اڑی واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر
ہماری سفارتی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان بھرپور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے، عبدالباسط
پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے کے عزم پر قائم ہے، ہائی کمشنرعبدالباسط : فوٹو : فائل
KARACHI:
بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط خان کا کہنا ہے کہ ہماری سفارتی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان بھرپور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اڑی واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔
بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط خان نے بھارتی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ اہم ہے، مسائل کا حل سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہئے، پاکستان بھی بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔
پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے کے عزم پر قائم ہے اور اڑی واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، پٹھان کوٹ واقعے کی طرح اڑی حملے پر قبل از وقت نتیجہ اخذ نہ کیا جائے. ان کا کہنا تھا کہ اُڑی حملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اورتحقیقات کے بغیر الزام لگانا درست نہیں، ہماری سفارتی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے جب کہ پاکستان بھرپور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی اورمعاونت کر رہا ہے اور اس کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی 'را' کے گرفتار ایجنٹ کلبھوشن یادو کا اعترافی بیان اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں اب تک 108 کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کر چکی ہے، بھارتی فوج کی کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ بھارت نے کشمیری رہنما برہان مظفر وانی کا ماورائے آئین قتل کیا اور اب وہ دنیا کی توجہ کشمیر میں ہونے والے ظلم سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ بھارتی قیادت کے پاکستان کے خلاف الزامات بے بنیاد اور قابل مذمت ہیں۔
بھارت میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط خان کا کہنا ہے کہ ہماری سفارتی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان بھرپور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اڑی واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔
بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط خان نے بھارتی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ اہم ہے، مسائل کا حل سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہئے، پاکستان بھی بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔
پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے کے عزم پر قائم ہے اور اڑی واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، پٹھان کوٹ واقعے کی طرح اڑی حملے پر قبل از وقت نتیجہ اخذ نہ کیا جائے. ان کا کہنا تھا کہ اُڑی حملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اورتحقیقات کے بغیر الزام لگانا درست نہیں، ہماری سفارتی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے جب کہ پاکستان بھرپور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی اورمعاونت کر رہا ہے اور اس کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی 'را' کے گرفتار ایجنٹ کلبھوشن یادو کا اعترافی بیان اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں اب تک 108 کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کر چکی ہے، بھارتی فوج کی کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ بھارت نے کشمیری رہنما برہان مظفر وانی کا ماورائے آئین قتل کیا اور اب وہ دنیا کی توجہ کشمیر میں ہونے والے ظلم سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ بھارتی قیادت کے پاکستان کے خلاف الزامات بے بنیاد اور قابل مذمت ہیں۔