سانحہ بلدیہ ایم کیوایم کے وزرا نے معاملہ دبانے کے لیے پارٹی کا استعمال کیا رحمان بھولا
رؤف صدیقی نے فیکٹری مالکان کے خلاف ہی مقدمہ درج کرادیا تاکہ ایم کیوایم کا نام نہ آئے، ملزم رحمٰن بھولا کا انکشاف
میں نے 1992 میں ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کی اور کھالوں اور بھتے کی مد میں کروڑوں روپے نائن زیرو میں جمع کرائے، ملزم رحمٰن بھولا کا انکشاف۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم عبدالرحمٰن عرف بھولا نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزرا نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن دبانے کے لیے اپنی جماعت کا اثر و رسوخ استعمال کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم عبدالرحمان عرف بھولا کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا ، جوڈیشل مجسٹریٹ غربی عابد علی لاکھو نے ضابطہ فوج داری کی دفعہ 164 کے تحت ملزم رحمٰن عرف بھولا سے 11 سوالات کئے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے سوال کیا کہ آپ اپنا جرم کیوں قبول کررہے ہیں جس پر ملزم نے کہا کہ جرم قبول کرنے کےلئے مجھے میرا ضمیر کہہ رہا ہے، ملزم سے دوسرا سوال کیا گیا کہ اس جرم کے قبول کرنے کے کیا اثرات ہوں گے جانتے ہو؟ جس پر رحمٰن عرف بھولا کاکہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے کہ مجھے سزا ہی ملنی ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے تیسرا سوال کیا کسی حساس ادارے یا پولیس نے کہا کہ جرم قبول کرلو تمھیں وعدہ معاف گواہ بنالیں گے؟ ملزم نے جواب دیا نہیں ایسا نہیں ہے، چوتھا سوال تھا کہ تم سمجھتے ہو ناں کہ تم اقبالی جرم کے پابند نہیں ہو؟ جواب ملا کہ ہاں مجھے علم ہے۔
ملزم سے پانچواں سوال کیا گیا کہ تم اس بات کو سمجھتے ہو کہ یہ بیان ایک مجسٹریٹ کے سامنے دے رہے ہو اور یہ تمھارے خلاف بھی جاسکتا ہے ؟ ملزم نے ہاں میں جواب دیا، چھٹے سوال میں پوچھا گیا کہ تمھیں پتہ ہے بیان نہ دینے سے انکار کردو گے تو جیل روانہ کردوں گا؟ جس پر جواب ملا کہ میں اپنی مرضی سے جرم قبول کررہا ہوں مجھے معلوم ہے۔
مجسٹریٹ نے ساتواں سوال کیا کہ کیا تم کسی ڈر یا دھمکی کی وجہ سے جرم قبول کررہے ہو ، جس پر بھولا کا جواب تھا ہرگز نہیں۔ مجسٹریٹ نے رحمٰن بھولا سے پوچھا کہ پولیس نے تشدد تو نہیں کیا جس پر ملزم نے نہ میں جواب دیا، نواں سوال تھا کہ جرم قبول کرنے کے لئے تمھارے اہل خانہ کو تو حراساں نہیں کیا جارہا؟ ملزم نے کہا نہیں ایسانہیں ہے۔
ملزم رحمٰن سے دسواں سوال کیا گیا کہ کیا اس بات سے واقف ہو کہ یہ جرم قبول کرو یا نہیں تمھیں جوڈیشل لاکپ بھیجا جائے گا اور پولیس کے حوالے ہرگز نہیں کیا جائے گا جس پر ملزم نے کہا کہ جی معلوم ہے۔ مجسٹریٹ کا گیارہواں اور آخری سوال تھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟
آخری سوال کے بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم نے بتایا کہ 1992 میں سیکٹر انچارج امین خان کے کہنے پر ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کی، پارٹی میں شمولیت کے بعد علم ہوا ہے کہ ایم کیوایم کی پالیسی کے مطابق خون خرابہ، بھتہ، گاڑیاں جلانا، دکانیں بند کرنا اور ہوائی فائرنگ کرکے خوف ہراس پھیلانا شامل ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: حماد صدیقی کے کہنے پرفیکٹری میں آگ لگائی
