سیاست کے بغیر ریاست وضو کے بغیر نماز
جو کوئی الیکشن کے خلاف ان کے التواء کے لیے حربے استعمال کرتا ہے، اسے پاکستان کا خیر خواہ کہنا مشکل ہے۔
مشہور تو یہ ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ہونے والے ہیں کیونکہ اس ملک کا جو آئین ہے، اس کے مطابق پاکستان کی موجودہ منتخب حکومت اپنی میعاد پوری کرنے والی ہے اور کسی نئی حکومت کے لیے الیکشن ایک آئینی ضرورت ہے اور مجبوری بھی ہے چنانچہ ملک کی سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں اگرچہ اس سلسلے میں کچھ نئی سامنے آنے والی جماعتیں تنظیمیں یا گروہ پہلے سے موجود جماعتوں سے بڑھ کر جلسے کرنے والے ہیں جن کی تیاری پر حیرت انگیز حد تک سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے لیکن یہ الیکشن کے لیے نہیں پتہ نہیں کس کے لیے کیونکہ یہ سیاست نہیں کرنا چاہتے بلکہ سیاست کے بغیر ہی ریاست کو بچانا چاہتے ہیں یعنی وضو کے بغیر نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کی ریاست کو بچانے کے لیے ہمارے پاس ایک جری اور بہادر فوج بھی موجود ہے اور ایٹم بم بھی ہے علاوہ ازیں زندگی کا ابدی نظریہ بھی ہے اس لیے معلوم نہیں ریاست کو کس طرح اور کس اسلحہ سے بچایا جائے گا۔ بہر کیف عرض یہ ہے کہ اپنے اپنے انداز کے مطابق ہر کوئی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے جس ملک میں ایک انتہائی بے ضرر خدمت میں مصروف یعنی بچوں کو ایک مہلک بیماری سے بچانے کے لیے مصروف کارکن رضا کاروں کو قتل کر دیا جائے اس میں کیا الیکشن ہوں گے اور اس ملک کی کسی حکومت کو ایسی جرات کیسے ہو گی لیکن حالات جیسے تیسے بھی ہیں الیکشن کی تیاریاں جاری ہیں۔
اب غور فرمائیے کہ ہمارا ایک صوبہ خیبر پختونخوا ہے، وہ اپنے حال میں مست ہے اور اس سے انتخابی سرگرمیوں کی کوئی خبریں بھی نہیں آ رہیں۔ جیسے وہاں الیکشن ہوں گے یا نہیں ان کی بلا سے۔ صرف ایک اطلاع ملی ہے کہ اس صوبے کی حکمران جماعت اے این پی کسی دوسری پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کرے گی اور تن تنہا الیکشن لڑے گی۔ اس سے ملتا جلتا حال صوبہ بلوچستان کا ہے۔ اس کے بارے میں تو یہ تک کہا جا رہا ہے کہ اس کی کوئی حکومت ہی نہیں ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے لیکن بہر حال وہ بلحاظ رقبہ ہمارا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ایک مدت سے بیرونی طاقتوں کی نظروں میں ہے، اس صوبے میں عملاً عوام نہیں اونچے لوگ رہتے ہیں۔ آزادی سے پہلے بھی یہی کیفیت تھی اور اب بھی یہی ہے۔ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو اس صوبے میں بھی الیکشن کی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی یا ان کے بغیر ہی الیکشن ہو جائے گا۔
اب صوبہ سندھ پر نظر ڈالیے۔ وہاں متحدہ قومی موومنٹ ایک کامیاب جماعت ہے، اس کے ترجمان جناب ڈاکٹر فاروق ستار نے سپریم کورٹ کے ساتھ حالیہ چپقلش کے سلسلے میں حال ہی میں ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج یوم سقوط ڈھاکا کے موقع پر ہم ملک کی سلامتی اور استحکام کی بات کر رہے ہیں لیکن اگر سابقہ رویے برقرار رہے تو سقوط ڈھاکا جیسے مزید المیے بھی جنم لے سکتے ہیں لیکن اب چونکہ اس جماعت کی پالیسی اس ضمن میں بظاہر یوٹرن لے چکی ہے، اس لیے ایسی سخت اور دھمکی آمیز باتوں کو جانے دیں۔ سندھ کے الیکشن پر اس پارٹی کے اثرات بھی پڑیں گے اور پیپلز پارٹی تو ہے ہی۔
