زہرہ بی بی کا قتل اور شہباز شریف کا ایکشن

لاہور کے جناح اسپتال کے ننگے فرش پر جان دینے والی زہرہ بی بی کے بے حس قتل کا ذمے دار کون ہے

msuherwardy@gmail.com

لاہور:
لاہور کے جناح اسپتال کے ننگے فرش پر جان دینے والی زہرہ بی بی کے بے حس قتل کا ذمے دار کون ہے۔زہرہ بی بی کو لاہور کے چار اسپتالوں نے علاج کی بنیادی سہولت دینے سے انکار کیا ۔ اس طرح یہ کسی ایک ڈاکٹر یا اسپتال کی بے حسی کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک اجتماعی بے حسی کلچر کا عکاس ہے۔ لیکن پھر بھی کسی کو تواس کی ذمہ د اری قبول کرنی ہو گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب زہرہ بی بی کے گھر گئے ہیں۔

انھوں نے اس قتل کے ذمے داروں کو معاف نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ زہرہ بی بی کے ساتھ جو ہوا ہے وہ پاکستان کے ہر اسپتال میں ہر غریب آدمی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ تحریک انصاف جو شہباز شریف کی میٹروز پل اور سڑکیں بنانے کے اس لیے خلاف ہے کہ یہ وسائل تعلیم اور صحت پر خرچ ہونے چاہیے ، وہ بھی اسپتالوں اور ڈاکٹروں کو ٹھیک کرنے کا کوئی فارمولہ اور عملی نمونہ پیش نہیں کر سکی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے نہ تو اسپتال ٹھیک کیے ہیں اور نہ ہی پل سڑکیں اور میٹرو بنائی ہیں۔ اگر وہ ہی کوئی روڈ میپ اپنے صوبہ میں پیش کر دیتے تو آج ہم کہہ سکتے کہ پنجاب خیبر پختونخواہ کے روڈ میپ کی پیروی کر لے۔ لیکن افسوس کہ وہاں بھی کچھ نہیں ہوا۔

بہر حال شہباز شریف گزشتہ چند ماہ سے پنجاب کے اسپتال ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوشش کتنی کامیاب ہو ئی ہے ۔ کتنی کامیاب ہو سکتی ہے ۔کیا یہ دیر سے شروع کی گئی ہے۔ اس پر تو مختلف رائے ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی کوئی اس بات کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا کہ اسپتال اور ڈاکٹر ٹھیک کیے بغیر عام آدمی کو علاج کی سہولیات میسر نہیں آسکتیں۔ یقیناً شہباز شریف نے ایک مشکل کام شروع کیا ہے جس سے اکثر حکومتیں جان چھڑانے کی ہی کوشش کر تی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شہباز شریف اس کام کو اب منطقہ انجام تک پہنچائیں۔ انھیں یہ بات سمجھنی ہو گی کہ اگر وہ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں کو ٹھیک کریں گے تو سندھ اور باقی صوبوں کے اسپتال بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔ پنجاب کو پہل کرنا ہو گی۔ شائد کے اس کے بعد ہمارے حکمران بھی سرکاری اسپتالوں میں علاج کرانے کے لیے تیار ہو جائیں۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ بطور وزیر اعلیٰ شہباز شریف علاج نہ ملنے کے ذمے دار ہیں۔ تو پھر بھی خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کم از کم شہباز شریف کو اس کا احساس تو ہو گیا۔ ورنہ پاکستان کے باقی صوبوں میں بھی سرکاری اسپتالوں میں بھی علاج کی سہولتیں نہایت مخدوش ہیں مگر وہاں کوئی اس کی براہ راست ذمے داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جب تک حکمران اس کی ذمے داری قبول نہیں کریں گے تب تک یہ صورتحال ٹھیک بھی نہیں ہو گی۔ گزشتہ دنوں جب سابق صدر آصف زرداری کراچی کے ایک اسپتال گئے تو اسپتال جانے کے لیے ان کی مہنگی گاڑی کو گندے پانی سے گزر کر جانا پڑا۔ جس پرسندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بہت ناراض ہوئے ۔ صورتحال پشاور اور کوئٹہ کی بھی کوئی خاص مختلف نہیں ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وسائل سے قطع نظر پورے پاکستان کے سرکاری اسپتال ایک ہی کلچر کا شکار ہیں۔ یہ ڈاکٹرز کی بے حسی کا کلچر ہے۔