2009 میں کراچی تنظیمی کمیٹی کے ممبران عرفان خان، زاہد اور حنیف میمن کی سفارش پر بلدیہ کا سیکٹر ممبر بنایا گیا، بطور سیکٹر ممبر بھتے کی مد میں کروڑوں اور کھالوں کی مد میں لاکھوں روپے نائن زیرو میں جمع کرائے،میں نے اس دوران 7 افراد کو قتل کیا جبکہ میری ٹیم کے لوگوں نے درجنوں افراد کو قتل کیا۔ ہم جو بھی کرتے تھے ایم کیو ایم کی پالیسی ہوتی تھی۔ جولائی 2012 میں کے ٹی سی انچارج حماد صدیقی نے نائن زیرو بلایا اور کہا کہ اصغر بیگ کو ہٹا کر تمھیں بلدیہ کا سیکٹر انچارج بنایا جارہا ہے لیکن ساتھ ہی ایک ہدف دیا جارہا ہے جو تمھیں ہرحال میں پورا کرنا ہے، تمھیں ٹاسک دیا جارہا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائزز کے نام سے ایک فیکٹری ہے اس کے مالکان سے 25 کروڑ بھتہ لینا ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: رحمان بھولا کا 25 قتل کا اعتراف
رحمٰن عرف بھولا نے بتایا کہ میں فیکٹری مالکان سے ملا اور بتایا کہ حماد صدیقی نے بھتے کے لئے بھیجا ہے جس پر مالکان نے سوچنے کا وقت مانگا، چند روز بعد فیکٹری مالکان نے کہا کہ ہم ایک کروڑ روپے سے زیادہ نہیں دے سکتے، جس پر میں نے کہا کہ آپ ہمیں فیکٹری میں شراکت داری دے دیں ورنہ ہم آگ لگا دیں گے اور اس کے بعد فیکٹری کے منیجر منصور سے بھی رابطہ کیا لیکن اس نے بھی یہی کہا کہ ہم ایک کروڑ روپے ہی دے سکتے ہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: ایف آئی اے رحمان بھولا کو بنکاک سے لے آئی
رحمٰن بھولا نے کہا کہ میں اور زبیر چریا نائن زیرو گئے اور حماد صدیقی کو پوری تفصیل بتائی جس پر حماد صدیقی نے غصے میں آکر کہا کہ فیکٹری کو آگ لگا دو اور اس کی ذمہ داری زبیر عرف چریا کو سونپ دی گئی اور کہا گیا کہ فیکٹری کو آگ لگانے کے لئے کیمیکل وغیرہ کا بندوبست کرنا ہے۔
رحمٰن بھولا نے بتایا کہ 11 ستمبر 2012 کو زبیر چریا سفید ہائی روف میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت آیا اور کہا کہ آگ لگانے کا بندوبست کرلیا ہے میں موٹرسائیکل پر خود ان کے ساتھ فیکٹری تک گیا اور انہیں چھوڑ کرآیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد زبیر چریا نے فون پر بتایا کہ کام ہوگیا ہے، میں نے حماد صدیقی کو فون کرکے بتایا کہ کام ہوگیا، جس پر حماد صدیقی نے کہا کہ ایم کیوایم کے ایم این اے اور ایم پی ایز اور کارکنوں کے ساتھ مل کر فیکٹری میں جاؤ اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لو، جس کے بعد ہم نے 4 سے 5 دن تک فیکٹری کے باہر امدادی کیمپ لگائے رکھا اور کے کے ایف کی ایمبولینسز امدادی کارروائیوں میں شامل رہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: رحمان بھولا کا فیکٹری میں آگ لگانے کا اعتراف
