براک اوباما نے فلپائنی صدر کے نازیبا کلمات پران سے ہونیوالی ملاقات منسوخ کردی
براک اوباما نے فلپائنی صدر کی جانب سے ’’اوباما کو بازاری عورت کا بیٹا‘‘ کہنے پر ملاقات منسوخ کی۔
لاؤس میں امریکی صدر اورفلپائن کے صدر کے درمیان ملاقات ہونا تھیَ، فوٹو : فائل
فلپائن کے صدر کی جانب سے امریکی صدر براک اوباما کے خلاف نازیبا کلمات ادا کرنے پر اوباما نے ان سے ہونے والی ملاقات منسوخ کردی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے امریکی صدر لاؤس میں ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں جہاں ان کی فلپائن کے صدر سے ملاقات ہونا تھی لیکن براک اوباما نے فلپائنی صدر روڈریگو ڈیو ٹرٹی کی جانب سے انہیں '' بازاری عورت کا بیٹا'' کہنے پر ملاقات منسوخ کردی۔
اس سے قبل براک اوباما کا کہنا تھا کہ جب وہ صدر روڈریگو ڈیو ٹرٹی سے ملاقات کریں گے تو اس دوران فلپائن میں منشیات فروشوں کے ماورائے عدالت قتل کا معاملہ اٹھائیں گے جس پر فلپائنی صدر نے امریکی صدر کے خلاف نازیبا کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک خود مختار ریاست کا صدر ہوں اوربراک اوباما کون ہوتے ہیں جس کو میں جواب دوں۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں فلپائن کے صدر روڈریگو ڈیو ٹرٹی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد ملک میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کررکھا ہے جس میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے خلاف عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے امریکی صدر لاؤس میں ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں جہاں ان کی فلپائن کے صدر سے ملاقات ہونا تھی لیکن براک اوباما نے فلپائنی صدر روڈریگو ڈیو ٹرٹی کی جانب سے انہیں '' بازاری عورت کا بیٹا'' کہنے پر ملاقات منسوخ کردی۔
اس سے قبل براک اوباما کا کہنا تھا کہ جب وہ صدر روڈریگو ڈیو ٹرٹی سے ملاقات کریں گے تو اس دوران فلپائن میں منشیات فروشوں کے ماورائے عدالت قتل کا معاملہ اٹھائیں گے جس پر فلپائنی صدر نے امریکی صدر کے خلاف نازیبا کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک خود مختار ریاست کا صدر ہوں اوربراک اوباما کون ہوتے ہیں جس کو میں جواب دوں۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں فلپائن کے صدر روڈریگو ڈیو ٹرٹی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد ملک میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کررکھا ہے جس میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے خلاف عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