چوہدری شجاعت حسین کی سیاسی پیشنگوئیاں
چوہدری شجاعت حسین نے اپنی مولانا فضل الرحمٰن اور آصف زرداری سے ملاقاتوں کا نتیجہ صفر جمع صفر سنا دیا ہے
msuherwardy@gmail.com
چوہدری شجاعت حسین نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس کی تمام باتیں ابھی تک پانی میں مدھانی مارنے کے مترادف ہیں۔ اسی بات کو مزید سادہ الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ گرینڈ الائنس کی باتیں کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق پر پورا اترتی ہیں۔ اس طرح چوہدری شجاعت حسین نے اپنی مولانا فضل الرحمٰن اور آصف زرداری سے ملاقاتوں کا نتیجہ صفر جمع صفر سنا دیا ہے۔ جب کہ عمران خان اور چوہدری برادران کی ملاقاتوں کا نتیجہ پہلے ہی صفر جمع صفر نکل چکا ہے۔
دوسری طرف جاوید ہاشمی نے بالآخر عمران خان کو اپنے خلاف بیان دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ جاوید ہاشمی نے جب سے تحریک انصاف چھوڑی ہے وہ ایک بے قراری کے عالم میں تحریک انصاف کے خلاف بول رہے ہیں۔ تحریک انصاف جاوہد ہاشمی کا کوئی پہلا پیار نہیں تھا جو ان سے روٹھ گیا۔ وہ سیاسی پیار پالنے اور ان کے ٹوٹنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ ان کے لیے کوئی نئی صورتحال نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی وہ اس بار زیادہ بے قرار ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ جاوہد ہاشمی نے ہمیشہ اپنے تجربہ اور ذہانت کی بنا پر ایک پیار ٹوٹنے سے پہلے دوسرا پیار ڈھونڈ لیا ہے ۔ اس طرح ان کو پیار ٹوٹنے کا کبھی زیادہ دکھ بھی نہیں رہا بلکہ وہ ہمیشہ اس کو اپنا کریڈٹ ہی سمجھتے رہے ہیں۔
لیکن اس بار تحریک انصاف سے پیار ٹوٹنے کے بعد ان کو دوبارہ پیار ملنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ جاوید ہاشمی کا خیال ہے کہ انھوں نے سیاسی حلالہ کر لیا ہے اس لیے میاں نواز شریف دوبارہ انھیں قبول کر سکتے ہیں۔ اور ان کا اور میاں نواز شریف کا پیار دوبارہ پٹری پر چل سکتا ہے۔ لیکن شاید میاں نواز شریف اس بار یہ فیصلہ سوچ سمجھ کرنا چاہتے ہیں۔
میاں نواز شریف کی جانب سے قبولیت میں تاخیر جاوہد ہاشمی کے اضطراب میں اضافہ کر رہی ہے۔ اور شاید اسی اضطراب میں وہ میاں نواز شریف کو اپنی وفاداری کا مزید یقین دلوانے کے لیے عمران خان پر اپنی بمباری میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ یقینا عمران خان اس بمباری سے پریشان ہو رہے ہیں۔ اسی پریشانی میں انھوں نے جاوید ہاشمی کی بمباری کا جواب دے دیا ہے۔ جس کی بہر حال کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم عمران خان کے جواب نے جاوید ہاشمی کے لیے اپنی اگلی منزل آسان کر دی ہے۔ وہ میاں نواز شریف کو یہی تو ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ عمران خان سے لڑنے کے لیے جاوید ہاشمی بہترین چوائس ہو سکتے ہیں۔ اب تو معاملہ ڈوپ ٹیسٹ تک پہنچ گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں عمران خان کو ڈوپ ٹیسٹ کروانا ہی نہ پڑ جائے۔
میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ڈوپ ٹیسٹ کے معاملہ کو بھی پانامہ کی طرح ہی دیکھنا چاہیے۔ جس طرح پانامہ کا الزام لگنے کے بعد بے گناہی ثابت کرنا میاں نواز شریف اور ان کی اولاد کی ذمے داری ہے۔ اسی طرح ڈوپ ٹیسٹ کا الزام لگنے کے بعد اس میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا عمران خان کی ذمے داری ہے۔ اگر میاں نواز شریف پر یہ لازم ہے کہ وہ پانامہ میں اپنی بے گناہی خود ثابت کریں۔ کسی کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح عمران خان پر الزام لگنے کے بعد انھیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ڈوپ ٹیسٹ کروانا ہی ہو گا۔ ویسے تو کھلاڑیوں کا میچ سے پہلے ڈوپ ٹیسٹ ہوتا ہے اور کسی بھی کھلاڑی کے لیے یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔
