اسکولوں کی بندش کے خلاف شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ
اسکولوں پر علاقے کے با اثر وڈیروں نے قبضہ کر کے انہیںاوطاقوں میں تبدیل کر لیا
اسکولوں میں مال مویشیوں کو بھی باندھا ہوا ہے جس کے باعث علاقے کے بچے تعلیم سے محروم ہیں. فوٹو: فائل
تعلقہ جوہی ضلع دادو کے رہائشیوں نے اسکولوں کی بندش اور وڈیروںکے قبضے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں شریک افراد نے اسکولوںکی بلاجواز بندش اور وڈیروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
اس موقع پر علی حسن برہمانی، امجد مستوئی و دیگر نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے تعلقہ جوہی میں کئی اسکول بند پڑے ہیں اور جو اسکول کھلے ہیں، ان پر علاقے کے با اثر وڈیروں نے قبضہ کر کے انہیں نہ صرف اپنی اوطاقوں میں تبدیل کر لیا ہے بلکہ اسکولوں میں مال مویشیوں کو بھی باندھا ہوا ہے جس کے باعث علاقے کے بچے تعلیم سے محروم ہیں اور وہ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم جوہی کے افسران نے اسکولوں میں تعینات اساتذہ کو بھی چھٹی دے رکھی ہے اور وہ گھر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہے ہیں،انھوں نے حکومت سندھ اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ جوہی میں بند اسکولوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسکولوں کو کھول کر وہاں تعلیم کو بحال کیا جائے۔
اس موقع پر علی حسن برہمانی، امجد مستوئی و دیگر نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے تعلقہ جوہی میں کئی اسکول بند پڑے ہیں اور جو اسکول کھلے ہیں، ان پر علاقے کے با اثر وڈیروں نے قبضہ کر کے انہیں نہ صرف اپنی اوطاقوں میں تبدیل کر لیا ہے بلکہ اسکولوں میں مال مویشیوں کو بھی باندھا ہوا ہے جس کے باعث علاقے کے بچے تعلیم سے محروم ہیں اور وہ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم جوہی کے افسران نے اسکولوں میں تعینات اساتذہ کو بھی چھٹی دے رکھی ہے اور وہ گھر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہے ہیں،انھوں نے حکومت سندھ اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ جوہی میں بند اسکولوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسکولوں کو کھول کر وہاں تعلیم کو بحال کیا جائے۔