پرائیویٹ میڈیکل کالج پنجاب کو دیگر صوبوں کی حمائت لینی چاہیے
پاکستان میں مختلف ادوار میں مختلف کاروبار عروج میں رہے
msuherwardy@gmail.com
پاکستان میں مختلف ادوار میں مختلف کاروبار عروج میں رہے۔ کبھی پرمٹ کا دور تھا۔ پھر قرضوں کا دور آیا۔افغان لڑائی ہمارے ملک میں کلاشنکوف اور منشیات کا دور بھی لائی۔ پھر پلاٹوں کا بھی دور آیا جب سرکاری پلاٹوں کی الاٹمنٹ نے بہت دھوم مچائی مال مفت دل بے رحم کی طرح سرکاری زمین کوڑیوں کے بھاؤ الاٹ کی گئی۔ لیکن یہ ماننا ہو گا کہ جس قدر تعلیم کی نجکاری سے مال بنایا گیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
نجی تعلیمی اداروں کا منافع کسی بھی کاروبار کو مات دیتا ہے۔ اور اس کاروبار کی ایک خوبصورتی بھی ہے کہ مال بھی بناؤ اور نیک نامی بھی کماؤ۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے نجی تعلیمی اداروں کی کامیابی میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی اور ان کی نا کامی بھی شامل ہے۔ تاہم یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جس طرح پورے ملک میں پلاٹوں کے ریٹ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں اسی طرح پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں کی شرح بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں۔
میں محترم رضا ربانی کا بہت احترام کرتا ہوں۔ اسی لیے صوبائی خودمختاری کے خلاف کوئی بات کرنے سے پہلے دس بار سوچتا ہوں۔ کیونکہ محترم رضا ربانی نے یہ سبق بہت پڑھایا ہے کہ صوبائی خود مختاری میں ہی ملک کی ترقی کا راز پنہاںہے۔ اسی صوبائی مختاری کے سنہرے اصولوں کے تحت تعلیم اور صحت کو بھی صوبوں کو دے دیا گیا۔ اس طرح اب صوبے تعلیم کے حوالہ سے اپنی اپنی پالیسی بنانے میں آزاد ہیں۔
اس صورتحال نے ملک میں کئی قسم کے نظام تعلیم اور معیار تعلیم کو جنم دے دیا ہے۔ جو چیز ایک صوبے میں حلال ہے وہ دوسرے صوبے میں حرام ہو گئی ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں نے مل کر ایسے کسی نظام کو بنانے پر بھی توجہ نہیں دی جہاں بڑے فیصلے مل کر کیے جا سکیں۔صوبوں میں اختیارات کی تقسیم نے بلا شبہ تعلیمی نظام میں ایسی بندر بانٹ پیدا کر دی ہے جس نے تعلیم کو کاروبار بنانے والوں کی چاندی کر دی ہے۔
آج کل حکومت پنجاب اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے درمیان میرٹ پر داخلوں کی فیسوں پر اضافہ کو سات فیصد تک محدود کرنے کے حوالہ سے ایک لڑائی جاری ہے لیکن یہ بات بھی افسوسناک ہے کہ اس لڑائی میں پنجاب ابھی تک تنہا ہے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب کی جانب سے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو میرٹ پر داخلہ پر مجبور کیا جا رہا ہے اور پرائیویٹ میڈیکل کالج یہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ باقی صوبوں میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز پر ایسی کوئی قدغن نہیں۔ وہ نالائق بچے کو بھی پیسوں کے عوض داخل کرتے ہیں اور غریب کے لائق سے لائق بچے کو بھی انکار کر دیتے ہیں۔
یہ واقعہ کوئی افسانہ نہیں کہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں جب پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے مالکان کو میرٹ پر داخلہ کا کہا گیا تو ایک کالج کے مالک نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم نے کوئی خیراتی سینٹر نہیں کھول رکھے کہ ہر کسی کو داخلہ دے دیں۔ اس نے بڑے فخر سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں طالبعلم کو دیکھ کر نہیں اس کے باپ کی حیثیت اور دولت کو دیکھ کر داخلہ دیتا ہوں۔ پٹواری کے بیٹے کو فوری داخلہ دیتا ہوں اور استاد کا بیٹا کتنا بھی لائق ہو اسے داخلہ نہیں دیتا۔ کیونکہ بیچارہ استاد میرے کالج کی فیس کہاں سے دے گا پھر فیس معافی کی درخواست لے آئے گا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پرائیوٹ میڈیکل کالج کی سالانہ فیس دس لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس قدر فیس وصول کرنے کے لیے یہ کالج کم نمبر والوں کو بھی داخلہ دیتے ہیں تا کہ وہ ان کی مطلوبہ فیس آسانی سے اور خوشی سے دے سکیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ میرٹ کے برعکس پیسے کے بل بوتے پر ڈاکٹر بننے والے یہ افراد ہی اسپتالوں میں ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ مریضوں کی تذلیل کر رہے ہیں۔ انھوں نے اسپتالوں کو بھی سیاسی اکھاڑہ بنا دیا ہے۔ پیسے کے زور پر بننے والے یہ ڈاکٹر اس مقدس پیشے کے لیے بھی کسی عزت کا نہیں بلکہ تذلیل کا ہی باعث ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ کالج تھرڈ ڈویژن لینے والے پٹواریوں اور صنعتکاروں کے بچوں کو نالائق ڈاکٹر بنا رہے ہیں جو انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔
لیکن حکومت پنجاب یہ نہیں سمجھ رہی کہ وہ اکیلی پرائیویٹ میدیکل کالجز کے مافیا سے نہیں لڑ سکتی، اسے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی مدد کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں کہ حکومت پنجاب کمزور ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کام اکیلے نہیں ہو سکتا۔ اس لیے میری وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور پنجاب کے محکمہ صحت کے ذمے داران سے درخواست ہے کہ وہ دوسرے صوبوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب اگر ترک صدر کے دورہ لاہور کے موقع پر دوسرے صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو لاہور بلا سکتے ہیں تو ان میڈیکل کالجز کو نکیل ڈالنے کے لیے مراد علی شاہ پرویز خٹک اور ثناء اللہ زہری کو لاہور آنے کی دعوت کیوں نہیں دے سکتے۔اس نیک کام کے لیے انھیں سب کے پاس خود چلے جانا چاہیے۔ تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ کوخط لکھنا چاہیے تاکہ پورے ملک میں اس حوالہ سے ایک مربوط پالیسی بن سکے۔ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مساجد ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔
مراد علی شاہ کے کام کے اندازکو دیکھتے ہوئے مجھے قوی امید ہے کہ وہ بھی سندھ میں میرٹ کے نفاذ پر مان جائیں گے۔ ویسے تو بلاول بھٹو بھی آجکل لاہور کے دورہ پر ہیں اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے میاں شہباز شریف کو ان کے پاس جانا چاہیے اور تعاون کی درخواست کرنی چاہیے۔ اگر دیگر سیاسی معاملات پر پیپلزپارٹی سے تعاون مانگا جا سکتا ہے تو پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے معاملہ پر تعاون مانگنے میں کیا حرج ہے۔
یہ درست ہے کہ ڈاکٹر عاصم نے اپنے دور میں پرائیوٹ میڈیکل کالجز کے چارٹر مال مفت دل بے رحم کی طرح بانٹے ہیں۔ لیکن اب اس کو رونے کا وقت گزر گیا ہے۔ ملک بھر میں مال مفت دل بے رحم کی طرح بانٹے گئے یہ میڈیکل کالج اب ایک حقیقت ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے مضبوط ریگولیٹری نظام سے ان کا معیار تعلیم اور فیسوں کی شرح کو کنٹرول کرے۔
