افسوس بسنت کی اجازت نہیں مل سکی
سیاسی طور پر بھی بسنت کی اجازت حکومت کے حق میں تھی
msuherwardy@gmail.com
حکومت پنجاب نے بسنت کی اجازت نہیں دی۔ میرے لیے یہ ایک افسوسناک خبر ہے۔ میں برملا بسنت کا حامی ہوں۔ ویسے تو بسنت صرف لاہور کی پہچان مانی جاتی ہے لیکن اب یہ تہوار پورے پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں منایا جا تا ہے۔ سندھ میں بھی پتنگ بازی کی جاتی ہے اور کراچی میں بھی پتنگ اڑانے کا شوق باقاعدہ موجود ہے۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم نے اپنا انتخابی نشان پتنگ رکھا ہوا ہے۔ اور کراچی کے عوام کئی سال سے پتنگ کو ہی ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اب تو پشاور اور کوئٹہ میں بھی پتنگ بازی نظر آتی ہے۔ پتنگ بازی کی یہ مقبولیت میرے لیے باعث اطمینان ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ ثقافتی یلغار کا راستہ پابندیوں سے نہیں روکا جا سکتا۔
سیاسی طور پر بھی بسنت کی اجازت حکومت کے حق میں تھی۔ لوگ خوش ہو جاتے۔ عوام کی پانامہ سے توجہ بھی ہٹ جاتی۔ بلا شبہ لوگ پانامہ چھوڑ کر بسنت کی طرف لگ جاتے۔ مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب کرکٹ میچز نئے نئے ٹی وی پر دکھانے شروع کیے گئے اور کرکٹ ڈپلومیسی بھی شروع کی گئی تب مخالفین اس کے خلاف ایک دلیل یہ بھی دیتے تھے کہ ضیاء الحق عوام کی توجہ آمریت سے ہٹانے کے لیے کرکٹ کو استعمال کر رہے ہیں ۔ اگر اس فلسفہ کو آج بھی مان لیا جائے تو شریف برادران پانامہ سے توجہ ہٹانے کے لیے بسنت کو استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
بسنت کی میری خواہش پورے نہ ہونے پر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔ پتنگ بازی کی پورے ملک میں مقبولیت کے باوجود بسنت لاہور کی ثقافت کا ایک بنیادی جزو ہے۔ اہل لاہور کو بسنت سے محروم کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی بھی شہر کو اس کی ثقافت کے بنیادی جزو سے محروم کر دیا جائے۔ اسے کسی بھی ثقافت کا گلہ گھونٹنے کے مترادف بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ بسنت میں پتنگ بازی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن جب بسنت کا تہوار اپنے عروج پر تھا َ حالانکہ یہ عروج ایک دو سال ہی رہا اور پھر اس کو نظر بد لگ گئی۔ تب بسنت پر آنے والے نئے گانے ہماری میوزک انڈسٹری کے لیے بھی تازہ ہوا کا جھونکا تھے۔ اور اس طرح کے گانے دوبارہ نہیں آسکے۔ ان گانوں کو ملک بھر میں مقبولیت ملی۔ اسی طرح بسنت ملک کی فیشن انڈسٹری کے لیے بھی ایک مرکزی حیثیت حا صل کر گیا تھا۔ لیکن ا س سب کے باوجود بسنت کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ یہ بیک وقت امیر و غریب کا تہوار تھا اور غریب اپنے محدود وسائل میں بھی اس میں شامل ہو سکتا تھا۔
یہ بھی درست ہے کہ اس بار حکومت پنجاب بسنت کی اجازت دینے میں سنجیدہ تھی۔ اس ضمن میں حکومت پنجاب نے ابتدائی طور پرجو کمیٹی قائم کی تھی اس نے ایک محفوظ بسنت منانے کی اجازت دینے کی سفارش کی تھی۔ کمیٹی کی اس سفارش نے ایک امید کی کرن پیدا کر دی کہ اس سال اہل لاہور ہی نہیں پنجاب بھر کے عوام کو بسنت منانے کی اجازت مل جائے۔ کمیٹی کی سفارش کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے بسنت کی باقاعدہ اجازت دینی تھی لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب نے باقاعدہ غور و خوض کے بعدبسنت نہ منانے کا فیصلہ دیا ہے۔ میرا دکھ اپنی جگہ۔ میری خواہش اپنی جگہ لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ فیصلہ کیوں دیا اس کے محرکات جاننا بھی ضروری ہے۔
