حکومت کے مقامی قرضے جولائی میں243ارب بڑھ کر14264ارب سے تجاوز

ایک ماہ کےدوران حکومت کےمستقل قرضوں میں کمی،مارکیٹ ٹریژی بلز کے ذریعے حاصل کردہ فلوٹنگ قرضوں میں اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک

ایک ماہ کےدوران حکومت کےمستقل قرضوں میں کمی،مارکیٹ ٹریژی بلز کے ذریعے حاصل کردہ فلوٹنگ قرضوں میں اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک۔ فوٹو: فائل

رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی 2016کے دوران حکومت کے مقامی ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں میں 243.6ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مقامی قرضوں کی مجموعی مالیت 14ہزار 264ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

قرضوں میں اضافے کی شرح جولائی 2015کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ جولائی 2015کے دوران حکومت کے مقامی قرضوں اور واجبات کی مالیت میں 390ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جون 2016کے اختتام پر مقامی ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں اور واجبات کی مجموعی مالیت 14ہزار 20ارب روپے تھی جو جولائی 2016 کے اختتام تک 14ہزار 264ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ایک ماہ کے دوران حکومت کے مستقل قرضوں میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم مارکیٹ ٹریژی بلز کے ذریعے حاصل کردہ فلوٹنگ قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔


جون 2016سے جولائی 2016 کے دوران مستقل قرضوں کی مالیت 936ارب روپے کم ہوکر 4999ارب روپے کی سطح پر آگئی ہے فیڈرل گورنمنٹ بانڈز کے ذریعے حاصل شدہ قرضوں کی مالیت میں 944ارب روپے کم ہوکر 4342ارب روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

حکومت نے پرائز بانڈز کے ذریعے ایک ماہ کے دوران 8ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے ہیں۔جولائی 2016 کے دوران حکومت نے مارکیٹ ٹریژری بلز کے ذریعے 1155ارب روپے کے قرضے حاصل کیے ہیں جس کے بعد حکومت کے مجموعی فلوٹنگ قرضوں کی مالیت 6157 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔بچت اسکیموں پوسٹل لائف انشورنس اور جی پی فنڈ کی شکل میں حکومتی واجبات میں ایک ماہ کے دوران 12ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے اور مجموعی ان فنڈڈ قرضوں کی مالیت 2692ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
Load Next Story