خطے میں امن مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے

’’وزیراعظم پاکستان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ‘‘ کے حوالے سے شرکاء کی ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں گفتگو


September 26, 2016
’’وزیراعظم پاکستان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ‘‘ کے حوالے سے شرکاء کی ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں گفتگو ۔ فوٹو : راجہ مدثر

وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔ اپنے اس خطاب میں انہوں نے مسئلہ کشمیر سمیت اہم مسائل پر بات کی۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کی شہادتوں پر ''فیکٹ فائنڈنگ مشن'' بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ وادی کو غیر فوجی علاقہ قرار دے اور اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کرائے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران خطے کے مسائل، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم، بھارت کے جنگی جنون کے باعث خطے کو لاحق خطرات، افغانستان میں امن و امان کی صورتحال، مسئلہ فلسطین اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئی دہشت گردی پر اپنا موقف اقوام عالم کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کرتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ دنیا میں قیام امن کے لیے ان مسائل کا حل ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے جس طرح مسئلہ کشمیر پر بھرپور موقف اپنایا ہے اسے نہ صرف پاکستان بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی سراہا گیا جبکہ بھارت اس پر تلملا اٹھا ہے ۔ ''وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور اس کے اثرات'' کے حوالے سے ''ایکسپریس فورم'' میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کی گیا جس میںمختلف سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروںاور ماہرین امور خارجہ نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

قمر زمان کائرہ
(سیکرٹری اطلاعات، پاکستان پیپلز پارٹی )
وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ حل طلب امور پر جاری مذاکراتی عمل کی راہ میں ہندوستان کی جانب سے رکاوٹ اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں،معصوم اور مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور حالیہ دو ماہ کے دوران تشدد میں تیزی لانے سے متعلق کھل کر اظہار خیال کیا ۔

وزیر اعظم نے اس سلسلے میں دو ٹوک موقف اپنا کر پاکستانی عوام کی صحیح ترجمانی کی ہے۔پاک بھارت مذاکرات سمیت مسئلہ کشمیر کے بارے میں یہ موقف وقت کی ضرورت تھی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم کے خطاب کے بعد پاکستان سے متعلق اقوام عالم میں پائے جانے والے منفی تاثر میں مثبت تبدیلی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور مظالم میں کمی آئے گی؟ پاکستان نے ہر دور حکومت میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسی قسم کا موقف اپنایا ہے مگر اس سے تاحال کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی کشمیریوں کی قسمت یا آزادی کا کوئی فیصلہ ہوسکا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ گذشتہ ساٹھ برس کے دوران اقوام متحدہ کشمیر سے متعلق اپنی منظور شدہ قرار دادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ادارہ کمزورکو اس کا حق دلانے کے بجائے صرف طاقتور کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتاہے۔وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر سمیت،پاک بھارت مذاکرات کی ناکامی،دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا جس کو ہم سرہاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے بلوچستان میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر ایک لفظ بھی نہیں بولا اور نہ ہی کل بھوشن یادیو کے بارے میں کوئی ذکر کیا۔حالانکہ ان امور سے متعلق وزیر اعظم کو اپنے خطاب میں تفصیل سے بات کرنی چاہیے تھی کیونکہ کل بھوشن یادیو کوئی معمولی ایجنٹ نہیں ہے بلکہ وہ بھارتی نیوی کا افسر ہے۔

وزیر اعظم پاکستان نے حالیہ دورہ کے دوران مختلف بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی ہے لیکن اگر یہ اقدام آج سے ایک دو ماہ پہلے کیا جاتا تو معصوم کشمیریوں کی مزید جانیں ضائع نہ ہوتیں۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ جو موقف انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اختیار کیا ہے، اس پر ڈٹے رہیں ، اس تسلسل کو قائم رکھیں لیکن اسے پاکستان میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

