کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں

گزشتہ چھ دن سے پاکستان دہشتگرد ی کی ایک نئی لہر سے گزر رہا ہے

msuherwardy@gmail.com

گزشتہ چھ دن سے پاکستان دہشتگرد ی کی ایک نئی لہر سے گزر رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس نئی لہرنے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سانحہ لاہور سے شروع ہونیو الی یہ لہر اتنی منظم ا ور اتنی شدید ہو گی اس کا تو کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا۔ جو سانحہ لاہور پر سیاست کرنے لاہور پہنچے تھے اگلے ہی دن خاموش ہو گئے۔ انھیں بھی احساس ہو گیا کہ دہشتگردوں کا نشانہ پنجاب یا لاہور نہیں بلکہ پورا پاکستان ہے۔ اسی لیے دہشتگردوں نے ان پانچ دنوں میں بلا تفریق پاکستان کے تمام صوبوں کو نشانہ بنایا تھا۔

پاکستان کے لیے یہ دہشتگردی نئی نہیں ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے دہشتگردی اور دہشتگردوں سے لڑ رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں ضرب عضب کی کامیابیوں نے ایک امید کی کرن پیدا کر دی تھی کہ ہم ان دہشتگردوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ امن آسکتاہے، اور ہم ایک محفوظ پاکستان کے خواب کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔ ضرب عضب کی کامیابیوں کے تناسب اور اس کی کامیابیوں کی رفتار پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن اس کے نتیجے میں دہشتگردی کم ہوئی اس پر کوئی بحث نہیں ہے۔

امن نظر آیا۔لیکن شاید کسی کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو لیکن اس وقت یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ جب ضرب عضب کے نتیجے میں فاٹا اور قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ کیا جا ئے گا تو پھر یہ پاکستان کے شہروں میں پناہ ڈھونڈیں گے۔ یہ دہشتگرد شہروں میں آکر پناہ لیں گے۔ لیکن آپ مانیں یا نہ مانیں یہ لڑائی شہروں میں پہنچ گئی ہوئی ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے خود بھی شہروں کومحفوظ بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا اور فوج کو بھی نہیں کرنے دیا۔

لیکن اس نئی لہر نے یہ سوال دوبارہ کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ضرب عضب کے ثمرات ضایع ہو گئے ہیں۔کیا ضرب عضب کے نتیجے میں آنے والا امن اس قدر عارضی اور مصنوعی تھا کہ چند ماہ میں ہی تحلیل ہو گیا۔ کیا فوج کی قیادت میں تبدیلی کے نتیجے میں پالیسی میں جو تبدیلی آئی تھی اس کے نتیجے میں جمہوریت مضبوط ہو نے کے بجائے دہشتگرد مضبوط ہو گئے ہیں۔ کیا جمہوری قیادت کو کام کرنے کا جو مو قع ملا تھا وہ جمہوری قیادت نے ضایع کر دیا ہے۔کیوں ہماری جمہوری حکومتیں دہشتگردوں کے خلاف واضع موقف سے ڈرتی ہیں۔ پتہ نہیں کیوں لیکن فوج کی موجودہ قیادت کا پچھلی قیادت سے امن ا ور دہشتگردی کے تناظر میں ایک صحت مند موازنہ جاری ہے۔جس سے موجودہ قیادت بھاگ نہیں سکتی۔

ادھر عسکری قیادت کا بھی ایک موقف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنرل ر احیل شریف اور ان کی ٹیم کے کام کرنے کے انداز پر جمہوری حکومتوں کو ایک اعتراض تھا۔ لیکن اب سیاسی قیادت کو فری ہینڈ دیا گیا ہے۔یہ اسی فری ہینڈ کا نتیجہ تھا کہ ملک میں ملٹری کورٹس کی توسیع پر سیاست ہو رہی ہے ورنہ اگر عسکری قیادت اپنے پرانے رول میں آجاتی تو یہ توسیع چند دن میں ہو جاتی۔ سوال یہ بھی ہے کہ چوہدری نثار علی خان بھی غیر متحرک کیوں نظر آرہے ہیں۔کیا وہ اپنے خلاف رپورٹ آنے کے بعد سپریم کورٹ میں پھنس گئے ہیں۔


