رجسٹرارکا پیش ہونےارسلان کانوٹس وصول کرنے سے انکار
ڈاکٹر فقیر نے کہا ہے کہ وہ گریڈ22کے افسرہیںاس لیے پیش نہیں ہوںگے،نیب
ڈاکٹر فقیر نے کہا ہے کہ وہ گریڈ22کے افسرہیں اس لیے پیش نہیں ہوں گے،نیب۔ فوٹو ایکسپریس
ڈاکٹر ارسلان کیس کی تحقیقات کیلیے قائم نیب کی مشترکہ ٹیم نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو دوبارہ نوٹس جاری کردیے ہیں اور انھیں جمعہ کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔ نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈاکٹر فقیر حسین ، سلمان احمد اور احمد خلیل کی جانب سے مشترکہ ٹیم کو بھیجے گئے جوابات کا جائزہ لیا گیا۔
سلمان احمد اور احمد خلیل کے جوابات پر غورکیا گیا کہ کہیں وہ دونوں بیان ریکارڈکرانے سے دانستہ انکار تو نہیںکر رہے۔ ڈاکٹر فقیر حسین کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ وہ گریڈ 22کے افسر ہیںاس لیے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوںگے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ان کو مذکورہ جواب پر دوبارہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ڈاکٹر ارسلان افتخارکی طرف سے پنجاب پولیس نے رپورٹ دی ہے کہ انھوں نے پیش ہونے سے انکارکر دیا ہے۔
نیب کے اعلامیہ کے مطابق قبل ازیں ارسلان افتخارکہہ چکے ہیں ان کو کوئی نوٹس نہیں ملا ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مسلسل عدم حاضری کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ کسی بھی فریق کیخلاف کسی قسم کی مزیدکارروائی سے قبل اسے مشترکہ ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا جبکہ ملک ریاض کو دوبارہ بیان ریکارڈ کرانے کیلیے بھی طلب کرنے پر غورکیا گیا کہ وہ مزید حاصل معلومات کی بنیاد پر بیان ریکارڈ کرائیں ۔
سلمان احمد اور احمد خلیل کے جوابات پر غورکیا گیا کہ کہیں وہ دونوں بیان ریکارڈکرانے سے دانستہ انکار تو نہیںکر رہے۔ ڈاکٹر فقیر حسین کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ وہ گریڈ 22کے افسر ہیںاس لیے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوںگے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ان کو مذکورہ جواب پر دوبارہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ڈاکٹر ارسلان افتخارکی طرف سے پنجاب پولیس نے رپورٹ دی ہے کہ انھوں نے پیش ہونے سے انکارکر دیا ہے۔
نیب کے اعلامیہ کے مطابق قبل ازیں ارسلان افتخارکہہ چکے ہیں ان کو کوئی نوٹس نہیں ملا ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مسلسل عدم حاضری کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ کسی بھی فریق کیخلاف کسی قسم کی مزیدکارروائی سے قبل اسے مشترکہ ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا جبکہ ملک ریاض کو دوبارہ بیان ریکارڈ کرانے کیلیے بھی طلب کرنے پر غورکیا گیا کہ وہ مزید حاصل معلومات کی بنیاد پر بیان ریکارڈ کرائیں ۔