مشاہد حسین سید
(سیکرٹری جنرل، پاکستان مسلم لیگ (ق) )
وزیر اعظم پاکستان نے اپنی تقریر میں پاکستانی عوام اور مظلوم کشمیریوں کی امنگوں اور جذبات کی صحیح طور پر ترجمانی کی ہے۔ نواز شریف کے خطاب سے بھارت کا مکروہ چہرہ اقوام عالم کے سامنے آیا ہے جس نے پوری بھارت سرکار کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب نہ صرف بھارت پر عالمی دباؤ ہے بلکہ ملک کے اندر سے بھی شدید دباؤ آرہا ہے کیونکہ مودی نے معاشی انقلاب کا نعرہ لگا کر انتخاب جیتالیکن وہ اپنے اس نعرے کو سچ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ وہ مذہبی انتہاء پسندی و دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔

اگر مودی نے اپنی روش نہ بدلی تو اقوام عالم میں رسوائی کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی بے توقیری اور سیاسی زوال اس کا مقدر ہوگا۔ وزیراعظم نوازشریف نے بڑے جامع اور واضح انداز میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو دنیا کے سامنے رکھا ہے جس سے کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف کی بھرپور ترجمانی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے ہندوستان کے حکمران کی طرح جنگی اور جارحانہ لب ولہجہ اختیار کرنے کے بجائے مسئلہ کشمیر سمیت تمام دو طرفہ امور پر دو ٹوک الفاظ میں کھل کر پاکستان کا موقف پیش کیا اور اقوام عالم کو ہندوستان کا اصل چہرہ دکھایا ہے۔

وقت کی ضرورت یہی تھی کہ کشمیر کے بارے میں دو ٹوک موقف اپنایا جائے۔ وزیر اعظم نے نہ صرف مسئلہ کشمیر اور خطے میں امن کے قیام سے متعلق ہندوستان کی ہٹ درمی کے بارے میں اقوام عالم کو تفصیل سے آگاہ کیا بلکہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی منظور شدہ قرار دادوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں منصفانہ رائے شماری کروائے ۔ اگر اقوام متحدہ مشرقی تیمور اور سوڈان میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروا سکتا تو کشمیر میں کیوں نہیں ۔ اس وقت دنیا میں مسئلہ کشمیر کے حل اور امن کے قیام سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا جارہا ہے خاص طور پر چین ،ترکی، او آئی سی اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے اور اب بھارت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کیلئے مسئلہ کشمیرکا منصفانہ حل لازمی ہے۔ اس خطے کا مستقبل مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی مشروط ہے لہٰذا جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اس خطے میں امن کا قیام اور معاشی ترقی نہیں ہوسکے گی ۔ اس لئے اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل تلاش کرے۔ ہندوستان، کشمیر کی حالیہ تشویشناک صورتحال سے اقوام عالم کی توجہ ہٹانے کیلئے اڑی واقعہ سامنے لایا اور اس کا الزام پاکستان پر ڈال کر ہمارے موقف کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ اس واقعہ سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہندوستان کی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے کیونکہ اس پر نہ صرف اقوام عالم کی جانب سے دباؤ ہے بلکہ خود ہندوستان میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے بڑے جامع انداز میں دنیا بھر خصوصاََ جنوبی ایشیاء کو درپیش چیلنج پر روشنی ڈالی اور دبنگ الفاظ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا' وزیر اعظم نے بھارتی قابض افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام بشمول جوانوں ، بچوں اور خواتین کے قتل عام کا بھی تذکرہ کیا اور حق خود ارادیت کیلئے کشمیریوں کی 70 سالہ طویل جدوجہد کا دفاع کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، اس طرح انہوں نے اس عالمی فورم پر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کشمیر کا مقدمہ لڑا۔

وزیر اعظم نے دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے اقدامات خصوصاََ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے کردار کو حقیقی معنوں میں سراہا جائے۔ وزیر اعظم نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے کردار کو بھی دنیا کے سامنے رکھا اور بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ کر کے واضح کیا کہ پاکستان ،بھارت کے برعکس نہ تو کسی جنگی جنون میں مبتلا ہے اور نہ کشیدگی میں اضافے کا خواہاں ہے بلکہ پاکستان اقوام متحدہ کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اور ضبط و تحمل سے کام لیتے ہوئے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خواہاں ہے۔