پاکستان میں ڈاکٹرز کی ہڑتال کے کلچر نے سرکاری اسپتالوں میں بے حسی کے کلچر کو عروج بخشا ہے۔ ڈاکٹر مسیحا کی بجائے پیسے بنانے والی مشینیں بن گئے ہیں۔ وہ ذمے داری کے احساس سے محروم ہو گئے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا علاج نہیں کیاجاتا بلکہ انھیں شام کو پرائیوٹ کلینکس میں علاج کے لیے آنے پر مجبور کیا جا تا ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف کی سمت درست ہے۔ کیا ڈاکٹروں کا احتساب مریضوں کے لیے بہتر علاج کو ممکن بنا سکے گا۔ میرے خیال میں یہ اس سمت میں پہلا قدم ہے۔ یہ درست ہے کہ علاج کی سہولیات کم ہیں۔ حکومت کو صحت کے شعبہ کو مزید وسائل دینا ہو نگے لیکن اس سے بھی پہلے جو وسائل موجود ہیں ان کا درست استعمال یقینی بنانا اہم ہے۔ صورتحال تو یہی ہے کہ جو وسائل موجود ہیں ان کو بھی عوام کی فلاح کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ موجودہ وسائل کے بہترین استعمال کے لیے احتساب کا عمل ناگزیر ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ ڈاکٹرز اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سرکاری اسپتالوں میں پروفیسرز کا کام نہ کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ پروفیسرز سرکاری اسپتالوں کو صرف اپنی پرائیوٹ پریکٹس کی مارکیٹنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دن میں ایک راؤنڈ وہ بھی صرف چہرہ دکھانے کے لیے۔ جب تک شہباز شریف پروفیسرز کو کسی قانون و ضابطہ کے کنٹرول میں نہیں لاتے تب تک سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی بے حسی پر قابو نہیں پا یا جا سکتا۔

شہباز شریف کے مخالفین یہ کہہ سکتے ہیں کہ شہباز شریف کا زہرہ بی بی کے گھر جانا سیاسی شعبدہ بازی ہے لیکن میرے نزدیک یہ ڈاکٹروں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک شعوری کوشش ہے۔ ہمیں ملک کے چاروں وز راء اعلی کو اس بات پر مجبور کرنا چاہیے کہ وہ زہرہ بی بی جیسے ہر واقعہ پر سخت ایکشن لیں ۔ کسی زہرہ بی بی کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔

اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی اس کاوش پر تنقید کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تا کہ ڈاکٹروں کا احتساب شروع ہو سکے۔اس وقت شہباز شریف نے صحت کے شعبہ میں مختلف انقلابی کام شروع کیے ہوئے ہیں۔ ان میں جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شامل ہے۔ پرائیوٹ اسپتالوں کی انسپکشن اور انھیں کنٹرو ل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت پنجاب کی جانب سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تحت ناقص دودھ گھی اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کے خلاف مہم کا تعلق بھی عام آدمی کی صحت سے ہی ہے۔

سرکاری اسپتالوں کا انچارج کون ہونا چاہیے ۔اس حوالہ سے بھی معاملات ابھی تک طے نہیں ہو سکے ہیں۔ پہلے یہ دلیل دی گئی کہ اسپتال کا ایم ایس ایک ڈاکٹر کو ہی ہونا چاہیے کیونکہ ایک ڈ اکٹر ہی اسپتال کا انتظام اور معاملات سمجھ سکتا ہے۔ لیکن یہ فارمولہ فیل ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر ایم ایس نہ صرف ڈاکٹرز کی بے حسی کے سامنے سرنگوں نظرا ٓئے ہیں بلکہ وہ پروفیسرز سے پوچھ گچھ کرنے کے اہل بھی نظر نہیں آئے۔جس نے سر اٹھا یا اس ایم ایس کو ڈاکٹروں نے اسپتال میں مارا ۔ اور حکومت خاموش رہی۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں ایسے پروفیسرز بھی ہیں جنھوں نے ایک سال میں ایک مریض بھی نہیں دیکھا۔ ایسے سرجن بھی ہیں جنھوں نے ایک سال میں ایک آپریشن بھی نہیں کیا۔ صرف اپنی ذاتی پریکٹس پر توجہ دی۔ اور اس کی مارکیٹنگ کی۔ ایسے میں بیچارہ ایم ایس تو ان سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

اس لیے اب اس پرانے اور فرسودہ فارمولہ اور دلیل سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے۔ اور سرکاری ہستپالوں کا نظام ایسے افراد کے ہاتھ میں دینے کی ضرورت ہے جو انتظامی سہولیات کا ماہر ہو۔ یہ درست ہے کہ ڈی ایم جی کے افسران کا لگانا بھی کوئی حل نہیں۔ ہماری بیوروکریسی پر ڈی ایم جی کا راج ہے۔ اور افسر شاہی ہر مسئلہ کا حل ڈی ایم جی کو ہی سمجھتی ہے۔ ویسے تو عام آدمی کا یہ مسئلہ نہیں کہ اسپتال کون ٹھیک کرے گا۔ انھیں تو ٹھیک چاہیے۔ کیا ڈی ایم جی افسران پروفیسرز کو لگام ڈال سکیں گے۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔
Load Next Story