امن و استحکام مشترکہ مفاد

بھارت کچھ عالمی قوتوں کی ہمدردیاں حاصل کر کے افغانستان کو جنگی تھیٹر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے

۔. فوٹو: فائل

ترجمان دفترخارجہ نے دہشتگردی اور آپریشن ''ردالفساد'' کے تزویراتی تناظر میں صائب وضاحت کی ہے کہ وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ پورے عزم کے ساتھ لڑنے کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی سے پاکستان اور افغانستان دونوں متاثر ہو رہے ہیں، دشمن افغانستان کی اندرونی صورت حال سے فائدہ اٹھا کر افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

جمعرات کو میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ دہشتگردوں کو مالی معاونت میں بھارت کے ملوث ہونے کی بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ یہ وہ نوشتۂ دیوار حقائق ہیں جن کا ترجمان نے اعادہ کیا ہے جب کہ آج دنیا اس اوپن سیکرٹ سے کماحقہ واقف ہو چکی ہے کہ بھارت کچھ عالمی قوتوں کی ہمدردیاں حاصل کر کے افغانستان کو جنگی تھیٹر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

بھارت کے ایک سابق آرمی چیف کی میڈیا پر گفتگو مختلف چینلز پر عالمی مبصرین اور ناظرین سن چکے ہیں کہ بھارت کس طرح جنگی ڈاکٹرائن کے تحت پاکستان مخالف دہشتگرد گروپوں کی مالی مدد اور اسلحہ کی فراہمی کے ذریعے خطے کا امن برباد کرنے پر تلا ہوا ہے، جب کہ ترکی کے حالیہ دورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ آپریشن ''ردالفساد'' شروع کرنے کا فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں ہوا، اس سویلین فیصلہ سے قوم کی آگاہی اس لیے بھی ضروری تھی کہ ملکی سیاسی ماحول میں کچھ ایسی بحث چلتی رہی جس میں اہم سنجیدہ سیکیورٹی معاملات پر بھی فقرہ بازیوں اور رائے زنی کا رجحان پنپتا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز ذرایع ابلاغ میں بعض ماہرین کے درمیان آپریشن ردالفساد کے اجرا پر بھی بحث متضاد نکتوں پر جاری رہی، اس لیے اس سیاق و سباق میں وزیراعظم کی طرف سے انقرہ سے بیان کا آنا مفید ثابت ہوا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت سے اچھے تعلقات اور بڑے پیمانے پر تجارت کرنا چاہتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف سازش کریں، ہم ایسا کام نہیں کریں گے جس سے خطے میں انتشار پھیلے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور ترکی نے دہشتگردوں سے مل کر لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے، وزیراعظم نے اس حقیقت کا بھی برملا اظہار کیا کہ افغانستان میں بیٹھے دہشتگرد ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں، ان کا گلہ بلاجواز نہیں تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کام کیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ افغانستان کو بھی چاہیے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائے۔


ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے کئی حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، سرحد کے دونوں طراف دہشتگردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے موثر بارڈر مینجمنٹ ضروری ہے، بارڈر کھولنے کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا، یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونیوالے ای سی او سربراہ اجلاس میں تمام رکن ملکوں نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے، سربراہ اجلاس سے قبل رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور سینئر حکام کا اجلاس منعقد ہو گا۔

ادھر بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے، وزیرداخلہ نے یہ بھی پیشکش کی کہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بھارت کسی بھی قسم کی مدد دینے کے لیے تیار ہے، اس التفات کا مقصد اگر فیس سیونگ ہے تو کیا کہنے مگر بھارت کو وزیراعظم نواز شریف کے اس انداز نظر کا نیک نیتی سے خیر مقدم کرنا چاہیے جن کا تذکرہ سطور بالا میں ہوا ہے۔ بھارت دو عملی کے گرداب سے باہر نکلے، پاکستان اسے مسئلہ کے حل سے وابستہ اسی وقت باور کرے گا جب وہ مسئلہ کا ماخذ یا بنیادی سبب نہ بنے۔

عالمی قوتوں کا کہا نہیں جا سکتا مگر یہ زمینی حقیقت ہے کہ بھارت، افغانستان اور امریکا کی نئے محور کا ہدف پاکستان کو بنانے کا گریٹ گیم کھینے کی تیاریاں عروج پر ہیں اور پاکستان کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا اسی اسٹرٹیجی اور جنگی پلان کا ایک حصہ ہے، بھارتی پراکسی وار بذریعہ افغانستان جاری ہے، سامراجی قوتوں کی سرپرستی، درپردہ حمایت اور عملی معاونت اس کے علاوہ ہے، چنانچہ پاکستان کی نئی سیاسی اور عسکری قیادت سمیت پوری قوم دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے حکومت اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے، جب کہ ملک بھر میں آپریشن ''ردالفساد '' بھرپور انداز میں جاری ہے۔

پاک فوج کی جانب سے افغان بارڈر پر گولہ باری میں 2انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک ہو گئے جن میں لاہور حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے، دونوں کا تعلق کالعدم جماعت الاحرار سے ہے، ادھر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دفاع وطن کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے جمعرات کو سیاچن کا دورہ کیا جہان انھوں نے گیاری میں یادگار شہداء پر پھول چڑھائے۔

اب گیند افغانستان اور بھارت کے کورٹ میں ہے کہ وہ خطے کی امن و استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول میں پاکستان سے تعاون کریں، افغانستان کو امن کی ضرورت ہے، اسی طرح بھارت مسئلہ کشمیرکے منصفانہ اور پائیدار حل کی سمت قدم بڑھائے، کشت و خون سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا، خطے کے کروڑوں عوام دہشتگردی، بدامنی اور انسانی مصائب کے بوجھ تلے کب تک دبتے رہیں گے، لہٰذا افغانستان اور بھارت پاکستان سے مخاصمت برائے مخاصمت کا زہر پینے سے اجتناب کریں، خطے کو استعماری مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اسی میں سب کا مفاد ہے۔

 
Load Next Story