بلاول کی پرانی شراب نئی بوتل میں
خدا خدا کر کے بلاول لاہور پہنچ گئے ہیں۔
msuherwardy@gmail.com
خدا خدا کر کے بلاول لاہور پہنچ گئے ہیں۔ داتا کی نگری پہنچنے کے بعد انھوں نے داتا صاحب کے مزار پر حاضری بھی دے دی ہے۔ وہ پنجاب کی نئی قیادت کو بھی سامنے لے آئے ہیں۔ اس پر تو بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ پرانی شراب کو نئی بوتل اور پیکنگ میں پیش کر دیا گیا ہے ۔ نہ تو قمر الزماں کائرہ کوئی نیا نام ہے اور نہ ہی ندیم افضل چن کوئی نیا نام ہے۔ یہ لوگ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں ذمے دار رہے ہیں اس لیے شاید یہ کارکنوں کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔ اگر بلاول یہ سمجھتے ہیں کہ کارکن ناراض ہیں تو انھیں منانے کے لیے ایسے لوگوں کو سامنے لانا ہو گا جو ذرہ برابر بھی اس ناراضگی کے ذمے دار نہ ہوں۔
بلاول کو شاید یہ علم ہے اور اگر نہیں ہے تو علم ہونا چاہیے کہ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں بحال کیے بغیر پیپلزپارٹی کی وفاق کی جماعت کی حقیقت بحال نہیں ہو سکتی۔ اس وقت پیپلزپارٹی وفاق سے ایک صوبائی جماعت بن رہی ہے۔ اس ضمن میں بھی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو سندھ میں بھی پیپلزپارٹی آہستہ آہستہ چند ضلعوں تک محدود رہ جائے گی۔ اس لیے پنجاب میں بحالی بلاول کے سیاسی مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
پیپلزپارٹی پنجاب کے حوالہ سے ایک ہی رونا رو رہی ہے کہ اس کا کارکن ناراض ہے۔ اس لیے اس کی پہلی ترجیح ناراض کارکن کو منانا ہے۔ لیکن ابھی تک اس کارکن کو منانے کے لیے بلاول اور بلاول کی پیپلزپارٹی کے پاس کوئی پلان بھی نہیں ہے۔ یہ کارکن جن کی وجہ سے ناراض ہے انھیں ہی ان کو منانے کی ذمے داری کارکنوں کو مزید ناراض کرنے کی وجہ بھی ہو سکتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پیپلزپارٹی کا کارکن قمر الزماں کائرہ یا ندیم افضل چن سے کوئی ذاتی طور پر ناراض ہے بلکہ صورتحال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کا کارکن گزشتہ دور حکومت سے ناراض ہے کہ اس میں اس کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا۔ اور جو لوگ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں فرنٹ لائن پلیئر رہے ہیں وہ شاید ناراض کارکن کو منانے کے لیے مناسب چوائس نہ ہوں۔
ویسے تو پیپلزپارٹی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا پرانا کارکن جس نے بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کام کیا ہے وہ اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ وہ اپنی سیاسی اننگ مکمل کر چکا ہے۔ شاید وہ اپنے گھر میں ہی اپنا سیاسی مقدمہ ہار چکا ہے۔ اس بوڑھے کارکن کو منانا اپنی جگہ لیکن وہ پارٹی میں نئی روح پھونکنے کے قابل نہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ یہ اس بوڑھے کارکن کے اپنے بچے بھی اب پیپلزپارٹی کے ساتھ نہیں ہیں۔ پارٹی کی جانب سے مسلسل نظر اندازکیے جانے کی وجہ سے اس کے گھر میں پیپلزپارٹی سے بیزاری عام ہے۔ جس کو دور کرنا شاید پیپلزپارٹی کی نئی قیادت کے لیے ممکن نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی کا یہ ناراض کارکن جہاں بوڑھا ہو چکا ہے وہاں یہ اب اپنی نئی قیادت کے نئے وعدوں پر اعتبار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس نے اپنے مقابلے میں ن لیگ کے سیاسی کارکن کو ہر طرح سے پھلتے پھولتے دیکھا ہے۔ اس نے اپنے حریفوں کے دن پھرتے اور اپنے دن روز بروز مشکل سے مشکل ہوتے دیکھے ہیں۔ اس نے دیکھا ہے کہ اس کے حریف کارکن کے گھر ان کی جماعت نے کسی نہ کسی شکل میں کم یا زیادہ کی بحث الگ اقتدار کے ثمرات پہنچائے ہیں ۔ لیکن پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت ایسا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ سندھ میں بلاول کے انکل ابھی تک اچھے نتائج دے رہے ہیں۔لیکن پنجاب کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں انکل نتائج نہیں دے سکتے۔ پنجاب میں بلاول کو ایک بڑا جوا کھیلنا ہو گا۔ آپریشن کلین اپ کرنا ہو گا۔سب انکلز سے جان چھڑانی ہو گی۔ نئی قیات سامنے لانی ہو گی جس کا ان انکلز سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ان انکلز کی اگلی نسل بھی پیپلزپارٹی کی پنجاب میں بحالی میں کوئی کردار نہیں ادا کر سکتی۔
ماضی میں پیپلزپارٹی پنجاب میں ان کو آگے لائی ہے جن کی میاں نواز شریف سے دشمنی ہو۔ سلمان تاثیر کو بھی گورنراور میاں منظور وٹو کو پنجاب کا صدر اس لیے بنایا گیا کہ ان کی میاں نواز شریف سے مخالفت پرانی تھی حالانکہ اس وقت جہانگیر بدر کو گورنر بنانے کی آپشن موجود تھی۔ لیکن یہ کہا گیا کہ جہانگیر بدر میاں نواز شریف کی مخالفت میں اس حد تک نہیں جا سکتے جہاں تک سلمان تاثیر جہاں سکتے ہیں۔ اسی طرح میاں منظور وٹو کی بھی میاں نواز شریف سے مخالفت کی وجہ سے انھیں پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر بنا دیا گیا حالانکہ ان کا نہ تو پیپلزپارٹی کے کارکن سے کوئی رابطہ اور تعلق تھا اور نہ ہی وہ ان کو اور ان کے کام کو جانتے تھے۔ میاں منظور وٹو کو اتنے لمبے عرصہ تک برقرار رکھ کر توپارٹی کے ساتھ خود ہی زیادتی کی گئی ہے۔
یہ بات بھی سمجھنا ہو گی کہ پیپلزپارٹی کے سیاسی کارکن کا پنجاب میں پیپلزپارٹی کی اقتدار سے دوری کی وجہ سے بہت سیاسی و معاشی استحصال ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے دور اقتدار میں کارکنوں کے لیے کوئی اسکیم نہ لاسکی ہے۔ انھیں نہ سیاسی طور پر کچھ ملا ہے اور نہ ہی اقتدار کے ثمرات ان تک پہنچ سکے ہیں جب کہ مقابلے میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے انکلز نے معاشی و سیاسی اعتبار سے دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہے۔ جس نے کارکن کے دل میں ان کے لیے نفرت پیدا کی ہے۔
مگر یہ تو سب کو پتہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بلاول اب کیا کرے۔ کیا وہ بوڑھے ناراض کارکن کے گھر گھر جائے جس کی اگلی نسل بھی اس کے ساتھ نہیں۔ نہیں تو وہ نئے کارکن کی تلاش میں کیا کرے۔ وہ پرانے کارکن میں نیا جذبہ کہاں سے پھونکے۔ تا ہم بلاول کو یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ مسئلہ صرف ناراض کارکن کا نہیں بلکہ ووٹ بینک کا بھی ہے۔ ڈوبتی کشتی میں کوئی نہیں چڑھتا۔ ووٹ بینک کی بحالی کے لیے بظاہر ٓاپریشن کلین اپ ضروری ہے۔ یوسف رضا گیلانی ،راجہ پرویز اشرف، اعتزاز احسن سمیت سب چلے ہوئے کارتوس ہیں۔