اب محترم جناب پیر صاحب پگاڑا بھی سیاست میں آ رہے ہیں اور انھوں نے ایک زبردست جلسہ بھی کیا ہے، ان کی سیاست پیپلز پارٹی کے خلاف ہے، اس لیے امکان ہے کہ اندرون سندھ ووٹ تقسیم ہو گا لیکن ابھی دیکھتے ہیں کہ پیر صاحب کس حد تک سرگرمی دکھاتے ہیں۔ صوبہ سندھ میں مذہبی اور دینی جماعتیں بھی موجود ہیں اور ان کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اس لیے فی الوقت سندھ کے بارے میں کون کیا کہہ سکتا ہے کہ کئی سیاسی عناصر کی موجودگی میں یہاں کی انتخابی سیاست کیا رنگ دکھائے گی۔
صوبوں کے علاوہ وفاقی حکومت کا قیام پنجاب میں کسی جماعت کی کامیابی پر منحصر ہے، بھٹو صاحب اور میاں صاحب کو وزیراعظم پنجاب نے بنایا تھا۔ قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد کے لحاظ سے پنجاب کو وفاق میں برتری حاصل ہے، پیپلز پارٹی نے پنجاب میں ایک بھونڈی کوشش کی ہے اور پنجاب کے ایک سیاستدان میاں منظور وٹو کو میاں صاحبان کے مقابلے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ وٹو صاحب اور خود پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ پارٹی کے کارکنوں نے وٹو صاحب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ان کے جلسوں میں نامناسب رویہ اختیار کیا ہے۔ میرے خیال میں میاں نواز شریف کو پنجاب میں اپنی پرانی حریف اور ماضی قریب کی حلیف پیپلز پارٹی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ عمران خان ایک خطرہ بن کر سامنے آئے ہیں اور ان کی پذیرائی بھی ہو رہی ہے۔
اس پذیرائی کو آپ لمبا بھی کھینچ سکتے ہیں۔ اور الیکشن تک کیا صورت بنتی ہے، اس بارے میں فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ پنجاب میں عمران خان جتنا موثر ہو گا، اس صوبے کے الیکشن کے نتائج اسی کے مطابق ہوں گے تاہم میاں صاحب نے لاہور کا معرکہ سر کر لیا تو ان کی پوزیشن بہت مضبوط ہو گی اور صوبے کے دوسرے حصوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے، اس سلسلے میں کچھ کہنے میں ابھی احتیاط کی ضرورت ہے، الیکشن میں کبھی کبھار اچانک کوئی رو چلتی ہے جس کے بارے میں پیشگی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ایک بات جو حتمی ہے وہ یہ کہ پاکستان کے لیے الیکشن بہت ضروری ہیں اور جو کوئی الیکشن کے خلاف ان کے التواء کے لیے حربے استعمال کرتا ہے، اسے پاکستان کا خیر خواہ کہنا مشکل ہے۔ آج کی دنیا اور اس کے وہ ممالک جو پاکستان سے کچھ رابطہ رکھتے ہیں یا اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، وہ سب اس ملک کے وجود یا اس کی کسی حکومت کے با عمل ہونے میں شک کرتے ہیں ،کوئی تو اسے ناکام بھی کہتا ہے لیکن اس کا وجود بھی اس کے دشمنوں کے حق میں ہے اور وہ اس کا بکھرنا برداشت نہیں کر سکتے، صرف اسے ایک کمزور ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ زندہ سلامت مگر کمزور اور یہ سیاست اور ریاست کا ڈراما الیکشن ملتوی نہیں کرا سکے گا۔