رحمٰن عرف بھولا نے انکشاف کیا کہ اس وقت کے وزیر صنعت رؤف صدیقی نے فیکٹری میں آگ لگنے کا مقدمہ فیکٹری مالکان کے خلاف ہی درج کرادیا تاکہ ایم کیوایم کا نام نہ آئے، بعد میں پتہ چلا کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی نے فیکٹری مالکان کو ضمانت کے بعد بلایا اور کیس سے ہاتھ اٹھانے کے لئے 5 کروڑ روپے وصول کئے۔
سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم عبدالرحمٰن عرف بھولا نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزرا نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن دبانے کے لیے اپنی جماعت کا اثر و رسوخ استعمال کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم عبدالرحمان عرف بھولا کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا ، جوڈیشل مجسٹریٹ غربی عابد علی لاکھو نے ضابطہ فوج داری کی دفعہ 164 کے تحت ملزم رحمٰن عرف بھولا سے 11 سوالات کئے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے سوال کیا کہ آپ اپنا جرم کیوں قبول کررہے ہیں جس پر ملزم نے کہا کہ جرم قبول کرنے کےلئے مجھے میرا ضمیر کہہ رہا ہے، ملزم سے دوسرا سوال کیا گیا کہ اس جرم کے قبول کرنے کے کیا اثرات ہوں گے جانتے ہو؟ جس پر رحمٰن عرف بھولا کاکہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے کہ مجھے سزا ہی ملنی ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے تیسرا سوال کیا کسی حساس ادارے یا پولیس نے کہا کہ جرم قبول کرلو تمھیں وعدہ معاف گواہ بنالیں گے؟ ملزم نے جواب دیا نہیں ایسا نہیں ہے، چوتھا سوال تھا کہ تم سمجھتے ہو ناں کہ تم اقبالی جرم کے پابند نہیں ہو؟ جواب ملا کہ ہاں مجھے علم ہے۔
ملزم سے پانچواں سوال کیا گیا کہ تم اس بات کو سمجھتے ہو کہ یہ بیان ایک مجسٹریٹ کے سامنے دے رہے ہو اور یہ تمھارے خلاف بھی جاسکتا ہے ؟ ملزم نے ہاں میں جواب دیا، چھٹے سوال میں پوچھا گیا کہ تمھیں پتہ ہے بیان نہ دینے سے انکار کردو گے تو جیل روانہ کردوں گا؟ جس پر جواب ملا کہ میں اپنی مرضی سے جرم قبول کررہا ہوں مجھے معلوم ہے۔
مجسٹریٹ نے ساتواں سوال کیا کہ کیا تم کسی ڈر یا دھمکی کی وجہ سے جرم قبول کررہے ہو ، جس پر بھولا کا جواب تھا ہرگز نہیں۔ مجسٹریٹ نے رحمٰن بھولا سے پوچھا کہ پولیس نے تشدد تو نہیں کیا جس پر ملزم نے نہ میں جواب دیا، نواں سوال تھا کہ جرم قبول کرنے کے لئے تمھارے اہل خانہ کو تو حراساں نہیں کیا جارہا؟ ملزم نے کہا نہیں ایسانہیں ہے۔
ملزم رحمٰن سے دسواں سوال کیا گیا کہ کیا اس بات سے واقف ہو کہ یہ جرم قبول کرو یا نہیں تمھیں جوڈیشل لاکپ بھیجا جائے گا اور پولیس کے حوالے ہرگز نہیں کیا جائے گا جس پر ملزم نے کہا کہ جی معلوم ہے۔ مجسٹریٹ کا گیارہواں اور آخری سوال تھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟
آخری سوال کے بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم نے بتایا کہ 1992 میں سیکٹر انچارج امین خان کے کہنے پر ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کی، پارٹی میں شمولیت کے بعد علم ہوا ہے کہ ایم کیوایم کی پالیسی کے مطابق خون خرابہ، بھتہ، گاڑیاں جلانا، دکانیں بند کرنا اور ہوائی فائرنگ کرکے خوف ہراس پھیلانا شامل ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: حماد صدیقی کے کہنے پرفیکٹری میں آگ لگائی
