نارتھ کراچی ٹرک سے کچل کرجاں بحق باپ اوربیٹی سپرد خاک
حادثے میں متوفی صدیق کا 4 سالہ بیٹامزمل معجزانہ طور پر محفوظ رہا،مقدمہ درج
متوفی صدیق 3 بچوں کا باپ تھا جس میں 4 سالہ مزمل اور 2 سالہ جاوید ٹرک ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے باپ کے سائے سے محروم ہوگئے۔ فوٹو: ایکسپریس
نارتھ کراچی میں ٹرک سے کچل کر جاں بحق ہونیوالے باپ اور بیٹی کوآہوں اور سسکیوں میں سپردخاک کردیا گیا۔
پولیس نے متوفی کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ، تفصیلات کے مطابق بلال کالونی تھانے کے علاقے نارتھ کراچی دو منٹ چورنگی کے قریب جمعے کو تیز رفتار ٹرک سے کچل کر جاں بحق ہونے والے 35سالہ محمد صدیق اور اس کی 6سالہ بیٹی طوبیٰ کی نماز جنازہ ہفتے کو گھر کے قریب واقع مسجد میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی، بعدازاں باپ اور بیٹی کو آہوں اورسسکیوں کے ساتھ نارتھ کراچی سیکٹر 7-D/1 میں واقع محمد شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
حادثے میں متوفی صدیق کا بیٹا 4 سالہ مزمل معجزانہ طور پر محفوظ رہا ، باپ اور بیٹی کی میتیں جب ان کی رہائش گاہ عائشہ کمپلیکس سے اٹھائی گئیں تو کہرام مچ گیا، خواتین دھاڑیں مار مار کر روتی رہیں، اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جسے دیکھ کر موقع پر موجود تمام افراد آبدیدہ ہوگئے جبکہ متعدد افراد شدت غم سے نڈھال ہوگئے، متوفی کے بھائی صادق نے بتایا کہ جس وقت حادثہ ہوا۔
صدیق بچوں کو اسکول سے لے کر گھر آرہا تھا ، انھوں نے بتایا متوفیہ طوبیٰ گھر کے قریب واقع ایجوکیشنل گرامر اسکول کی پہلی کلاس میں زیر تعلیم تھی ، متوفی صدیق 3 بچوں کا باپ تھا جس میں 4 سالہ مزمل اور 2 سالہ جاوید ٹرک ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے باپ کے سائے سے محروم ہوگئے ، متوفی صدیق ایکسپورٹ کا کام کرنے والی ایک کمپنی کا ملازم تھا ، پولیس نے صادق کی مدعیت میں گرفتار ڈرائیور امان اﷲ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
پولیس نے متوفی کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ، تفصیلات کے مطابق بلال کالونی تھانے کے علاقے نارتھ کراچی دو منٹ چورنگی کے قریب جمعے کو تیز رفتار ٹرک سے کچل کر جاں بحق ہونے والے 35سالہ محمد صدیق اور اس کی 6سالہ بیٹی طوبیٰ کی نماز جنازہ ہفتے کو گھر کے قریب واقع مسجد میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی، بعدازاں باپ اور بیٹی کو آہوں اورسسکیوں کے ساتھ نارتھ کراچی سیکٹر 7-D/1 میں واقع محمد شاہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
حادثے میں متوفی صدیق کا بیٹا 4 سالہ مزمل معجزانہ طور پر محفوظ رہا ، باپ اور بیٹی کی میتیں جب ان کی رہائش گاہ عائشہ کمپلیکس سے اٹھائی گئیں تو کہرام مچ گیا، خواتین دھاڑیں مار مار کر روتی رہیں، اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جسے دیکھ کر موقع پر موجود تمام افراد آبدیدہ ہوگئے جبکہ متعدد افراد شدت غم سے نڈھال ہوگئے، متوفی کے بھائی صادق نے بتایا کہ جس وقت حادثہ ہوا۔
صدیق بچوں کو اسکول سے لے کر گھر آرہا تھا ، انھوں نے بتایا متوفیہ طوبیٰ گھر کے قریب واقع ایجوکیشنل گرامر اسکول کی پہلی کلاس میں زیر تعلیم تھی ، متوفی صدیق 3 بچوں کا باپ تھا جس میں 4 سالہ مزمل اور 2 سالہ جاوید ٹرک ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے باپ کے سائے سے محروم ہوگئے ، متوفی صدیق ایکسپورٹ کا کام کرنے والی ایک کمپنی کا ملازم تھا ، پولیس نے صادق کی مدعیت میں گرفتار ڈرائیور امان اﷲ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