بشارالاسد نے بحران کے حل کیلیے روڈ میپ دے دیا مخالفین کا انکار
’درد کےسیاہ بادل‘ ملک کے کونے کونے تک پہنچ گئے ہیں،مخالفین مغرب کی کٹھ پتلیاں ہیں،شام اصل طاقتوں سے مذاکرات چاہتا ہے.
بیرونی طاقتیں دہشتگردوں کو ہتھیاردینابند کردیں، قومی کانفرنس بلاکرآئین بناکر نئی حکومت بنائی جائے،شامی صدر، مزید19افرادہلاک. فوٹو: اے اہف پی
شام کے صدربشارالاسدنے ملک میں21 ماہ سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک روڈمیپ کا اعلان کیاہے جسے ان کے مخالفین نے فوری طورپرمستردکردیاہے اورکہاہے کہ صدر اسدنے اپنی تقریرمیں ان لوگوں کومخاطب کیاہے جوانھیں برسراقتداررکھناچاہتے ہیں۔
اس جنگ میں 60 ہزارافرادجانیں دے چکے ہیں ہم ظالمانہ حکومت کوبرسراقتدارکھ کرشہدا سے غداری نہیں کرسکتے۔ دمشق کے کلچرل سینٹرمیں خطاب کرتے ہوئے صدراسدنے مخالفین کوخدا کے دشمن اور مغربی ممالک کی کٹھ پتلیاں قرار دیا اورکہاکہ شام' ملازموں' سے نہیں بلکہ اصل طاقتوں سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ان کاکہناتھاکہ'درد کے سیاہ بادل' ملک کے کونے کونے تک پہنچ گئے ہیں۔
بحران کے حل کے لیے بیرونی طاقتیں 'دہشتگردوں ' کو ہتھیار فراہم کرنا بند کر دیں،اس کے نتیجے میں شامی فوج اپنا آپریشن روک دے گی مگر اسے ریاستی مفادات کے دفاع کا حق ہوگا۔ حکومت پھر شامی افراد اور سیاسی جماعتوں کی ایک قومی کانفرنس بلائے گی جس میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کانفرنس میں تیار کردہ مسودے پرریفرنڈم کرایا جائے گا اور اس کے تحت نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔
انھوں نے کہا سفارتی اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تاہم ان افراد سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے جن کے دہشتگرد خیالات ہیں۔کچھ لوگ شام کو توڑنا چاہتے ہیں، اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں مگر شام اس سے زیادہ مضبوط ہے اور شام خودمختار رہے گا۔ ان کی تقریر کے دوران ان کے حامیوں نے نعرے بازی کی اور تقریر کے بعد اسٹیج پر ان کے گرد جمع ہوگئے۔ صدر اسد نے کہا کہ ان کی مخالف قوتیں کوئی تحریک نہیں۔ تحریک کے لیے دانشور چاہیے ہوتے ہیں اور تحریکیں خیالات پر مبنی ہوتی ہیں۔ تحریکوں کو قیادت کی ضرورت ہوتی ہے اور شامی باغیوں کی کوئی قیادت نہیں۔
صدر اسد نے ہر شہری کو اپنی استعداد کے مطابق ملک کا دفاع کرنے کے لیے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کو بچانے کی جنگ ہے۔ صدراسدکی تقریربراہ راست سرکاری ٹی وی پرنشرکی گئی۔ برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے بشارالاسدکی تقریرکوخالی وعدوں پرمبنی اورمنافقانہ قراردے کرمستردکردیاہے۔ جب صدراسد تقریر کررہے تھے تواسی وقت سرکاری فوج دمشق کے مضافات میں مخالفین کے خلاف کارروائی بھی جاری رکھے ہوئے تھی۔ملک بھرمیں جاری جھڑپوں میں کم ازکم مزید19افرادہلاک ہوگئے جن میں 13 شہری تھے۔
اس جنگ میں 60 ہزارافرادجانیں دے چکے ہیں ہم ظالمانہ حکومت کوبرسراقتدارکھ کرشہدا سے غداری نہیں کرسکتے۔ دمشق کے کلچرل سینٹرمیں خطاب کرتے ہوئے صدراسدنے مخالفین کوخدا کے دشمن اور مغربی ممالک کی کٹھ پتلیاں قرار دیا اورکہاکہ شام' ملازموں' سے نہیں بلکہ اصل طاقتوں سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ان کاکہناتھاکہ'درد کے سیاہ بادل' ملک کے کونے کونے تک پہنچ گئے ہیں۔
بحران کے حل کے لیے بیرونی طاقتیں 'دہشتگردوں ' کو ہتھیار فراہم کرنا بند کر دیں،اس کے نتیجے میں شامی فوج اپنا آپریشن روک دے گی مگر اسے ریاستی مفادات کے دفاع کا حق ہوگا۔ حکومت پھر شامی افراد اور سیاسی جماعتوں کی ایک قومی کانفرنس بلائے گی جس میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کانفرنس میں تیار کردہ مسودے پرریفرنڈم کرایا جائے گا اور اس کے تحت نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔
انھوں نے کہا سفارتی اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تاہم ان افراد سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے جن کے دہشتگرد خیالات ہیں۔کچھ لوگ شام کو توڑنا چاہتے ہیں، اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں مگر شام اس سے زیادہ مضبوط ہے اور شام خودمختار رہے گا۔ ان کی تقریر کے دوران ان کے حامیوں نے نعرے بازی کی اور تقریر کے بعد اسٹیج پر ان کے گرد جمع ہوگئے۔ صدر اسد نے کہا کہ ان کی مخالف قوتیں کوئی تحریک نہیں۔ تحریک کے لیے دانشور چاہیے ہوتے ہیں اور تحریکیں خیالات پر مبنی ہوتی ہیں۔ تحریکوں کو قیادت کی ضرورت ہوتی ہے اور شامی باغیوں کی کوئی قیادت نہیں۔
صدر اسد نے ہر شہری کو اپنی استعداد کے مطابق ملک کا دفاع کرنے کے لیے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کو بچانے کی جنگ ہے۔ صدراسدکی تقریربراہ راست سرکاری ٹی وی پرنشرکی گئی۔ برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے بشارالاسدکی تقریرکوخالی وعدوں پرمبنی اورمنافقانہ قراردے کرمستردکردیاہے۔ جب صدراسد تقریر کررہے تھے تواسی وقت سرکاری فوج دمشق کے مضافات میں مخالفین کے خلاف کارروائی بھی جاری رکھے ہوئے تھی۔ملک بھرمیں جاری جھڑپوں میں کم ازکم مزید19افرادہلاک ہوگئے جن میں 13 شہری تھے۔