حیدرآباد میں ملتوی کی گئی انسداد پولیو مہم کا دوبارہ آغاز

پولیو ٹیموں کی حفاظت کیلیے رینجرز و پولیس کا گشت، شہری ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں

پولیوکے خاتمے کے لیے اشتہارات پرکروڑوں روپے خرچ کردیے جاتے ہیں مگر ورکروں کوکوئی خاص سہولت نہیں دی جاتی۔ فوٹو: فائل

کراچی، پشاور میں پولیو ورکرز کے قتل کے باعث گزشتہ دنوں ملتوی کی گئی انسداد پولیو مہم دوبارہ شروع کر دی گئی۔

جس کے پہلے روز لیڈی ہیلتھ ورکرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچائوکے قطرے پلائے، پولیس اور رینجرز اہلکار بھی مختلف علاقوں میں گشت کرتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق 17 سے 19 دسمبر کی انسداد پولیو مہم کو کراچی اور پشاور میں ہیلتھ ورکرز کے قتل کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا، قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں کے لیے حیدرآباد میں ہفتہ سے دو روزہ انسداد پولیو مہم دوبارہ شروع کردی گئی، اس دوارن لیڈی ہیلتھ ورکرز نے ضلع کے چاروں تعلقوں سٹی حیدرآباد، لطیف آباد، قاسم آباد اور تعلقہ دیہی کے مختلف علاقوں میں 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت، محکمہ صحت اور ضلعی افسران بھی موجود تھے، جب کہ پولیو ٹیموںکی حفاظت کے لیے مختلف علاقوں میں رینجرز اور پولیس کے اہلکار گشت کر تے رہے۔




علاوہ ازیں الخدمت فاؤنڈیشن کے رہنماؤں راؤ مسعود علی خان، اے کے یوسف زئی نے کہا ہے کہ پولیو ایک خطرناک مرض ہے جو کسی بھی عمر کے شخص کو ہوسکتا ہے جس کے پیش نظر اس کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے اور اس مہم کا دوبارہ آغاز اچھا قدم ہے، شہری مہم کے دوران ورکرز کے ساتھ تعاون کریں اوراپنے بچوں کو قطرے پلوا کر عمر بھر کی معذوری سے بچائیں۔

انھوں نے کہا کہ اس مہنگائی کے دور میں لیڈی ہیلتھ ورکروں کو دیا جانے والا معاوضہ انتہائی کم ہے جس میں ان کا گزارہ مشکل ہے ، پولیوکے خاتمے کے لیے اشتہارات پرکروڑوں روپے خرچ کردیے جاتے ہیں مگر ورکروں کوکوئی خاص سہولت نہیں دی جاتی، مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پولیو مہم کے ورکروں کے معاوضے میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرے۔
Load Next Story