سی پیک پر چینی سفارت خانہ کا رد عمل

سی پیک منصوبے کے خارجی دشمنوں، بد خواہوں اور مخالفین سے زیادہ سرگرمی داخلی سیاسی حلقوں سے ابھاری جا رہی ہے

فوٹو: فائل

چین نے اقتصادی راہداری میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو نظرانداز کرنے اور اسے چین پنجاب کوریڈور کا نام دیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن ژاؤ لی جیان نے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے منصوبے کو چین پنجاب کوریڈور کا نام دیکر احتجاج کرنے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے منصوبے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

یہ المیہ ہے کہ سی پیک منصوبے کے خارجی دشمنوں، بد خواہوں اور مخالفین سے زیادہ سرگرمی داخلی سیاسی حلقوں سے ابھاری جا رہی ہے اور اس مشق سخن میں اس بات کا ادراک بھی نہیں کیا جا رہا کہ اس بحث اور اعتراضات کا پاک چین تعلقات پر کتنا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔


سی پیک ممکنہ اضافی اخراجات کے حوالہ سے ملکی میڈیا کے ایک حصہ میں غیر مصدقہ اور اضطراب انگیز رپورٹوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو اگرچہ مختلف سیاسی حلقوں کی کم حصہ ملنے کی بے بنیاد برہمی اور روٹ کی مبینہ تبدیلی یا انفراسٹرکچر کی ترجیحات سے متعلق شکایات پر مبنی ہے تاہم ملکی ترقی کے اس اہم اور گیم چینجر منصوبہ کو حکومت سے مختلف سیاسی اختلافات کے باعث متنازع بنانا کسی طور بھی قومی انداز فکر نہیں ہے جب کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر احسن اقبال سی پیک کے مغربی روٹ سمیت دیگر اعتراضات کا تسلی بخش انداز میں جواب دے چکے ہیں۔

چینی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ سی پیک پورے پاکستان کے لیے ہے اور اس سے مغربی حصوں کے لوگوں سمیت تمام پاکستانی عوام کو فوائد حاصل ہوں گے۔ اس کے بعد تو سی پیک کی قومی اہمیت بحث کی نذر نہیں ہونی چاہیے۔

 
Load Next Story