ان کا پارٹی کی بحالی میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا۔ نئے چہرے، نوجوان خون سامنے لانا ہو گا جس کا دور دور تک ان انکلز سے کوئی تعلق نہ ہو۔ بلاول کو اپنے جیسے پڑھے لکھے نوجوان سامنے لانا ہو ںگے۔ جن کا کسی بھی انکل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ وہ نیا خون ہوں۔ ایک شاندار مستقبل کی امید کے ساتھ۔اس کے ساتھ گندے ماضی کا کوئی ذکر نہ ہو۔ یہ پرانی شراب نئی بوتل میں نہیں بکے گی۔ شاید اب پیپلزپارٹی کے کارکن نے اتنے دھوکے کھا لیے ہیں کہ اب اسے مزید دھوکا دینا ممکن نہیں۔پنجاب میں پیپلزپارٹی کی بحالی بلاول کا سب سے مشکل ٹاسک ہے۔ یہ سندھ میں وزیر اعلیٰ بدلنے سے مشکل ہے۔ اس لیے چند دن کا دورہ لاہور اس کے لیے کافی نہیں۔
بلاول کو شاید یہ علم ہے اور اگر نہیں ہے تو علم ہونا چاہیے کہ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں بحال کیے بغیر پیپلزپارٹی کی وفاق کی جماعت کی حقیقت بحال نہیں ہو سکتی۔ اس وقت پیپلزپارٹی وفاق سے ایک صوبائی جماعت بن رہی ہے۔ اس ضمن میں بھی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو سندھ میں بھی پیپلزپارٹی آہستہ آہستہ چند ضلعوں تک محدود رہ جائے گی۔ اس لیے پنجاب میں بحالی بلاول کے سیاسی مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
پیپلزپارٹی پنجاب کے حوالہ سے ایک ہی رونا رو رہی ہے کہ اس کا کارکن ناراض ہے۔ اس لیے اس کی پہلی ترجیح ناراض کارکن کو منانا ہے۔ لیکن ابھی تک اس کارکن کو منانے کے لیے بلاول اور بلاول کی پیپلزپارٹی کے پاس کوئی پلان بھی نہیں ہے۔ یہ کارکن جن کی وجہ سے ناراض ہے انھیں ہی ان کو منانے کی ذمے داری کارکنوں کو مزید ناراض کرنے کی وجہ بھی ہو سکتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پیپلزپارٹی کا کارکن قمر الزماں کائرہ یا ندیم افضل چن سے کوئی ذاتی طور پر ناراض ہے بلکہ صورتحال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کا کارکن گزشتہ دور حکومت سے ناراض ہے کہ اس میں اس کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا۔ اور جو لوگ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں فرنٹ لائن پلیئر رہے ہیں وہ شاید ناراض کارکن کو منانے کے لیے مناسب چوائس نہ ہوں۔
ویسے تو پیپلزپارٹی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا پرانا کارکن جس نے بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کام کیا ہے وہ اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ وہ اپنی سیاسی اننگ مکمل کر چکا ہے۔ شاید وہ اپنے گھر میں ہی اپنا سیاسی مقدمہ ہار چکا ہے۔ اس بوڑھے کارکن کو منانا اپنی جگہ لیکن وہ پارٹی میں نئی روح پھونکنے کے قابل نہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ یہ اس بوڑھے کارکن کے اپنے بچے بھی اب پیپلزپارٹی کے ساتھ نہیں ہیں۔ پارٹی کی جانب سے مسلسل نظر اندازکیے جانے کی وجہ سے اس کے گھر میں پیپلزپارٹی سے بیزاری عام ہے۔ جس کو دور کرنا شاید پیپلزپارٹی کی نئی قیادت کے لیے ممکن نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی کا یہ ناراض کارکن جہاں بوڑھا ہو چکا ہے وہاں یہ اب اپنی نئی قیادت کے نئے وعدوں پر اعتبار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس نے اپنے مقابلے میں ن لیگ کے سیاسی کارکن کو ہر طرح سے پھلتے پھولتے دیکھا ہے۔ اس نے اپنے حریفوں کے دن پھرتے اور اپنے دن روز بروز مشکل سے مشکل ہوتے دیکھے ہیں۔ اس نے دیکھا ہے کہ اس کے حریف کارکن کے گھر ان کی جماعت نے کسی نہ کسی شکل میں کم یا زیادہ کی بحث الگ اقتدار کے ثمرات پہنچائے ہیں ۔ لیکن پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت ایسا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
