بھارتی ریاست گجرات میں مودی کی جیت
ان انتخابات کی خاص بات نریندر مودی کی سربراہی میں گجرات سے بی جے پی کی پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے کامیاب ہونا ہے۔
ان انتخابات کی خاص بات نریندر مودی کی سربراہی میں گجرات سے بی جے پی کی پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے کامیاب ہونا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
بھارت کی دو ریاستوں گجرات اور ہماچل پردیش میں جمعرات کو ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں ایک ریاست میں بی جے پی جب کہ دوسری میں کانگریس کامیاب ہوئی ہے۔ شمالی بھارت کی پہاڑی ریاست ہماچل پردیش میں حکمران کانگریس نے کامیابی حاصل کی جب کہ گجرات میں بی جے پی نے بھاری اکثریت سے انتخاب میں فتح حاصل کی۔
ان انتخابات کی خاص بات نریندر مودی کی سربراہی میں گجرات سے بی جے پی کی پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے کامیاب ہونا ہے۔ گجرات میں دس سال قبل گودھرا ایکسپریس میں آتشزدگی کے ردعمل میں وزیراعلیٰ نریندر مودی کی شہہ پر مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا، اسے خود بھارتی میڈیا نے بھی مسلمانوں کی نسل کُشی کا نام دیا تھا اور اسے دنیا بھر میں بھارت کی بدنامی کا موجب قرار دیا تھا۔ بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی مودی کی مذمت ہوئی کیونکہ مسلمانوں کے قتل عام میں ان کے ملوث ہونے کے شواہد عام ہو گئے تھے۔ ان کی اس بدنام شہرت کے باوجود انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست گجرات کے ووٹروں کی اکثریت کا میلان ہندو انتہا پسندی کی طرف ہے۔
حالانکہ گجرات وہ ریاست ہے جس سے برصغیر کی دو نہایت چوٹی کی شخصیات کا تعلق تھا۔ مہاتما گاندھی بھی گجراتی تھے جو برملا کہتے تھے کہ ہندو اور مسلمان ان کی دو آنکھوں کی مانند ہیں۔ دوسری طرف بانی پاکستان حضرت قائداعظم کا تعلق بھی اسی ریاست سے تھا جنھیں ایک دور میں ہندو مسلم دوستی کا سفیر کہا جاتا تھا۔ یوں دیکھا جائے تو ریاست گجرات میں انتہا پسندی کو فروغ بی جے پی نے دیا۔اخباری اطلاعات کے مطابق نریندر مودی نے پولنگ سے محض دو روز قبل سرکریک تنازعے کا حوالہ دے کر اینٹی پاکستان کارڈ استعمال کیا اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے نام اپنے ایک اہم مراسلے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ سرکریک کی سمندری پٹی کو ہر گز پاکستان کے حوالے نہ کیا جائے۔
نریندر مودی نے گجرات کے عوام میں پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دی۔ مودی نے اپنی انتخابی فتح کو ریاست کے لیے اپنے ترقیاتی کاموں کا نتیجہ قرار دیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کی کامیابی میں پاکستان مخالف جذبات نے اہم کردار ادا کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے پاکستان اور مسلمان مخالف جذبات کو ہوا دیتی ہیں۔ریاست گجرات کے بارے میں بھارتی میڈیا ہی یہ بتاتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کے علاقوں میں نہ پینے کا پانی ہے نہ سڑکیں ہیں اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ بی جے پی نریندر مودی کو وزیراعظم کے طور پر نامزد کرنا چاہتی ہے۔ آیندہ لوک سبھا کے الیکشن میں بی جے پی شمالی بھارت میںپاکستان مخالف کارڈ استعمال کرے گی۔ یہ صورتحال اس خطے کے لیے اچھی نہیں ہے۔
بھارت میں پاکستان کے حوالے سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں انتہا پسند طاقتور ہورہے ہیں، انھیں اس حقیقت کا علم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں بھارت کا ردعمل ہورہا ہے۔اگر بھارت میں انتہا پسندی کم ہوگی تو پاکستان میں خود بخود ختم ہوجائے گی۔نریندر مودی کی جیت برسراقتدار کانگریس اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔گو ہماچل پردیش میں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے اور وہاں کانگریس فتح یاب ہوئی ہے لیکن ہماچل ایک چھوٹی ریاست ہے اور ہندوستان کی سیاست کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اس کے مقابلے میں گجرات بڑی ریاست ہے، اسی طرح انتہا پسندی کی لہر راجستھان ، اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں پہنچ گئی تو پھر بی جے پی کو مرکزی حکومت بنانے سے روکنا مشکل ہوجائے گا۔
