کراچی میں 2012میں گزشتہ 20سالوں کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں
سال 2012 کے پہلے 9 ماہ میں 1800 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا،انسانی حقوق کمیشن
کراچی میں پولیس افسران اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد محض 30 ہزار ہے جو شہر میں امن قائم رکھنے کے لئے نا کافی ہے،انسانی حقوق کمیشن فوٹو: اے ایف پی/ فائل
سال 2012 کے دوران کراچی میں گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ افراد قتل کئے گئے، شہر میں سیاسی اور لسانی فسادات کے نتیجے میں سال 2012 میں 2 ہزار افراد کو قتل کیا گیا۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق سال 2012 کے پہلے 9 ماہ میں 1800 افراد کو ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنایا گیا۔ سال 2011 میں ایک ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جو اس وقت تک گزشتہ 16 سال میں قتل کئے جانے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد تھی،کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے لیکن بد قسمتی سے یہ سیاسی، لسانی جھگڑوں، منشیات، لینڈ مافیا، جوئے اور دوسرے کئی جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق کراچی کے ایک کروڑ 80لاکھ سے زائد عوام کی حفاظت کے لئے پولیس افسران اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد محض 30 ہزار ہے جو کہ شہر میں امن قائم رکھنے کے لئے نا کافی ہے۔
پاکستان میں مئی 2013 میں انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شہر میں مختلف سیاسی گروہ اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تشدد کا سہارا لے سکتے ہیں جس کے نتیجے میں حالات خراب ہوسکتے ہیں۔
کراچی کے زیادہ ترحصے پر متحدہ قومی موومنٹ کا کنٹرول ہے،لیاری میں پیپلز پارٹی جبکہ شمال مغربی علاقوں میں پشتونوں کی آبادی رہتی ہے۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق سال 2012 کے پہلے 9 ماہ میں 1800 افراد کو ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنایا گیا۔ سال 2011 میں ایک ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جو اس وقت تک گزشتہ 16 سال میں قتل کئے جانے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد تھی،کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے لیکن بد قسمتی سے یہ سیاسی، لسانی جھگڑوں، منشیات، لینڈ مافیا، جوئے اور دوسرے کئی جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق کراچی کے ایک کروڑ 80لاکھ سے زائد عوام کی حفاظت کے لئے پولیس افسران اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد محض 30 ہزار ہے جو کہ شہر میں امن قائم رکھنے کے لئے نا کافی ہے۔
پاکستان میں مئی 2013 میں انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شہر میں مختلف سیاسی گروہ اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تشدد کا سہارا لے سکتے ہیں جس کے نتیجے میں حالات خراب ہوسکتے ہیں۔
کراچی کے زیادہ ترحصے پر متحدہ قومی موومنٹ کا کنٹرول ہے،لیاری میں پیپلز پارٹی جبکہ شمال مغربی علاقوں میں پشتونوں کی آبادی رہتی ہے۔