2009 میں کراچی تنظیمی کمیٹی کے ممبران عرفان خان، زاہد اور حنیف میمن کی سفارش پر بلدیہ کا سیکٹر ممبر بنایا گیا، بطور سیکٹر ممبر بھتے کی مد میں کروڑوں اور کھالوں کی مد میں لاکھوں روپے نائن زیرو میں جمع کرائے،میں نے اس دوران 7 افراد کو قتل کیا جبکہ میری ٹیم کے لوگوں نے درجنوں افراد کو قتل کیا۔ ہم جو بھی کرتے تھے ایم کیو ایم کی پالیسی ہوتی تھی۔ جولائی 2012 میں کے ٹی سی انچارج حماد صدیقی نے نائن زیرو بلایا اور کہا کہ اصغر بیگ کو ہٹا کر تمھیں بلدیہ کا سیکٹر انچارج بنایا جارہا ہے لیکن ساتھ ہی ایک ہدف دیا جارہا ہے جو تمھیں ہرحال میں پورا کرنا ہے، تمھیں ٹاسک دیا جارہا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائزز کے نام سے ایک فیکٹری ہے اس کے مالکان سے 25 کروڑ بھتہ لینا ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: رحمان بھولا کا 25 قتل کا اعتراف
رحمٰن عرف بھولا نے بتایا کہ میں فیکٹری مالکان سے ملا اور بتایا کہ حماد صدیقی نے بھتے کے لئے بھیجا ہے جس پر مالکان نے سوچنے کا وقت مانگا، چند روز بعد فیکٹری مالکان نے کہا کہ ہم ایک کروڑ روپے سے زیادہ نہیں دے سکتے، جس پر میں نے کہا کہ آپ ہمیں فیکٹری میں شراکت داری دے دیں ورنہ ہم آگ لگا دیں گے اور اس کے بعد فیکٹری کے منیجر منصور سے بھی رابطہ کیا لیکن اس نے بھی یہی کہا کہ ہم ایک کروڑ روپے ہی دے سکتے ہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: ایف آئی اے رحمان بھولا کو بنکاک سے لے آئی
رحمٰن بھولا نے کہا کہ میں اور زبیر چریا نائن زیرو گئے اور حماد صدیقی کو پوری تفصیل بتائی جس پر حماد صدیقی نے غصے میں آکر کہا کہ فیکٹری کو آگ لگا دو اور اس کی ذمہ داری زبیر عرف چریا کو سونپ دی گئی اور کہا گیا کہ فیکٹری کو آگ لگانے کے لئے کیمیکل وغیرہ کا بندوبست کرنا ہے۔
رحمٰن بھولا نے بتایا کہ 11 ستمبر 2012 کو زبیر چریا سفید ہائی روف میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت آیا اور کہا کہ آگ لگانے کا بندوبست کرلیا ہے میں موٹرسائیکل پر خود ان کے ساتھ فیکٹری تک گیا اور انہیں چھوڑ کرآیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد زبیر چریا نے فون پر بتایا کہ کام ہوگیا ہے، میں نے حماد صدیقی کو فون کرکے بتایا کہ کام ہوگیا، جس پر حماد صدیقی نے کہا کہ ایم کیوایم کے ایم این اے اور ایم پی ایز اور کارکنوں کے ساتھ مل کر فیکٹری میں جاؤ اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لو، جس کے بعد ہم نے 4 سے 5 دن تک فیکٹری کے باہر امدادی کیمپ لگائے رکھا اور کے کے ایف کی ایمبولینسز امدادی کارروائیوں میں شامل رہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: رحمان بھولا کا فیکٹری میں آگ لگانے کا اعتراف
رحمٰن عرف بھولا نے انکشاف کیا کہ اس وقت کے وزیر صنعت رؤف صدیقی نے فیکٹری میں آگ لگنے کا مقدمہ فیکٹری مالکان کے خلاف ہی درج کرادیا تاکہ ایم کیوایم کا نام نہ آئے، بعد میں پتہ چلا کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی نے فیکٹری مالکان کو ضمانت کے بعد بلایا اور کیس سے ہاتھ اٹھانے کے لئے 5 کروڑ روپے وصول کئے۔