شائد ان کو بند کرنا تو ممکن نہیں لیکن ان کو ٹھیک کرنے سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ لیکن کوئی بھی صوبہ یہ کام اکیلے نہیں کر سکتا اس کے لیے چاروں صوبوں کو مل کر بیٹھ کر یک جان ہو کر سیاسی اختلافات کو بھلا کر قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا۔ اگر پنجاب نے ہر کام میں پہل کی ہے تو اسے اب دوسرے صوبوں کو بھی ساتھ ملانا ہو گا۔ یہ کوئی اورنج لائن یا میٹرو نہیں جو صرف پنجاب میں بنانے سے گزارا ہو جائے گا۔ یہ کام سب صوبوں کو مل کر کرنا ہو گا۔ تب ہی یہ کام ہو سکے گا۔ جو قدم حکومت پنجاب نے بڑھا لیا ہے اس میں نا کامی عوام کی ناکامی ہو گی۔اس لیے عوامی حمائت اور دیگر صوبوں کی حمائت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نجی تعلیمی اداروں کا منافع کسی بھی کاروبار کو مات دیتا ہے۔ اور اس کاروبار کی ایک خوبصورتی بھی ہے کہ مال بھی بناؤ اور نیک نامی بھی کماؤ۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے نجی تعلیمی اداروں کی کامیابی میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی اور ان کی نا کامی بھی شامل ہے۔ تاہم یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جس طرح پورے ملک میں پلاٹوں کے ریٹ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں اسی طرح پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں کی شرح بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں۔
میں محترم رضا ربانی کا بہت احترام کرتا ہوں۔ اسی لیے صوبائی خودمختاری کے خلاف کوئی بات کرنے سے پہلے دس بار سوچتا ہوں۔ کیونکہ محترم رضا ربانی نے یہ سبق بہت پڑھایا ہے کہ صوبائی خود مختاری میں ہی ملک کی ترقی کا راز پنہاںہے۔ اسی صوبائی مختاری کے سنہرے اصولوں کے تحت تعلیم اور صحت کو بھی صوبوں کو دے دیا گیا۔ اس طرح اب صوبے تعلیم کے حوالہ سے اپنی اپنی پالیسی بنانے میں آزاد ہیں۔
اس صورتحال نے ملک میں کئی قسم کے نظام تعلیم اور معیار تعلیم کو جنم دے دیا ہے۔ جو چیز ایک صوبے میں حلال ہے وہ دوسرے صوبے میں حرام ہو گئی ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں نے مل کر ایسے کسی نظام کو بنانے پر بھی توجہ نہیں دی جہاں بڑے فیصلے مل کر کیے جا سکیں۔صوبوں میں اختیارات کی تقسیم نے بلا شبہ تعلیمی نظام میں ایسی بندر بانٹ پیدا کر دی ہے جس نے تعلیم کو کاروبار بنانے والوں کی چاندی کر دی ہے۔
آج کل حکومت پنجاب اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے درمیان میرٹ پر داخلوں کی فیسوں پر اضافہ کو سات فیصد تک محدود کرنے کے حوالہ سے ایک لڑائی جاری ہے لیکن یہ بات بھی افسوسناک ہے کہ اس لڑائی میں پنجاب ابھی تک تنہا ہے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب کی جانب سے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو میرٹ پر داخلہ پر مجبور کیا جا رہا ہے اور پرائیویٹ میڈیکل کالج یہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ باقی صوبوں میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز پر ایسی کوئی قدغن نہیں۔ وہ نالائق بچے کو بھی پیسوں کے عوض داخل کرتے ہیں اور غریب کے لائق سے لائق بچے کو بھی انکار کر دیتے ہیں۔
یہ واقعہ کوئی افسانہ نہیں کہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں جب پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے مالکان کو میرٹ پر داخلہ کا کہا گیا تو ایک کالج کے مالک نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم نے کوئی خیراتی سینٹر نہیں کھول رکھے کہ ہر کسی کو داخلہ دے دیں۔ اس نے بڑے فخر سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں طالبعلم کو دیکھ کر نہیں اس کے باپ کی حیثیت اور دولت کو دیکھ کر داخلہ دیتا ہوں۔ پٹواری کے بیٹے کو فوری داخلہ دیتا ہوں اور استاد کا بیٹا کتنا بھی لائق ہو اسے داخلہ نہیں دیتا۔ کیونکہ بیچارہ استاد میرے کالج کی فیس کہاں سے دے گا پھر فیس معافی کی درخواست لے آئے گا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پرائیوٹ میڈیکل کالج کی سالانہ فیس دس لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس قدر فیس وصول کرنے کے لیے یہ کالج کم نمبر والوں کو بھی داخلہ دیتے ہیں تا کہ وہ ان کی مطلوبہ فیس آسانی سے اور خوشی سے دے سکیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ میرٹ کے برعکس پیسے کے بل بوتے پر ڈاکٹر بننے والے یہ افراد ہی اسپتالوں میں ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ مریضوں کی تذلیل کر رہے ہیں۔ انھوں نے اسپتالوں کو بھی سیاسی اکھاڑہ بنا دیا ہے۔ پیسے کے زور پر بننے والے یہ ڈاکٹر اس مقدس پیشے کے لیے بھی کسی عزت کا نہیں بلکہ تذلیل کا ہی باعث ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ کالج تھرڈ ڈویژن لینے والے پٹواریوں اور صنعتکاروں کے بچوں کو نالائق ڈاکٹر بنا رہے ہیں جو انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔
لیکن حکومت پنجاب یہ نہیں سمجھ رہی کہ وہ اکیلی پرائیویٹ میدیکل کالجز کے مافیا سے نہیں لڑ سکتی، اسے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی مدد کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں کہ حکومت پنجاب کمزور ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کام اکیلے نہیں ہو سکتا۔ اس لیے میری وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور پنجاب کے محکمہ صحت کے ذمے داران سے درخواست ہے کہ وہ دوسرے صوبوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب اگر ترک صدر کے دورہ لاہور کے موقع پر دوسرے صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو لاہور بلا سکتے ہیں تو ان میڈیکل کالجز کو نکیل ڈالنے کے لیے مراد علی شاہ پرویز خٹک اور ثناء اللہ زہری کو لاہور آنے کی دعوت کیوں نہیں دے سکتے۔اس نیک کام کے لیے انھیں سب کے پاس خود چلے جانا چاہیے۔ تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ کوخط لکھنا چاہیے تاکہ پورے ملک میں اس حوالہ سے ایک مربوط پالیسی بن سکے۔ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مساجد ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔
مراد علی شاہ کے کام کے اندازکو دیکھتے ہوئے مجھے قوی امید ہے کہ وہ بھی سندھ میں میرٹ کے نفاذ پر مان جائیں گے۔ ویسے تو بلاول بھٹو بھی آجکل لاہور کے دورہ پر ہیں اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے میاں شہباز شریف کو ان کے پاس جانا چاہیے اور تعاون کی درخواست کرنی چاہیے۔ اگر دیگر سیاسی معاملات پر پیپلزپارٹی سے تعاون مانگا جا سکتا ہے تو پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے معاملہ پر تعاون مانگنے میں کیا حرج ہے۔
یہ درست ہے کہ ڈاکٹر عاصم نے اپنے دور میں پرائیوٹ میڈیکل کالجز کے چارٹر مال مفت دل بے رحم کی طرح بانٹے ہیں۔ لیکن اب اس کو رونے کا وقت گزر گیا ہے۔ ملک بھر میں مال مفت دل بے رحم کی طرح بانٹے گئے یہ میڈیکل کالج اب ایک حقیقت ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے مضبوط ریگولیٹری نظام سے ان کا معیار تعلیم اور فیسوں کی شرح کو کنٹرول کرے۔
شائد ان کو بند کرنا تو ممکن نہیں لیکن ان کو ٹھیک کرنے سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ لیکن کوئی بھی صوبہ یہ کام اکیلے نہیں کر سکتا اس کے لیے چاروں صوبوں کو مل کر بیٹھ کر یک جان ہو کر سیاسی اختلافات کو بھلا کر قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا۔ اگر پنجاب نے ہر کام میں پہل کی ہے تو اسے اب دوسرے صوبوں کو بھی ساتھ ملانا ہو گا۔ یہ کوئی اورنج لائن یا میٹرو نہیں جو صرف پنجاب میں بنانے سے گزارا ہو جائے گا۔ یہ کام سب صوبوں کو مل کر کرنا ہو گا۔ تب ہی یہ کام ہو سکے گا۔ جو قدم حکومت پنجاب نے بڑھا لیا ہے اس میں نا کامی عوام کی ناکامی ہو گی۔اس لیے عوامی حمائت اور دیگر صوبوں کی حمائت وقت کی اہم ضرورت ہے۔