اور عمران خان تو ایک بڑے کھلاڑی رہے ہیں اس لیے ڈوپ ٹیسٹ ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بات چوہدری شجاعت حسین کی ہو رہی تھی اورمیں عمران خان اور جاوہد ہاشمی کی طرف چلا گیا۔ چوہدری شجاعت حسین ملک کے ان چند سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جن کا احترام ان کے مخالفین بھی کرتے ہیں ۔ وہ سیاسی بات کو بھی سادہ الفاظ میں بیان کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کی اس بات سے بھی کون انکار کر سکتا ہے کہ سازش صرف وہی ہوتی ہے جو کامیاب ہو جائے۔ جو کامیاب ہی نہ ہوئی وہ کوئی سازش نہیں۔ اس لیے وہ جوڈیشل مارشل لا کی باتوں کو بھی کوئی سازش ماننے کو تیار نہیں۔ ان کے خیال میں اس کی ناکامی نے اس کو سازش کے پیمانہ سے نکال دیا۔ میری سمجھ کے مطابق چوہدری شجاعت حسین کہہ رہے ہیں کہ جوڈیشل مارشل لا کوئی سازش نہیں تھی بلکہ ایک خواب تھا جو خواب ہی رہ گیا۔
چوہدری شجاعت حسین کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ سابق صدر آصف زرداری سے پہلے کونسی لڑائی تھی جو اب صلح اور مفاہمت ہو گئی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے بھی صلح تھی اور اب بھی صلح ہے۔ چوہدری شجاعت حسین سابق صدر آصف زرداری کی وطن واپسی کے فوری بعد ان سے ملنے کے لیے چلے گئے تھے لیکن ان کے یہ چند فقرے صاف بیان کر رہے ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین اور آصف زرداری کی ملاقات میں فی الحال کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا ہے۔ شاید اسد جونیجو کو مشیر بنانے پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔
محترمہ مریم نواز تو پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ طوفان تھم گیا ہے۔ ایسے میں گو کہ پانامہ کے حوالہ سے نیا بنچ بن گیا ہے۔ نئے چیف جسٹس نے خود کواس سے الگ کر لیا ہے۔ لیکن پھر بھی ملک میں اب تک پانامہ کا طوفان دوبارہ زور نہیں پکڑ رہا۔ پتہ نہیں کیوں عوام پانامہ سے نا امید ہو چکے ہیں۔ عمران خان کو بھی پانامہ کے حوالہ سے عوام میں امید کی کرن دوبارہ جگانے کے لیے اب دوبارہ شدید محنت کرنا ہو گی۔شاید پانامہ کیس اس امید کو جگانے کے لیے کافی نہ ہو۔ اسی لیے تو چوہدری شجاعت حسین کہہ رہے ہیں کہ ملک میں کسی بھی قسم کے جوڈیشل مارشل لا کا کوئی امکان نہیں۔ بات کو مزید سادہ کیا جائے تو عوام کو تبدیلی کی کوئی امید نہیں ہے۔ معاملات کو عدالتوں سے باہر ہی حل کرنا ہو گا۔
یہ الیکشن کا سال ہے کہ نہیں اس حوالہ سے تو ابہام ہے لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ 2017 ء تمام سیاسی جماعتوں کے لیے الیکشن کی تیاری کا سال ہے۔ الیکشن کی تیاری کے لیے ملک کی سیاسی جماعتوں کو نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔ لیکن ملک کی سیاسی جماعتیں اس نئی صف بندی کے لیے ابھی تیار نظر نہیں آرہی ہیں۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی اور پی پی پی ایک دوسرے سے بہت دور کھڑی ہیں کہ ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ اسی طرح باقی چھوٹی جماعتیں بھی ان دونوں جماعتوں کو کسی اتحاد پر قائل کرنے میں ابھی تک ناکام ہیں۔ شاید جو جس کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتا ہے وہ اس کو میسر نہیں اور جس سے اتحاد نہیں کرنا چاہتا وہ دروازے پر کھڑا ہے۔ اسی لیے چوہدری شجاعت حسین کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کے کسی بھی بڑے گرینڈ الائنس کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنی انا قربان کرنا ہو گی۔ جو مشکل ہے۔
