قانون سازی کیلئے سفارشات ٹرانسپورٹ سے متعلق اداروں کی کمیٹی بنانے کا حکم

مشترکہ مکینزم نہ ہونے سے غیر معیاری گاڑیوں کیخلاف کارروائی میں دشواری ہوتی ہے،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل۔

متعلقہ محکموں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ مطلوبہ قانون سازی اور ترامیم کے لیے اقدامات کیے جا سکیں، عدالت،سیکریٹری ٹرانسپورٹ کونوٹس جاری۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ٹرانسپورٹ مسائل کے مشترکہ میکنزم کیلیے سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ ٹریفک سے متعلقہ محکموں کو یکجا کرنے، پبلک ٹرانسپورٹ کی فٹنس کی مدت مقرر کرنے، پرائیویٹ گاڑیوں کی فٹنس کی قانون سازی کیلیے متعلقہ محکموں کے سربراہوں پرمشتمل کمیٹی تشکیل دیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ،لائسنس،ایکسائز اورمحکمہ ٹریفک کے سربراہوں پر مشتمل کمیٹی جلد از جلدرولز میں مطلوبہ تبدیلی اور مشترک مکینزم تیار کرنے کیلیے حکومت کو سفارشات پیش کرے تاکہ قانون سازی کی جاسکے، پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل سے متعلق درخواست کی، سماعت کے موقع پرموٹر وہیکلز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پیش ہونے والے انسپکٹر جمیل نے رپورٹ میں بتایا کہ رواں برس 14دسمبرتک 63 ہزار 772 گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 6998 گاڑیوں کوفٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیے گئے، فاضل بینچ نے استفسار کیا کہ یہ بتایا جائے کہ مذکورہ گاڑیاں اب بھی سڑکوں پر ہیں یا نہیں۔

ٹریفک پولیس کی جانب سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں برس 14 دسمبرتک1758بسوں کا معائنہ کیا گیا جن میں 1306کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا،4372منی بسوں میں سے 3514اور1684کوچزمیں سے1308کو فٹ قرار دیا گیا، رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹریفک پولیس کے پاس نجی گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے کا اختیار نہیں، اس حوالے سے موٹروہیکل آرڈیننس 1965کیے، سیکشن39 میں ترمیم کی ضرورت ہے، ٹریفک پولیس کی جانب سے سفارش کی گئی کہ پرانی گاڑیوں کو روٹ پرمٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کی جا ئے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی فٹنس کی مدت مقرر کی جائے، عدالت نے آبزروکیاکہ صوبہ کے پی کے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی فٹنس کی مدت9سال ہے، صوبہ سندھ میں بھی گاڑیوں کی فٹنس کی مدت کا تعین ضروری ہے۔




ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میران محمد شاہ نے بتایا کہ ٹریفک ،لائسنس ،ایکسائز اور ٹرانسپورٹ جیسے محکمے علیحدہ علیحدہ کام کرتے ہیں اور ان کا کوئی مشترکہ مکینزم نہیں جس کے باعث غیر معیاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی میں دشواری پیش آتی ہے، ضرورت اس مر کی ہے کہ ان محکموں کو یکجا کیا جائے اور ون ونڈو آپریشن جیسی سہولت فراہم کی جائے،عدالت نے سیکریٹری ٹرانسپورٹ کونوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متعلقہ محکموں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ مطلوبہ قانون سازی اور ترامیم کیلیے اقدامات کیے جاسکیں.

واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی نے محمد رمضان خان کے خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کردیا تھا،خط میں کہا گیا ہے کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی خستہ حالی کے باعث ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں سے ماحولیاتی آلودگی اور امراض بالخصوص دمہ میں اضافہ ہورہا ہے۔
Load Next Story