جس طرح ایک نقطہ محرم سے مجرم بنا دیتا ہے۔ اسی طرح بسنت جیسے خوبصورت تہوار اور پتنگ بازی جیسے خوبصورت کھیل کو ایک دھاتی ڈور نے جان لیوا بنا دیا ہے۔ حکومت پنجاب کی جس کمیٹی نے بسنت منانے کی سفارش کی تھی اس نے محفوظ بسنت منانے کی سفارش کی تھی۔ محفوظ بسنت کا فلسفہ یہی تھا کہ کسی بھی طرح دھاتی ڈور پر پا بندی لگا دی جائے۔
اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے واضح رپورٹ مانگی کہ کیا کسی بھی طرح دھاتی ڈور پر پا بندی لگائی جا سکتی ہے تو پنجاب بھر کی پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے دھاتی ڈور پر پباندی کو نافذالعمل کرنے سے معذرت کر لی۔ اور اسے عملاً نا ممکن قرار دے دیا۔ ابھی بسنت منانے کا معاملہ چل ہی رہا تھا کہ عوام نے پتنگ بازی شروع بھی کر دی اور فیصل آباد میں دھاتی ڈور سے ایک معصوم جان چلی گئی۔
لاہور میں ڈور پھرنے کا واقعہ ہو گیا۔ ایسے میں کسی بھی ادارے نے بسنت کی ذمے داری اٹھانے سے انکار کر دیا۔ جس کی بنا پر شہباز شریف کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ بسنت پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھیں۔ یقیناً وہ ایک بھی جان کے ضیاع کا ذمے نہیں لے سکتے۔ اگر بسنت منانے کے دوران ایک بھی معصوم جان کا ضیاع ہو جاتا تو بسنت کے مخالفین اور شہباز شریف کے مخالفین اس کا براہ راست ذمے دار قرار دیتے۔ اور انتخابی سال میں شاید وہ یہ سیاسی بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس لیے اگر پتنگ بازی کے حامی بھی ذمے داری کا ثبوت دیتے۔
دھاتی ڈور کا اس دوران استعمال چھوڑ دیتے تو بسنت کی اجازت ناممکن نہیں تھی۔ اس لیے ہمیں بسنت پر پابندی برقرا رکھنے کا ذمے د ان کالی بھیڑوں کو قرار دینا چاہیے جو اس نازک موڑ پر جب پتنگ بازی پر پابندی ختم ہونے والی تھی تب بھی دھاتی ڈور سے کھیلتے نظر آئے۔ میرے لیے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ شہبا ز شریف ایک محفوظ بسنت کے لیے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ اگر بسنت روکنے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قانون سازی کی جا سکتی ہے تو ایک محفوظ بسنت اور پتنگ بازی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بھی پنجاب اسمبلی سے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔
بسنت کے مخالفین یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتنی کیا ضرورت پڑی ہے کہ اس بسنت کی بحالی کے لیے نئی قانون سازی کی جائے ۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں ہیں بسنت کے سوا۔میاں شہباز شریف نے بطور صوبہ کے چیف ایگزیکٹو ٹھیک کیا ہے۔ ان کی ذمے داری عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے۔ وہ کسی ایک کھیل کے لیے ایک بھی جان کا ضیاع اپنے ذمے لینے کے لیے تیار نہیں۔ کوئی بھی ثقافتی کھیل اور ثقافتی تہوارپہلی ترجیح نہیں ہو سکتی۔ ایسے میں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہاتھا اٹھا لیا تو وہ کیا کرتے۔
بسنت اور پتنگ بازی کے حامیوں کو اس کھیل کے لیے ازخود قوانین بنانے ہو نگے۔ محفوظ ڈور کی واضح تعریف سامنے لانا ہو گی۔ دھاتی ڈور کے خاتمہ کا کوئی لائحہ عمل حکومت کو پیش کرنا ہو گا۔ ورنہ ہم اس کھیل سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ جہاں تک رانا ثنا ء اللہ کی اس منطق کا تعلق ہے کہ عوام پتنگ بازی کے بغیر ہی بسنت مان لیں۔ یہ عوام سے مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ پتنگ بازی کے بغیر بسنت ایسے ہی ہے جیسے نکاح کے بغیر شادی کی باقی رسمیں۔ اور کوئی کہے کہ آپ باقی رسمیں کر لیں نکاح کی اجازت نہیں۔
