آج ہمیں پھر کسی ’’جالب‘‘ کی ضرورت ہے کشور ناہید
جالب کی بیٹی نے نظم’’دستور‘‘پڑھ کر محفل کو گرما دیا، آرٹس کونسل میں تقریب۔
حبیب جالب کی صاحبزادی کو کار کی چابی دی جارہی ہے ،آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ و دیگر موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
KARACHI:
معروف شاعرہ کشور ناہید نے کہا ہے کہ حبیب جالب قوم کی خدمت کرتے ہوئے اپنے بچوں کا مستقبل بھول گئے انھیں ہمیشہ ملک وقوم کی خدمت کی دھن سوار رہتی تھی۔
آج پاکستان جن حالات سے گزررہا ہے ان حالات میں ہمیں پھر جالب کی ضرورت ہے مگر سامنے ویرانے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، انھوں نے حکومتوں کے بے پناہ ظلم برداشت کیے مگر سچ لکھنا نہیں چھوڑا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی آرٹس کونسل میں جاری عالمی ادبی کانفرنس کے سیشن حبیب جالب(اعتراف کمال) سے خطاب کرتے ہوئے کیا انکا کہنا تھا کہ جو بھی حکمران یہ دعویٰ کرتے ہیں کے وہ کسی خاص طبقے یا حکومت کے شاعر تھے تو ان کی غلط فہمی ہے وہ سو فیصد عوام کی ترجمانی کرتے تھے اور عوامی شاعر تھے۔
حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ جالب کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایسے باپ کی بیٹی ہوں جس کی یاد میں آج اتنی بڑی محفل سجائی گئی ہے، تقریب میں طاہرہ حبیب جالب کو کار کا تحفہ پیش کیا گیا، آخر میں طاہرہ جالب نے حبیب جالب کی نظم دستور کو ترنم میں پڑھ کر محفل کو گرما دیا۔
عالمی کانفریس کے دوسرے روز کے پانچوے سیشن میں ڈاکٹر مبارک علی کی تین کتابوں ، what history tell us،تاریخ کی باتیں اور پاکستانی معاشرے کی تقریب اجرا کا اہتمام کیا گیا، اس موقع پر ڈاکٹر جعفر احمد،ڈاکٹر توصیف احمد خان،اور ڈاکٹر ریاض شیخ نے ڈاکٹر مبارک علی کی شخصیت پر گفتگو کی، عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن کے چھٹے سیشن میںدو شاعروں کے ساتھ ایک شام منائی گئی جس میں معروف شاعر انور مسعود اور امجد اسلام امجد نے اپنا کلام سنایا، تقریب رات گئے تک جاری رہی اور شرکا لطف اندوز ہوتے رہے۔
معروف شاعرہ کشور ناہید نے کہا ہے کہ حبیب جالب قوم کی خدمت کرتے ہوئے اپنے بچوں کا مستقبل بھول گئے انھیں ہمیشہ ملک وقوم کی خدمت کی دھن سوار رہتی تھی۔
آج پاکستان جن حالات سے گزررہا ہے ان حالات میں ہمیں پھر جالب کی ضرورت ہے مگر سامنے ویرانے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، انھوں نے حکومتوں کے بے پناہ ظلم برداشت کیے مگر سچ لکھنا نہیں چھوڑا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی آرٹس کونسل میں جاری عالمی ادبی کانفرنس کے سیشن حبیب جالب(اعتراف کمال) سے خطاب کرتے ہوئے کیا انکا کہنا تھا کہ جو بھی حکمران یہ دعویٰ کرتے ہیں کے وہ کسی خاص طبقے یا حکومت کے شاعر تھے تو ان کی غلط فہمی ہے وہ سو فیصد عوام کی ترجمانی کرتے تھے اور عوامی شاعر تھے۔
حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ جالب کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایسے باپ کی بیٹی ہوں جس کی یاد میں آج اتنی بڑی محفل سجائی گئی ہے، تقریب میں طاہرہ حبیب جالب کو کار کا تحفہ پیش کیا گیا، آخر میں طاہرہ جالب نے حبیب جالب کی نظم دستور کو ترنم میں پڑھ کر محفل کو گرما دیا۔
عالمی کانفریس کے دوسرے روز کے پانچوے سیشن میں ڈاکٹر مبارک علی کی تین کتابوں ، what history tell us،تاریخ کی باتیں اور پاکستانی معاشرے کی تقریب اجرا کا اہتمام کیا گیا، اس موقع پر ڈاکٹر جعفر احمد،ڈاکٹر توصیف احمد خان،اور ڈاکٹر ریاض شیخ نے ڈاکٹر مبارک علی کی شخصیت پر گفتگو کی، عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن کے چھٹے سیشن میںدو شاعروں کے ساتھ ایک شام منائی گئی جس میں معروف شاعر انور مسعود اور امجد اسلام امجد نے اپنا کلام سنایا، تقریب رات گئے تک جاری رہی اور شرکا لطف اندوز ہوتے رہے۔