بم دھماکے اور افواہ سازی کا مذموم کردار
پنجاب حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دہشتگردی کی واردات نہیں بلکہ حادثہ ہے
لاہور ڈیفنس کے علاقہ میں جمعرات کو زیر تعمیر پلازہ میں دھماکے سے 7 افراد جاں بحق جب کہ 37 زخمی ہو گئے۔ 13 فروری کو لاہور میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد یہ چند روز میں ہونے والا دوسرا بڑا دھماکا ہے' دھماکے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں چلتی رہیں تاہم سی ٹی ڈی نے ابتدائی رپورٹ میں دھماکے کو گیس لیکیج قرار دیا ہے۔
اب پنجاب حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دہشتگردی کی واردات نہیں بلکہ حادثہ ہے اور اس کا سبب گیس لیکیج ہی ہے۔ دھماکے کے بعد پیش آنے والی افسوسناک اور پریشان کن صورت حال افواہ سازی کا تیزی سے پھیلنا تھا' ڈیفنس میں بم دھماکے کے بعد گلبرگ کے علاقے میں بھی بم کی افواہ سے پورے شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور پریشان والدین اپنے بچوں کو لینے اسکولز کی طرف دوڑ پڑے' لوگوں میں یکدم بھگدڑ مچ جانے سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا تاہم بعد میں گلبرگ دھماکے کی خبر افواہ ثابت ہوئی مگر اس سے شہریوں میں جو خوف و ہراس پھیلا اس کا اثر دوسرے روز جمعے کو بھی دیکھنے میں آیا اور بڑے بڑے تعلیمی ادارے بند رہے۔ بم دھماکے کی افواہیں ملک کے دوسرے شہروں میں بھی پھیلتی رہیں۔
کسی بھی ہنگامی اور ناگہانی صورتحال میں سوشل میڈیا کا افسوسناک کردار بھی سامنے آیا ہے، بعض لوگ تفریح طبع کی خاطر افواہ سازی اور غلط اطلاعات عام کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں' ان کی اس غیر ذمے دارانہ حرکت سے پورے معاشرے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ جاتی ہے اور لوگوں کی بڑی اکثریت ان غیرمصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر من و عن یقین کرتے ہوئے اسے پورے معاشرے میں پھیلانا شروع کر دیتی ہے۔ عام شہری حقیقت کو جانے بغیر غلط اطلاعات پر یقین کر لیتے ہیں جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ جب تک حکومت یا اس کے اداروں کی جانب سے مصدقہ اطلاعات یا حتمی فیصلہ نہ آ جائے تب تک شہریوں کی جانب سے اپنی رائے قائم نہ کرنا اور افواہوں پر دھیان نہ دینا ہی صائب وتیرہ ہے۔ جب بھی کوئی افواہ پھیلے تو اس کی تصدیق کر لینا چاہیے۔ افواہوں پر دھیان دینا اور انھیں بلا تصدیق آگے پھیلانا دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل ہے اور دشمن پورے معاشرے کو خوف زدہ کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