بسنت کے حامیوں اور اس کی بقا کی جنگ لڑنے والوں کو اپنے اندر سے کالی بھیڑوں کا نکالنا ہو گا۔ دھاتی ڈور کا راستہ بند کرنا ہو گا۔ تب ہی بسنت کی بحالی کی کوششیں کا میاب ہو سکتی ہیں۔ مجھے امید ہے اس کے لیے راستہ نکلے گا۔ کیونکہ پتنگ باز سجنا بے تاب ہیں۔
سیاسی طور پر بھی بسنت کی اجازت حکومت کے حق میں تھی۔ لوگ خوش ہو جاتے۔ عوام کی پانامہ سے توجہ بھی ہٹ جاتی۔ بلا شبہ لوگ پانامہ چھوڑ کر بسنت کی طرف لگ جاتے۔ مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب کرکٹ میچز نئے نئے ٹی وی پر دکھانے شروع کیے گئے اور کرکٹ ڈپلومیسی بھی شروع کی گئی تب مخالفین اس کے خلاف ایک دلیل یہ بھی دیتے تھے کہ ضیاء الحق عوام کی توجہ آمریت سے ہٹانے کے لیے کرکٹ کو استعمال کر رہے ہیں ۔ اگر اس فلسفہ کو آج بھی مان لیا جائے تو شریف برادران پانامہ سے توجہ ہٹانے کے لیے بسنت کو استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
بسنت کی میری خواہش پورے نہ ہونے پر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔ پتنگ بازی کی پورے ملک میں مقبولیت کے باوجود بسنت لاہور کی ثقافت کا ایک بنیادی جزو ہے۔ اہل لاہور کو بسنت سے محروم کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی بھی شہر کو اس کی ثقافت کے بنیادی جزو سے محروم کر دیا جائے۔ اسے کسی بھی ثقافت کا گلہ گھونٹنے کے مترادف بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ بسنت میں پتنگ بازی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن جب بسنت کا تہوار اپنے عروج پر تھا َ حالانکہ یہ عروج ایک دو سال ہی رہا اور پھر اس کو نظر بد لگ گئی۔ تب بسنت پر آنے والے نئے گانے ہماری میوزک انڈسٹری کے لیے بھی تازہ ہوا کا جھونکا تھے۔ اور اس طرح کے گانے دوبارہ نہیں آسکے۔ ان گانوں کو ملک بھر میں مقبولیت ملی۔ اسی طرح بسنت ملک کی فیشن انڈسٹری کے لیے بھی ایک مرکزی حیثیت حا صل کر گیا تھا۔ لیکن ا س سب کے باوجود بسنت کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ یہ بیک وقت امیر و غریب کا تہوار تھا اور غریب اپنے محدود وسائل میں بھی اس میں شامل ہو سکتا تھا۔
یہ بھی درست ہے کہ اس بار حکومت پنجاب بسنت کی اجازت دینے میں سنجیدہ تھی۔ اس ضمن میں حکومت پنجاب نے ابتدائی طور پرجو کمیٹی قائم کی تھی اس نے ایک محفوظ بسنت منانے کی اجازت دینے کی سفارش کی تھی۔ کمیٹی کی اس سفارش نے ایک امید کی کرن پیدا کر دی کہ اس سال اہل لاہور ہی نہیں پنجاب بھر کے عوام کو بسنت منانے کی اجازت مل جائے۔ کمیٹی کی سفارش کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے بسنت کی باقاعدہ اجازت دینی تھی لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب نے باقاعدہ غور و خوض کے بعدبسنت نہ منانے کا فیصلہ دیا ہے۔ میرا دکھ اپنی جگہ۔ میری خواہش اپنی جگہ لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ فیصلہ کیوں دیا اس کے محرکات جاننا بھی ضروری ہے۔
جس طرح ایک نقطہ محرم سے مجرم بنا دیتا ہے۔ اسی طرح بسنت جیسے خوبصورت تہوار اور پتنگ بازی جیسے خوبصورت کھیل کو ایک دھاتی ڈور نے جان لیوا بنا دیا ہے۔ حکومت پنجاب کی جس کمیٹی نے بسنت منانے کی سفارش کی تھی اس نے محفوظ بسنت منانے کی سفارش کی تھی۔ محفوظ بسنت کا فلسفہ یہی تھا کہ کسی بھی طرح دھاتی ڈور پر پا بندی لگا دی جائے۔
اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے واضح رپورٹ مانگی کہ کیا کسی بھی طرح دھاتی ڈور پر پا بندی لگائی جا سکتی ہے تو پنجاب بھر کی پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے دھاتی ڈور پر پباندی کو نافذالعمل کرنے سے معذرت کر لی۔ اور اسے عملاً نا ممکن قرار دے دیا۔ ابھی بسنت منانے کا معاملہ چل ہی رہا تھا کہ عوام نے پتنگ بازی شروع بھی کر دی اور فیصل آباد میں دھاتی ڈور سے ایک معصوم جان چلی گئی۔
لاہور میں ڈور پھرنے کا واقعہ ہو گیا۔ ایسے میں کسی بھی ادارے نے بسنت کی ذمے داری اٹھانے سے انکار کر دیا۔ جس کی بنا پر شہباز شریف کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ بسنت پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھیں۔ یقیناً وہ ایک بھی جان کے ضیاع کا ذمے نہیں لے سکتے۔ اگر بسنت منانے کے دوران ایک بھی معصوم جان کا ضیاع ہو جاتا تو بسنت کے مخالفین اور شہباز شریف کے مخالفین اس کا براہ راست ذمے دار قرار دیتے۔ اور انتخابی سال میں شاید وہ یہ سیاسی بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس لیے اگر پتنگ بازی کے حامی بھی ذمے داری کا ثبوت دیتے۔
دھاتی ڈور کا اس دوران استعمال چھوڑ دیتے تو بسنت کی اجازت ناممکن نہیں تھی۔ اس لیے ہمیں بسنت پر پابندی برقرا رکھنے کا ذمے د ان کالی بھیڑوں کو قرار دینا چاہیے جو اس نازک موڑ پر جب پتنگ بازی پر پابندی ختم ہونے والی تھی تب بھی دھاتی ڈور سے کھیلتے نظر آئے۔ میرے لیے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ شہبا ز شریف ایک محفوظ بسنت کے لیے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ اگر بسنت روکنے کے لیے پنجاب اسمبلی سے قانون سازی کی جا سکتی ہے تو ایک محفوظ بسنت اور پتنگ بازی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بھی پنجاب اسمبلی سے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔
بسنت کے مخالفین یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتنی کیا ضرورت پڑی ہے کہ اس بسنت کی بحالی کے لیے نئی قانون سازی کی جائے ۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں ہیں بسنت کے سوا۔میاں شہباز شریف نے بطور صوبہ کے چیف ایگزیکٹو ٹھیک کیا ہے۔ ان کی ذمے داری عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے۔ وہ کسی ایک کھیل کے لیے ایک بھی جان کا ضیاع اپنے ذمے لینے کے لیے تیار نہیں۔ کوئی بھی ثقافتی کھیل اور ثقافتی تہوارپہلی ترجیح نہیں ہو سکتی۔ ایسے میں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہاتھا اٹھا لیا تو وہ کیا کرتے۔
بسنت اور پتنگ بازی کے حامیوں کو اس کھیل کے لیے ازخود قوانین بنانے ہو نگے۔ محفوظ ڈور کی واضح تعریف سامنے لانا ہو گی۔ دھاتی ڈور کے خاتمہ کا کوئی لائحہ عمل حکومت کو پیش کرنا ہو گا۔ ورنہ ہم اس کھیل سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ جہاں تک رانا ثنا ء اللہ کی اس منطق کا تعلق ہے کہ عوام پتنگ بازی کے بغیر ہی بسنت مان لیں۔ یہ عوام سے مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ پتنگ بازی کے بغیر بسنت ایسے ہی ہے جیسے نکاح کے بغیر شادی کی باقی رسمیں۔ اور کوئی کہے کہ آپ باقی رسمیں کر لیں نکاح کی اجازت نہیں۔
بسنت کے حامیوں اور اس کی بقا کی جنگ لڑنے والوں کو اپنے اندر سے کالی بھیڑوں کا نکالنا ہو گا۔ دھاتی ڈور کا راستہ بند کرنا ہو گا۔ تب ہی بسنت کی بحالی کی کوششیں کا میاب ہو سکتی ہیں۔ مجھے امید ہے اس کے لیے راستہ نکلے گا۔ کیونکہ پتنگ باز سجنا بے تاب ہیں۔