتب کرکے تقرریاں کی جائیں، سپریم کورٹ
2 ہفتوں کے اندر تمام سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کے تقرر کے قواعد و ضوابط مرتب کرکے تقرریاں کی جائیں، سپریم کورٹ : فوٹو : فائل
HYDERABAD:
سپریم کورٹ نے وفاق کے زیر اتنظام اسپتالوں میں تقرریوں کے قواعد و ضوابط مرتب کرنے اور ان کے تحت سربراہ مقرر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے پولی کلینک، پمز اسپتال، نیشنل انسٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیٹو میڈیسن(این آئی آر ایم) اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسپتال میں مبینہ کرپشن کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ کے روبرو موقف اختیار کیا کہ کسی بھی وفاقی اسپتال کا مستقل سربراہ مقرر نہیں، اسپتالوں میں موجود لیبارٹریز کی مشینری عوام کے لئے 24 گھنٹے استعمال نہیں ہوتی۔ جس پر پمز اسپتال کے منتظم نے مؤقف پیش کیا کہ عملے کی کمی کے باعث لیبارٹری مشینیں 24 گھنٹے استعمال نہیں ہوسکتیں۔
جسٹس امیر ہانی کا کہنا تھا کہ ہمیں جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ پمز اسپتال کے تمام وینٹی لیٹر فعال ہیں ایسی جھوٹی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کسی کو خوف بھی نہیں آتا اسپتال میں کرپشن کا مقدمہ بہت پہلے سے درج ہوجانا چاہئے تھا۔
جوائنٹ سیکرٹری کیڈ نے عدالت کو بتایا کہ قواعد نہ ہونے کی وجہ سے اسپتالوں کے مستقل سربراہ مقرر نہیں کئے گئے جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ حکومت آئے روز نئے اسپتالوں کے بنانے کے اعلانات کرتی ہے پہلے سے موجود اسپتالوں کی حالت تو ٹھیک کرلیں۔ لوگوں کی زندگی پر بنی ہوئی ہے اور آپ نے اب تک قواعد نہیں بنائے آپ نے ریاست کے اندر ریاست بنارکھی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ 2 ہفتوں میں تمام سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کے تقرر کے قواعد و ضوابط مرتب کئے جائیں اور اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر خود پیش ہوکر قواعد و ضوابط کی رپورٹ پیش کریں۔ جبکہ قواعد مرتب کرکے اسپتالوں کے سربراہوں کو فوری تقرر کیا جائے اور اگر اسٹاف کی کمی ہے تو بھرتیوں کا عمل بھی جلد مکمل کریں اگر قواعد نہ بنائے گئے تو سیکرٹری کیڈ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کارروائی ہوگی۔
سپریم کورٹ نے وفاق کے زیر اتنظام اسپتالوں میں تقرریوں کے قواعد و ضوابط مرتب کرنے اور ان کے تحت سربراہ مقرر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے پولی کلینک، پمز اسپتال، نیشنل انسٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیٹو میڈیسن(این آئی آر ایم) اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسپتال میں مبینہ کرپشن کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ کے روبرو موقف اختیار کیا کہ کسی بھی وفاقی اسپتال کا مستقل سربراہ مقرر نہیں، اسپتالوں میں موجود لیبارٹریز کی مشینری عوام کے لئے 24 گھنٹے استعمال نہیں ہوتی۔ جس پر پمز اسپتال کے منتظم نے مؤقف پیش کیا کہ عملے کی کمی کے باعث لیبارٹری مشینیں 24 گھنٹے استعمال نہیں ہوسکتیں۔
جسٹس امیر ہانی کا کہنا تھا کہ ہمیں جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ پمز اسپتال کے تمام وینٹی لیٹر فعال ہیں ایسی جھوٹی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کسی کو خوف بھی نہیں آتا اسپتال میں کرپشن کا مقدمہ بہت پہلے سے درج ہوجانا چاہئے تھا۔
جوائنٹ سیکرٹری کیڈ نے عدالت کو بتایا کہ قواعد نہ ہونے کی وجہ سے اسپتالوں کے مستقل سربراہ مقرر نہیں کئے گئے جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ حکومت آئے روز نئے اسپتالوں کے بنانے کے اعلانات کرتی ہے پہلے سے موجود اسپتالوں کی حالت تو ٹھیک کرلیں۔ لوگوں کی زندگی پر بنی ہوئی ہے اور آپ نے اب تک قواعد نہیں بنائے آپ نے ریاست کے اندر ریاست بنارکھی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ 2 ہفتوں میں تمام سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کے تقرر کے قواعد و ضوابط مرتب کئے جائیں اور اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر خود پیش ہوکر قواعد و ضوابط کی رپورٹ پیش کریں۔ جبکہ قواعد مرتب کرکے اسپتالوں کے سربراہوں کو فوری تقرر کیا جائے اور اگر اسٹاف کی کمی ہے تو بھرتیوں کا عمل بھی جلد مکمل کریں اگر قواعد نہ بنائے گئے تو سیکرٹری کیڈ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کارروائی ہوگی۔