ان انتخابات کی خاص بات نریندر مودی کی سربراہی میں گجرات سے بی جے پی کی پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے کامیاب ہونا ہے۔ گجرات میں دس سال قبل گودھرا ایکسپریس میں آتشزدگی کے ردعمل میں وزیراعلیٰ نریندر مودی کی شہہ پر مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا، اسے خود بھارتی میڈیا نے بھی مسلمانوں کی نسل کُشی کا نام دیا تھا اور اسے دنیا بھر میں بھارت کی بدنامی کا موجب قرار دیا تھا۔ بھارت کے دیگر علاقوں میں بھی مودی کی مذمت ہوئی کیونکہ مسلمانوں کے قتل عام میں ان کے ملوث ہونے کے شواہد عام ہو گئے تھے۔ ان کی اس بدنام شہرت کے باوجود انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست گجرات کے ووٹروں کی اکثریت کا میلان ہندو انتہا پسندی کی طرف ہے۔
حالانکہ گجرات وہ ریاست ہے جس سے برصغیر کی دو نہایت چوٹی کی شخصیات کا تعلق تھا۔ مہاتما گاندھی بھی گجراتی تھے جو برملا کہتے تھے کہ ہندو اور مسلمان ان کی دو آنکھوں کی مانند ہیں۔ دوسری طرف بانی پاکستان حضرت قائداعظم کا تعلق بھی اسی ریاست سے تھا جنھیں ایک دور میں ہندو مسلم دوستی کا سفیر کہا جاتا تھا۔ یوں دیکھا جائے تو ریاست گجرات میں انتہا پسندی کو فروغ بی جے پی نے دیا۔اخباری اطلاعات کے مطابق نریندر مودی نے پولنگ سے محض دو روز قبل سرکریک تنازعے کا حوالہ دے کر اینٹی پاکستان کارڈ استعمال کیا اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے نام اپنے ایک اہم مراسلے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ سرکریک کی سمندری پٹی کو ہر گز پاکستان کے حوالے نہ کیا جائے۔
نریندر مودی نے گجرات کے عوام میں پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دی۔ مودی نے اپنی انتخابی فتح کو ریاست کے لیے اپنے ترقیاتی کاموں کا نتیجہ قرار دیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کی کامیابی میں پاکستان مخالف جذبات نے اہم کردار ادا کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے پاکستان اور مسلمان مخالف جذبات کو ہوا دیتی ہیں۔ریاست گجرات کے بارے میں بھارتی میڈیا ہی یہ بتاتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کے علاقوں میں نہ پینے کا پانی ہے نہ سڑکیں ہیں اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ بی جے پی نریندر مودی کو وزیراعظم کے طور پر نامزد کرنا چاہتی ہے۔ آیندہ لوک سبھا کے الیکشن میں بی جے پی شمالی بھارت میںپاکستان مخالف کارڈ استعمال کرے گی۔ یہ صورتحال اس خطے کے لیے اچھی نہیں ہے۔
بھارت میں پاکستان کے حوالے سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں انتہا پسند طاقتور ہورہے ہیں، انھیں اس حقیقت کا علم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں بھارت کا ردعمل ہورہا ہے۔اگر بھارت میں انتہا پسندی کم ہوگی تو پاکستان میں خود بخود ختم ہوجائے گی۔نریندر مودی کی جیت برسراقتدار کانگریس اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔گو ہماچل پردیش میں بی جے پی کو شکست ہوئی ہے اور وہاں کانگریس فتح یاب ہوئی ہے لیکن ہماچل ایک چھوٹی ریاست ہے اور ہندوستان کی سیاست کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اس کے مقابلے میں گجرات بڑی ریاست ہے، اسی طرح انتہا پسندی کی لہر راجستھان ، اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں پہنچ گئی تو پھر بی جے پی کو مرکزی حکومت بنانے سے روکنا مشکل ہوجائے گا۔