یہ درست ہے کہ سندھ میں بلاول کے انکل ابھی تک اچھے نتائج دے رہے ہیں۔لیکن پنجاب کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں انکل نتائج نہیں دے سکتے۔ پنجاب میں بلاول کو ایک بڑا جوا کھیلنا ہو گا۔ آپریشن کلین اپ کرنا ہو گا۔سب انکلز سے جان چھڑانی ہو گی۔ نئی قیات سامنے لانی ہو گی جس کا ان انکلز سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ان انکلز کی اگلی نسل بھی پیپلزپارٹی کی پنجاب میں بحالی میں کوئی کردار نہیں ادا کر سکتی۔
ماضی میں پیپلزپارٹی پنجاب میں ان کو آگے لائی ہے جن کی میاں نواز شریف سے دشمنی ہو۔ سلمان تاثیر کو بھی گورنراور میاں منظور وٹو کو پنجاب کا صدر اس لیے بنایا گیا کہ ان کی میاں نواز شریف سے مخالفت پرانی تھی حالانکہ اس وقت جہانگیر بدر کو گورنر بنانے کی آپشن موجود تھی۔ لیکن یہ کہا گیا کہ جہانگیر بدر میاں نواز شریف کی مخالفت میں اس حد تک نہیں جا سکتے جہاں تک سلمان تاثیر جہاں سکتے ہیں۔ اسی طرح میاں منظور وٹو کی بھی میاں نواز شریف سے مخالفت کی وجہ سے انھیں پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر بنا دیا گیا حالانکہ ان کا نہ تو پیپلزپارٹی کے کارکن سے کوئی رابطہ اور تعلق تھا اور نہ ہی وہ ان کو اور ان کے کام کو جانتے تھے۔ میاں منظور وٹو کو اتنے لمبے عرصہ تک برقرار رکھ کر توپارٹی کے ساتھ خود ہی زیادتی کی گئی ہے۔
یہ بات بھی سمجھنا ہو گی کہ پیپلزپارٹی کے سیاسی کارکن کا پنجاب میں پیپلزپارٹی کی اقتدار سے دوری کی وجہ سے بہت سیاسی و معاشی استحصال ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے دور اقتدار میں کارکنوں کے لیے کوئی اسکیم نہ لاسکی ہے۔ انھیں نہ سیاسی طور پر کچھ ملا ہے اور نہ ہی اقتدار کے ثمرات ان تک پہنچ سکے ہیں جب کہ مقابلے میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے انکلز نے معاشی و سیاسی اعتبار سے دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہے۔ جس نے کارکن کے دل میں ان کے لیے نفرت پیدا کی ہے۔
مگر یہ تو سب کو پتہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بلاول اب کیا کرے۔ کیا وہ بوڑھے ناراض کارکن کے گھر گھر جائے جس کی اگلی نسل بھی اس کے ساتھ نہیں۔ نہیں تو وہ نئے کارکن کی تلاش میں کیا کرے۔ وہ پرانے کارکن میں نیا جذبہ کہاں سے پھونکے۔ تا ہم بلاول کو یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ مسئلہ صرف ناراض کارکن کا نہیں بلکہ ووٹ بینک کا بھی ہے۔ ڈوبتی کشتی میں کوئی نہیں چڑھتا۔ ووٹ بینک کی بحالی کے لیے بظاہر ٓاپریشن کلین اپ ضروری ہے۔ یوسف رضا گیلانی ،راجہ پرویز اشرف، اعتزاز احسن سمیت سب چلے ہوئے کارتوس ہیں۔
ان کا پارٹی کی بحالی میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا۔ نئے چہرے، نوجوان خون سامنے لانا ہو گا جس کا دور دور تک ان انکلز سے کوئی تعلق نہ ہو۔ بلاول کو اپنے جیسے پڑھے لکھے نوجوان سامنے لانا ہو ںگے۔ جن کا کسی بھی انکل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ وہ نیا خون ہوں۔ ایک شاندار مستقبل کی امید کے ساتھ۔اس کے ساتھ گندے ماضی کا کوئی ذکر نہ ہو۔ یہ پرانی شراب نئی بوتل میں نہیں بکے گی۔ شاید اب پیپلزپارٹی کے کارکن نے اتنے دھوکے کھا لیے ہیں کہ اب اسے مزید دھوکا دینا ممکن نہیں۔پنجاب میں پیپلزپارٹی کی بحالی بلاول کا سب سے مشکل ٹاسک ہے۔ یہ سندھ میں وزیر اعلیٰ بدلنے سے مشکل ہے۔ اس لیے چند دن کا دورہ لاہور اس کے لیے کافی نہیں۔