دوسری طرف جاوید ہاشمی نے بالآخر عمران خان کو اپنے خلاف بیان دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ جاوید ہاشمی نے جب سے تحریک انصاف چھوڑی ہے وہ ایک بے قراری کے عالم میں تحریک انصاف کے خلاف بول رہے ہیں۔ تحریک انصاف جاوہد ہاشمی کا کوئی پہلا پیار نہیں تھا جو ان سے روٹھ گیا۔ وہ سیاسی پیار پالنے اور ان کے ٹوٹنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ ان کے لیے کوئی نئی صورتحال نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی وہ اس بار زیادہ بے قرار ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ جاوہد ہاشمی نے ہمیشہ اپنے تجربہ اور ذہانت کی بنا پر ایک پیار ٹوٹنے سے پہلے دوسرا پیار ڈھونڈ لیا ہے ۔ اس طرح ان کو پیار ٹوٹنے کا کبھی زیادہ دکھ بھی نہیں رہا بلکہ وہ ہمیشہ اس کو اپنا کریڈٹ ہی سمجھتے رہے ہیں۔
لیکن اس بار تحریک انصاف سے پیار ٹوٹنے کے بعد ان کو دوبارہ پیار ملنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ جاوید ہاشمی کا خیال ہے کہ انھوں نے سیاسی حلالہ کر لیا ہے اس لیے میاں نواز شریف دوبارہ انھیں قبول کر سکتے ہیں۔ اور ان کا اور میاں نواز شریف کا پیار دوبارہ پٹری پر چل سکتا ہے۔ لیکن شاید میاں نواز شریف اس بار یہ فیصلہ سوچ سمجھ کرنا چاہتے ہیں۔
میاں نواز شریف کی جانب سے قبولیت میں تاخیر جاوہد ہاشمی کے اضطراب میں اضافہ کر رہی ہے۔ اور شاید اسی اضطراب میں وہ میاں نواز شریف کو اپنی وفاداری کا مزید یقین دلوانے کے لیے عمران خان پر اپنی بمباری میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ یقینا عمران خان اس بمباری سے پریشان ہو رہے ہیں۔ اسی پریشانی میں انھوں نے جاوید ہاشمی کی بمباری کا جواب دے دیا ہے۔ جس کی بہر حال کوئی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم عمران خان کے جواب نے جاوید ہاشمی کے لیے اپنی اگلی منزل آسان کر دی ہے۔ وہ میاں نواز شریف کو یہی تو ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ عمران خان سے لڑنے کے لیے جاوید ہاشمی بہترین چوائس ہو سکتے ہیں۔ اب تو معاملہ ڈوپ ٹیسٹ تک پہنچ گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں عمران خان کو ڈوپ ٹیسٹ کروانا ہی نہ پڑ جائے۔
میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ڈوپ ٹیسٹ کے معاملہ کو بھی پانامہ کی طرح ہی دیکھنا چاہیے۔ جس طرح پانامہ کا الزام لگنے کے بعد بے گناہی ثابت کرنا میاں نواز شریف اور ان کی اولاد کی ذمے داری ہے۔ اسی طرح ڈوپ ٹیسٹ کا الزام لگنے کے بعد اس میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا عمران خان کی ذمے داری ہے۔ اگر میاں نواز شریف پر یہ لازم ہے کہ وہ پانامہ میں اپنی بے گناہی خود ثابت کریں۔ کسی کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح عمران خان پر الزام لگنے کے بعد انھیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ڈوپ ٹیسٹ کروانا ہی ہو گا۔ ویسے تو کھلاڑیوں کا میچ سے پہلے ڈوپ ٹیسٹ ہوتا ہے اور کسی بھی کھلاڑی کے لیے یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔
اور عمران خان تو ایک بڑے کھلاڑی رہے ہیں اس لیے ڈوپ ٹیسٹ ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بات چوہدری شجاعت حسین کی ہو رہی تھی اورمیں عمران خان اور جاوہد ہاشمی کی طرف چلا گیا۔ چوہدری شجاعت حسین ملک کے ان چند سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جن کا احترام ان کے مخالفین بھی کرتے ہیں ۔ وہ سیاسی بات کو بھی سادہ الفاظ میں بیان کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کی اس بات سے بھی کون انکار کر سکتا ہے کہ سازش صرف وہی ہوتی ہے جو کامیاب ہو جائے۔ جو کامیاب ہی نہ ہوئی وہ کوئی سازش نہیں۔ اس لیے وہ جوڈیشل مارشل لا کی باتوں کو بھی کوئی سازش ماننے کو تیار نہیں۔ ان کے خیال میں اس کی ناکامی نے اس کو سازش کے پیمانہ سے نکال دیا۔ میری سمجھ کے مطابق چوہدری شجاعت حسین کہہ رہے ہیں کہ جوڈیشل مارشل لا کوئی سازش نہیں تھی بلکہ ایک خواب تھا جو خواب ہی رہ گیا۔
چوہدری شجاعت حسین کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ سابق صدر آصف زرداری سے پہلے کونسی لڑائی تھی جو اب صلح اور مفاہمت ہو گئی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے بھی صلح تھی اور اب بھی صلح ہے۔ چوہدری شجاعت حسین سابق صدر آصف زرداری کی وطن واپسی کے فوری بعد ان سے ملنے کے لیے چلے گئے تھے لیکن ان کے یہ چند فقرے صاف بیان کر رہے ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین اور آصف زرداری کی ملاقات میں فی الحال کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا ہے۔ شاید اسد جونیجو کو مشیر بنانے پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔
محترمہ مریم نواز تو پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ طوفان تھم گیا ہے۔ ایسے میں گو کہ پانامہ کے حوالہ سے نیا بنچ بن گیا ہے۔ نئے چیف جسٹس نے خود کواس سے الگ کر لیا ہے۔ لیکن پھر بھی ملک میں اب تک پانامہ کا طوفان دوبارہ زور نہیں پکڑ رہا۔ پتہ نہیں کیوں عوام پانامہ سے نا امید ہو چکے ہیں۔ عمران خان کو بھی پانامہ کے حوالہ سے عوام میں امید کی کرن دوبارہ جگانے کے لیے اب دوبارہ شدید محنت کرنا ہو گی۔شاید پانامہ کیس اس امید کو جگانے کے لیے کافی نہ ہو۔ اسی لیے تو چوہدری شجاعت حسین کہہ رہے ہیں کہ ملک میں کسی بھی قسم کے جوڈیشل مارشل لا کا کوئی امکان نہیں۔ بات کو مزید سادہ کیا جائے تو عوام کو تبدیلی کی کوئی امید نہیں ہے۔ معاملات کو عدالتوں سے باہر ہی حل کرنا ہو گا۔
یہ الیکشن کا سال ہے کہ نہیں اس حوالہ سے تو ابہام ہے لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ 2017 ء تمام سیاسی جماعتوں کے لیے الیکشن کی تیاری کا سال ہے۔ الیکشن کی تیاری کے لیے ملک کی سیاسی جماعتوں کو نئی صف بندی کی ضرورت ہے۔ لیکن ملک کی سیاسی جماعتیں اس نئی صف بندی کے لیے ابھی تیار نظر نہیں آرہی ہیں۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی اور پی پی پی ایک دوسرے سے بہت دور کھڑی ہیں کہ ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ اسی طرح باقی چھوٹی جماعتیں بھی ان دونوں جماعتوں کو کسی اتحاد پر قائل کرنے میں ابھی تک ناکام ہیں۔ شاید جو جس کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتا ہے وہ اس کو میسر نہیں اور جس سے اتحاد نہیں کرنا چاہتا وہ دروازے پر کھڑا ہے۔ اسی لیے چوہدری شجاعت حسین کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کے کسی بھی بڑے گرینڈ الائنس کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنی انا قربان کرنا ہو گی۔ جو مشکل ہے۔