میر طاہر مسعود
(کنونیئر،کل جماعتی حریت کانفرنس )
وزیراعظم محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بڑے جامع اور واضح انداز میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو دنیا کے سامنے رکھا ہے جس سے کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف کی بھر پور ترجمانی ہوئی ہے۔ میاں نواز شریف نے ماضی کے خطابات میں بھی مسئلہ کشمیر کو بھر پور اجاگر کیا۔وزیراعظم بڑے واضح انداز میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں امن ممکن نہیں اور بین الاقوامی دنیا پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کروانے کے لیے اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کریں۔ وزیراعظم کے خطاب نے اس امر کو بھی واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ خطے کو کسی بھی تصادم سے بچانے کے لیے بامقصد مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میںجاری بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کشمیریوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی مظالم کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں وفد بھیجنے کا مطالبہ کیا اور کشمیر سے فوجی انخلاء کی بات بھی کی جو کشمیریوں کے دیرینہ اور بنیادی مطالبات میں شامل ہے ۔کشمیری عوام اور حریت کی قیادت نے وزیر اعظم کی تقریر کو خوب سراہا ہے۔ اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ جس انداز میں وزیر اعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیا ہے اور اقوام عالم کے سامنے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے اس سلسلے کو اسی طرح برقرار رکھا جائے گا۔

میاں نواز شریف نے گذشتہ سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسی طرح کشمیر کے مسئلہ پر زبردست موقف اختیار کیا تھا لیکن اس کے بعد بھارتی حکمران نے بڑی چالاکی سے میاں نواز شریف کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے فرانس میں ان سے ملاقات کی اور اچانک رائیونڈ میں ان کی نواسی کی شادی پر بن بلائے مہمان بن کر آگئے اور پاکستان کو دھوکہ دیا۔ایک طرف دوستی کی بات کرتے رہے لیکن دوسری طرف پاکستان کے خلاف ہر فورم پر زہر اگلتے رہے، پاکستان کے حکمرانوں کو ہندوستانی چالوں سے آگاہ رہنا چاہیے اورپاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات بھلا کر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی کوششوں میں تعاون کرنا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور عوام اس مسئلے پر ایک موقف رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان نے اپنی تقریر میں جن نکات کو اٹھایا وہی حریت قائدین کا بنیادی مطالبہ ہے اور ہم نے اس نکات پر وزیر اعظم کو جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے جانے سے قبل تفصیلی بریفنگ دی تھی ۔وزیر اعظم نے جس طرح کشمیر پر ٹھوس اور دو ٹوک موقف اپنایا ہے، انہیں چاہیے کہ اب اس پر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھیں اور اقوام متحدہ اور اقوام عالم کے ذریعے ہندوستان پر ،کشمیرسے بھارتی فوج کے انخلاء ، وہاںنافذکالے قوانین ، عوامی اجتماعات پر پابندی اورکشمیری حریت رہنماؤں کی نظر بندی کے خاتمے سمیت بے گناہ کشمیریوں قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔

اقوام متحدہ کے مبصر مشن اور انسانی حقوق کے عالمی تنظیموں کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے جانے کی اجازت دی جائے تاکہ بنیادی طور پر کشمیریوں کو آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔حریت رہنما، بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے جبکہ حکومت پاکستان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ مسئلہ کشمیرکوازسرنو اقوام متحدہ ،انسانی حقوق کونسل اور اوآئی سی میں اٹھائے تاکہ کشمیر کی حالیہ سنگین صورتحال کے تناظر میں کشمیر کی آزادی کیلئے بین الاقوامی سطح پر کوششوں کو تیز کیا جاسکے۔

کشمیری عوام گذشتہ کئی عشروں سے اپنی آزادی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں حکومت پاکستان اور پاکستانی میڈیا کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ،انسانی حقوق کی پامالیوں خاص طور پر کشمیر میں جاری حالیہ ظلم و بربریت کے واقعات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرے اور ہندوستان پر دباؤ بڑھانے کیلئے بھرپور لابنگ کی جائے۔ کشمیری عوام1931ء سے اپنی قربانیاں پیش کررہے ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انہیں آزادی نصیب نہیں ہو جاتی۔ حکومت پاکستان کشمیریوں کی وکیل ہے ۔

