دنیا کی نایاب ترین وہیل کی پاکستانی سمندر میں آمد
ہمپ بیک وہیل کی دنیا میں تعداد صرف 82 ہے ، ڈبلیو ڈبلیو ایف
2012 میں بھی ہم پیک وہیل نسل کی 6 وہیل مچھلیاں پاکستان کی سمندری حدود میں دیکھی جا چکی ہیں : فوٹو : فائل
پاکستانی سمندری حدود میں چن کریک کے قریب دنیا کی نایاب ترین نسل کی 5 وہیل دیکھی گئی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق دنیا میں انتہائی کم رہ جانے والی ''ہمپ بیک وہیل'' پاکستان کی سمندری میں دیکھی گئی ہیں۔ 16 میٹر لمبی اور تقریباً 30,000 کلوگرام (30 ٹن) وزنی 5 عدد وہیل، کراچی سے 57 کلومیٹر دور چن کریک کے مقام پر ایک مقامی ماہی گیر جان بادشاہ نے سمندر میں گشت کرتے ہوئے دیکھیں اور اس منظر کو اپنے موبائل فون کے کیمرے کی آنکھ سے عکس بند کرلیا۔
پاکستان میں ورلڈ وائف فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ٹیکنیکل ایڈوائزر میرین فشریز، محمد معظم خان نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس نسل کی وہیل کا دیکھا جانا خوش آئند ہے کیوں کہ ہمپ بیک قسم کی وہیل عام طورپر گہرے سمندر کے زیادہ گہرائی والے علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ 2012 میں بھی اسی نسل کی 6 وہیل کو دیکھا گیا تھا؛ اور اس وقت دنیا میں ہمپ بیک وہیل کی تعداد صرف 82 رہ گئی ہے۔
وہیل کو عام طور پر ''مچھلی'' لکھ دیا جاتا ہے جو غلط ہے کیونکہ وہیل کا شمار دودھ پلانے والے جانوروں (ممالیہ) میں ہوتا ہے جبکہ وہیل کے ارتقائی آبا و اجداد آج سے کروڑوں سال پہلے خشکی پر اُن علاقوں میں رہا کرتے تھے جو آج پاکستان کا حصہ ہیں۔
یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ آج سے کروڑوں سال پہلے، خشکی پر رہنے والے، وہیل کے یہ آبا و اجداد اپنی جسامت اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے کتوں/ بھیڑیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔
وہیل کے ارتقاء کی اہم ترین کڑیاں پاکستان ہی سے دریافت ہوئی ہیں جن میں ''پاکی سیٹس'' اور ''رہوڈو سیٹس'' بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق دنیا میں انتہائی کم رہ جانے والی ''ہمپ بیک وہیل'' پاکستان کی سمندری میں دیکھی گئی ہیں۔ 16 میٹر لمبی اور تقریباً 30,000 کلوگرام (30 ٹن) وزنی 5 عدد وہیل، کراچی سے 57 کلومیٹر دور چن کریک کے مقام پر ایک مقامی ماہی گیر جان بادشاہ نے سمندر میں گشت کرتے ہوئے دیکھیں اور اس منظر کو اپنے موبائل فون کے کیمرے کی آنکھ سے عکس بند کرلیا۔
پاکستان میں ورلڈ وائف فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ٹیکنیکل ایڈوائزر میرین فشریز، محمد معظم خان نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس نسل کی وہیل کا دیکھا جانا خوش آئند ہے کیوں کہ ہمپ بیک قسم کی وہیل عام طورپر گہرے سمندر کے زیادہ گہرائی والے علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ 2012 میں بھی اسی نسل کی 6 وہیل کو دیکھا گیا تھا؛ اور اس وقت دنیا میں ہمپ بیک وہیل کی تعداد صرف 82 رہ گئی ہے۔
وہیل کو عام طور پر ''مچھلی'' لکھ دیا جاتا ہے جو غلط ہے کیونکہ وہیل کا شمار دودھ پلانے والے جانوروں (ممالیہ) میں ہوتا ہے جبکہ وہیل کے ارتقائی آبا و اجداد آج سے کروڑوں سال پہلے خشکی پر اُن علاقوں میں رہا کرتے تھے جو آج پاکستان کا حصہ ہیں۔
یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ آج سے کروڑوں سال پہلے، خشکی پر رہنے والے، وہیل کے یہ آبا و اجداد اپنی جسامت اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے کتوں/ بھیڑیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔
وہیل کے ارتقاء کی اہم ترین کڑیاں پاکستان ہی سے دریافت ہوئی ہیں جن میں ''پاکی سیٹس'' اور ''رہوڈو سیٹس'' بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