جھمپیر صدر آج ملک کے پہلے ونڈ پاور پلانٹ کا افتتاح کرینگے
مزید منصوبے بھی بنائے جائیں گے، صحافیوں کو پلانٹ کے دورے کے بعد بریفنگ
کراچی: جھمپیر کے مقام پر ایف سی سی کی جانب سے ونڈ پاور پروجیکٹ کا ایک منظر جس کا صدر زرداری آج افتتاح کریں گے۔ فوٹو: اے پی پی
فوجی فرٹیلائزر کمپنی انرجی لمیٹڈ کا ملک میں 50 میگا واٹ کے ونڈ انرجی پلانٹ کا پہلا منصوبہ مکمل ہوگیا ہے، اسکا باقاعدہ افتتاح صدر مملکت آصف علی زرداری پیر24دسمبر کو ٹھٹھہ کے علاقے جھمپیر میںکریں گے۔
یہ پلانٹ 10 ماہ میں 134 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوا ہے، پلانٹ نیشنل گرڈ کو سالانہ 143 گیگا واٹ ہاورز بجلی فراہم کرے گا۔ اتوار کو جھمپیر میں پلانٹ کی جگہ پر صحافیوں کو دورہ کرانے کے بعد ونڈ پاورکے پراجیکٹ ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) طارق اعزاز نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ونڈ کوریڈور بھی تیل اور گیس کی طرح ایک قدرتی ذخیرہ ہے لیکن یہ ختم نہں ہوتا۔ پاکستان میں 9 ونڈ کوریڈور ہیں، جو دنیا کا تیسرا بڑا ونڈ کوریڈور ہے اور اس میں ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ ونڈ انرجی پلانٹ مجموعی طور پر 33 ٹربائن پر مشتمل ہے جو 1300 ایکڑ اراضی پر محیط ہے اور پلانٹ کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 50 میگا واٹ ہے۔ ہوا کا دباؤ کم زیادہ ہونے سے بجلی کے پیدوار میں بھی کمی اور اضافہ ہوگا لیکن یہ سالانہ نیشنل گرڈ کو 143 گیگا واٹ ہاورز فراہم کرے گا۔بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) طارق نے کہا کہ ہمیں بجلی کی قلت کا سامنا جو ن، جولائی اور اگست کے مہینوں میں ہوتا ہے، ان مہینوں کے دوران ہوا کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اس عرصے میں ونڈ پاور پلانٹ سے بجلی کی پیدوار میں اضافہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ہم 7 نومبر سے 2 گیگا واٹ ہاورز نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہے ہیں۔
پہلے مرحلے میں ہمیں صرف 50 میگا واٹ بنانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اب ہمیں مزید بجلی پیدا کرنیکی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت ہم 5 میگا واٹ سے 250 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کے ونڈ منصوبے لگا سکتے ہیں، اس طرح کے دیگر منصوبے جلد شروع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں بہت ساری جگہیں ایسی ہیں جہا ں اگر ونڈ انرجی لگائی جاسکتی ہوں تو سولر نہیں لگائی جاسکتیں، لیکن ہم یہاں ونڈ اور سولر دونوں لگا سکتے ہیں۔ اب ہمارا منصوبہ ہے کہ دو ونڈ ٹربائن کے درمیان جو خالی جگہ ہے اس پر سولر انرجی لگا دیں۔ طارق اعزاز نے کہا کہ پلانٹ میں مقامی لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہیں۔ اس موقع پر متبادل توانائی بورڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو عارف علاؤالدین بھی موجود تھے۔
یہ پلانٹ 10 ماہ میں 134 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوا ہے، پلانٹ نیشنل گرڈ کو سالانہ 143 گیگا واٹ ہاورز بجلی فراہم کرے گا۔ اتوار کو جھمپیر میں پلانٹ کی جگہ پر صحافیوں کو دورہ کرانے کے بعد ونڈ پاورکے پراجیکٹ ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) طارق اعزاز نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ونڈ کوریڈور بھی تیل اور گیس کی طرح ایک قدرتی ذخیرہ ہے لیکن یہ ختم نہں ہوتا۔ پاکستان میں 9 ونڈ کوریڈور ہیں، جو دنیا کا تیسرا بڑا ونڈ کوریڈور ہے اور اس میں ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ ونڈ انرجی پلانٹ مجموعی طور پر 33 ٹربائن پر مشتمل ہے جو 1300 ایکڑ اراضی پر محیط ہے اور پلانٹ کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 50 میگا واٹ ہے۔ ہوا کا دباؤ کم زیادہ ہونے سے بجلی کے پیدوار میں بھی کمی اور اضافہ ہوگا لیکن یہ سالانہ نیشنل گرڈ کو 143 گیگا واٹ ہاورز فراہم کرے گا۔بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) طارق نے کہا کہ ہمیں بجلی کی قلت کا سامنا جو ن، جولائی اور اگست کے مہینوں میں ہوتا ہے، ان مہینوں کے دوران ہوا کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اس عرصے میں ونڈ پاور پلانٹ سے بجلی کی پیدوار میں اضافہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ہم 7 نومبر سے 2 گیگا واٹ ہاورز نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہے ہیں۔
پہلے مرحلے میں ہمیں صرف 50 میگا واٹ بنانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اب ہمیں مزید بجلی پیدا کرنیکی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت ہم 5 میگا واٹ سے 250 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کے ونڈ منصوبے لگا سکتے ہیں، اس طرح کے دیگر منصوبے جلد شروع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں بہت ساری جگہیں ایسی ہیں جہا ں اگر ونڈ انرجی لگائی جاسکتی ہوں تو سولر نہیں لگائی جاسکتیں، لیکن ہم یہاں ونڈ اور سولر دونوں لگا سکتے ہیں۔ اب ہمارا منصوبہ ہے کہ دو ونڈ ٹربائن کے درمیان جو خالی جگہ ہے اس پر سولر انرجی لگا دیں۔ طارق اعزاز نے کہا کہ پلانٹ میں مقامی لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہیں۔ اس موقع پر متبادل توانائی بورڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو عارف علاؤالدین بھی موجود تھے۔