بلوچستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں سپریم کورٹ

تمام فورسزلگی ہوئی ہیں پکڑاکوئی نہیں جاتا،جسٹس افتخار


July 26, 2012
تمام فورسزلگی ہوئی ہیں پکڑاکوئی نہیں جاتا،جسٹس افتخار، فوٹو فائل

سپریم کورٹ نے بلوچستان کے امن وامان کی صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ،پولیس اورایف سی سے مشترکہ جواب طلب کرلیاہے جبکہ سپریم کورٹ کے ججزنے کہاہے کہ صوبے میں کوئی بھی محفوظ نہیں،جب بات ہاتھ سے نکل گئی توکیاتب اقدام کریں گے؟

وقت آگیاہے کہ ملک کوبچانے کیلیے ہرشہری کوکھڑاہوناہوگا،مسلح افواج محب وطن ہیں،ہرشہری کو حصہ ڈالنا ہے،صرف 17ججز نے سب کچھ نہیںکرنا۔بدھ کوچیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے بلوچستان میں بدامنی کیس کی سماعت کی،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرائی نے کہاکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ صوبہ میں حالات بہترنہیں مگریہ لکھ کرنہیں دے سکتے ہیں کہ ہم ناکام ہو گئے،

صوبے کے65لاکھ افراد میں سے یہ صرف2سو افراد کا مسئلہ ہے،بلوچستان میں قانون نافذکرنے والے بھی محفوظ نہیں،ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ریاستی مشینری فیل ہوگئی۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ ڈھائی ہزارکلومیٹر طویل سرحدہے، اس پرقابو نہیں پاسکتے۔چیف جسٹس کاکہنا تھاکہ صوبے میں کوئی بھی محفوظ نہیں،

وفاقی حکومت نے صوبوں میں ایف سی بھیجی ہے لہٰذا ایف سی کی ذمے داری وفاقی حکومت پرعائد ہوگی،عدالتوں کے ساتھ مذاق ہورہاہے،کہتے ہیں کہ خداکے واسطے لوگوں کی جان کی حفاظت کرو،سنی ہو،شیعہ ہو، بریلوی ہو کوئی محفوظ نہیں،تمام فورسزلگی ہیں مگر پکڑا کوئی نہیں جاتا، جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ امن و امان گراف ابتر ہورہاہے،صوبائی حکومت امن وامان نہ کرسکے تووفاق کی کیا ذمے داری ہے؟

جب بات ہاتھ سے نکل گئی توکیا تب اقدام کریں گے؟وقت آگیاہے کہ ملک کو بچانے کیلیے ہرشہری کو کھڑا ہونا ہوگا، صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد نے کہاکہ بلوچستان کامعاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے،اصل مسئلہ پر کوئی بات نہی کرتا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ لاپتہ افراد کیلیے صوبائی حکومت کو3ماہ کی مہلت دی جائے ،مسئلے کوحل کرنے کی خاطراعلیٰ ترین شخصیات کی سطح پربات ہوئی ہے چیف جسٹس نے کہاکہ سب کیلیے واضح پیغام ہے کہ بلوچستان کا خیال کریں، عدالت نے سماعت(آج) جمعرات تک ملتوی کردی۔