رانا ثنا ء اللہ نے ملٹری کورٹس اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کے خلاف ایک مضبوط موقف لینے کے بعد شاید اپنے اور عسکری اداروں کے درمیان ایک فاصلہ پیدا کر لیا ہے۔ جو واضح نظر آرہا ہے۔ سندھ میں بھی رینجرز کے اختیارات اور اندرون سندھ رینجرز کی تعینا تی پر سندھ حکومت اورعسکر ی قیادت کے درمیان ایک اختلاف رائے موجود ہے۔ایسے میں ان پانچ دنوں میں اہل پاکستان پر جو قیامت ٹوٹی ہے میرے لیے ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس کی بڑی ذمے داری کس پر عائد ہوتی۔ میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں۔ کوئی بھی براہ راست ذمے داری لینے کو تیار نہیں۔صورتحال تو یہ ہے کہ دہشتگرد تو کسی بھی واقعہ کے چند گھنٹوں میں ذمے داری قبول کر لیتے ہیں اور دوسری طرف کوئی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ یہاں خاموشی ہے۔

یہ درست ہے کہ ان پانچ دنوں نے جہاں جی ایچ کیو وہاں ایوان اقتدار میں بھی خطرہ کی گھنٹیا ں بجا دی ہیں۔ افغان سفیر کو جی ایچ کیو طلب کرکے دہشتگردوں کی فہرست دی گئی ہے۔ افغان سرحد بند کردی گئی ہے ۔ زیادہ اہم بات یہ بھی ہے کہ سیاسی حکومت کی جانب سے ایک مکمل خاموشی رکھی جا رہی ہے۔ اس خاموشی کو نیم رضامندی یا حالات سے سمجھوتہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کا مرکز افغانستان ہی ہے۔ بھارت نے بھی اپنا مرکز افغانستان کو ہی بنا یا ہوا ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں موجود پاکستان مخالف تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالہ سے کسی واضح حکمت عملی کے ساتھ سامنے آنا ہو گا۔ یہ کام نہ تو اکیلے جی ایچ کیو کر سکتا ہے اور نہ ہی اکیلے سیاسی حکومت۔

یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ پانچ دنوں میں آنے والی اس قیامت نے جنرل قمر باجوہ کی سوچ اور حکمت عملی میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ عسکری قیادت مجموعی طور پر دوبارہ معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر آگئی ہے۔عسکری قیادت کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اب ان کی اپنی ساکھ داؤ پر ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ پہلی دفعہ افغان سرحد بند نہیں کی گئی۔ یہ کام پہلے بھی کیا گیا ہے۔ لیکن کیا اس کے نتیجے میں افغانستان کو پاکستا ن میں دہشتگردی کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ شاید ایسا ممکن نہیں۔کیونکہ ایسا بھارت نہیں ہو نے دے گا۔اور افغانستان کی موجودہ حکومت بھارت کی کٹھ پتلی حکومت بن چکی ہے۔ تو پھر ہم یہ سرحد کب تک بند رکھ سکیں گے ۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ چمن اور طورخم کی سرحد بند کرنے سے دہشتگردوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پاک افغان سرحد پرپہاڑوں میں درجنوں نہیں سیکڑوں ایسے راستہ ہیں جو دہشتگرد استعمال کرتے ہیں۔ سیکڑوں کلو میٹر طویل ایک لمبا کھلا بارڈر ہے۔ جس کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کھلے بارڈر کے تناظر میں صرف طورخم اور چمن کی بندش افغان حکومت کو تو کوئی پیغام ہو سکتی ہے لیکن دہشتگردوں کے لیے کوئی پیغام نہیں۔

اگر افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں موجودہیں۔ تو ہم ان سے پاکستان کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں۔ کیا ہم پاک افغان سرحد پر کوئی دیوار بنا سکتے ہیں۔ کوئی باڑ لگا سکتے ہیں۔ کیا ہم خود کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ کوئی ڈیورنڈ لائن کو سرحد مانتا ہے کوئی نہیں مانتا۔ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ بس ہم اسی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن اب اس سے نکلنے کا وقت آگیا ہے۔
Load Next Story