جس کے ناطے اس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی فورم پر موثر آواز بلند کرے۔ وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی کے تقدس کے احترام میں تلخ حقائق سے متعلق اپنے اظہار خیال کو بھی بڑے متوازن انداز میں تحمل و بردباری کے ساتھ پیش کیا جو ان کے ایک ذمہ دارعالمی لیڈر ہونے کی دلیل ہے۔

مسعود خٹک
(سینئر ممبر و ریسرچر، انٹرنیشنل ریلیشن ڈیپارٹمنٹ، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حقوق کا بھرپور انداز میں دفاع اور پاکستان کی دہشت گردی کے لئے دی جانے والی قربانیوں کا کھل کر اظہار کیا، ان کی تقریر سے دنیا بھر میں پاکستان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔پاکستان کو اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن میں مسئلہ کشمیر ، بھارت اور افغانستان سے سفارتی تعلقات شامل ہیں اور امریکا کا بھارت کی جانب زیادہ جھکاؤ شامل ہے تاہم ان چیلنجوںکو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر اپنا واضح موقف پیش کیا ہے جس سے بھارت کے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران بھارت کی بلوچستان ، کراچی اور کوئٹہ میں مداخلت اور کاروائیوں کا بھی ذکر کیا ہے جس سے دنیا کے سامنے بھارت کا اصلی چہرہ سامنے آیا ہے ۔وزیراعظم نے بھارتی مداخلت کی مثال دیتے ہوئے کل بھوشن یادیو کا ذکر کیا کہ وہ پاکستان کے حالات خراب کر رہا تھا جسے پاکستانی سیکورٹی فورسز نے حراست میں لیا ۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور برہان وانی شہید کا ذکر کر کے کشمیریوں کے دل جیت لئے ہیں، انہوں نے دنیا کے سامنے مقبوضہ کشمیر پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق آزادی دیا جائے۔بھارت نے انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہوئے 1990ء سے اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا اور لاکھوں بے گناہ افراد کو زخمی کیاجبکہ حال ہی میں کشمیری نوجوان لیڈر برہان وانی کو بھی شہید کیا گیا جس نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ اب بھارتی ظلم و ستم سے ان کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا بلکہ اس طرح ان کی آزادی کی تحریک میں مزید تیزی آئے گی۔پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں کشمیری بھائیوں کے لئے ایسی آواز بلند کی گئی ہے۔

جس کی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم کی تقریر کا زیادہ حصہ مقبوضہ کشمیر پر مبنی تھا جو کہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا واضح پیغام ہے، بھارت ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود امریکا کی جانب سے بھارتی جارحیت کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا گیا اور نہ ہی مذمت کی گئی جس کی وجہ ان دونوں ممالک کے درمیان 100بلین ڈالر سے زائد اقتصادی اور سٹرٹیجک معاہدے ہیں۔ اڑی میں بھارتی ملٹری ہیڈکواٹر پر حملے کے بعد ایک دفعہ پھر بھارت نے حسب روایت اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹہرایا لیکن اس بار بھی بھارت پاکستان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا اور دنیا کے سامنے شرمندہ ہوا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ دونوں ممالک کے حق میں نہیں ہے۔

اگر جنگ ہوئی تو اس کے برے اثرات بھارت پر پڑیں گے کیونکہ پاکستان دفاعی طور پر ہندوستان سے مضبوط ہو چکا ہے۔پاکستان کے پاس اب ڈرون ٹیکنالوجی، ایئرکرافٹس گرانے اور انہیں روکنے کی صلاحیت بھی موجود ہے لہٰذا اگر بھارت نے ایسی کوئی حرکت کی تو اسے منہ کی کھانا پڑے گی اور اسے سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔پاکستان اور بھارت کشیدگی کو ختم کریں اور اس کا واحد حل پرامن مذاکرات ہیں۔بھارت کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے اور کشمیریوں کو ان کے حقوق دیے جائیں۔ مقبوضہ کشمیر کا حل سوائے بات چیت کے کچھ نہیں ہے، دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں، اگر ان کے درمیان جنگ ہوئی تو یہ پورے خطے کے لئے خطرناک ثابت ہو گی۔

 

مقبول خبریں