موجودہ بحران سے نکلنے کا ممکنہ راستہ
یہ لاوا اٹھارہ کروڑ عوام کے ذہنوں میں عشروں سے پک رہا ہے جو اب پھٹنے کو ہے
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
ISLAMABAD:
آج ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جس اضطراب، بے چینی، گھٹن اور اشتعال کی فضا بن گئی ہے، اس کی ذمے داری ہمارے حکمراں، اپوزیشن، مذہبی جماعتیں، ہمارے دانشور، اینکرز، اور کالم نگار طاہر القادری پر ڈال رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ آگ اسی مولوی کی لگائی ہوئی ہے جس کا مقصد انتخابات کو ملتوی کرانا ہے، جمہوریت کو ڈی ریل کرنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بے چینی، اضطراب و اشتعال کا واحد حل انتخابات ہیں۔
میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ 23 دسمبر کے مولانا کے جلسے نے یہ بحران پیدا کیا ہے لیکن میں اس حقیقت کو بھی جھٹلا نہیں سکتا کہ آج ہم ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جو بے چینی، اضطراب و اشتعال اور نفرت دیکھ رہے ہیں وہ طاہر القادری کی پیدا کی ہوئی نہیں ہے، یہ ان حکمرانوں، ان سیاستدانوں کی بداعمالیوں، لوٹ مار، مہنگائی، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ، جان و مال کے عدم تحفظ، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کی پیدا کی ہوئی ہے۔
یہ لاوا اٹھارہ کروڑ عوام کے ذہنوں میں عشروں سے پک رہا ہے جو اب پھٹنے کو ہے، یہ کارنامہ طاہر القادری کا نہیں خود ان سیاستدانوں کا ہے جو عوام کو 65 سال سے مسلسل دھوکا دے رہے ہیں، 65 سال سے عوام کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے ہیں، طاہر القادری نے تو عوام کی نبض اور سیاستدانوں کی دکھتی رگ پر صرف ہاتھ رکھا ہے۔
میں طاہر القادری پر لگائے جانے والے ہر الزام کو درست مان لیتا ہوں لیکن میں یہ الزام ہر گز نہیں مانتا کہ سارے ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی، اضطراب، نفرت، اشتعال طاہر القادری کا پیدا کردہ ہے۔ طاہر القادری نے تو اس بے چینی، اضطراب، اس اشتعال کو زبان دی ہے، رخ اور سمت دی ہے، لیکن میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ طاہر القادری جس طرح اس بحران کا حل ڈھونڈ رہے ہیں وہ نہ درست ہے نہ اس لانگ مارچ کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے۔
مجھے قادری صاحب کے اس دعوے سے بھی اتفاق نہیں کہ وہ چالیس لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لے جائیں گے، میں حیران ہوں کہ اگر قادری صاحب چالیس لاکھ کے بجائے صرف چار لاکھ لوگوں کو بھی اسلام آباد لے جائیں گے تو یہ ہجوم وہاں کیا کرے گا، کب تک رہے گا، کیسے رہے گا اور کیا حاصل کرے گا، مجھے اس بات پر بھی حیرت ہے کہ پنجاب اور مرکز کے حکمران اس لانگ مارچ کو روکنے کے انتہائی احمقانہ اور بچکانہ طریقے اختیار کر رہے ہیں، خاص طور پر ہمارے وزیر داخلہ۔ میں حیران ہوں کہ ہمارے حکمران، ہماری اپوزیشن اس بحران کا کوئی مثبت حل ڈھونڈنے کے بجائے طاہر القادری کو ٹارگٹ کر رہی ہے۔
جب تک یہ مائنڈ سیٹ یہ انداز فکر تبدیل نہیں ہوگا، جب تک یہ سب، یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ یہ بھونچال نہ اچانک پیدا ہوا ہے نہ اس کا ذمے دار طاہر القادری ہے بلکہ اس کے ذمے دار وہ سیاستدان، وہ فوجی حکمران ہیں جو 65 سال سے اس ملک پر تجربے کر رہے ہیں، لوٹ مار کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور عوام کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے ہیں۔اس حوالے سے ان مطالبات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جو طاہر القادری نے پیش کیے ہیں، جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ، انتخابی اصلاحات، کرپشن کا خاتمہ، خاندانی حکمرانیوں کا بوریا بستر لپیٹنا وغیرہ ان مطالبات میں سے ایک مطالبہ بھی غلط نہیں بلکہ یہ سارے مطالبات درست اور عوام کے دل کی آواز ہیں۔
طاہر القادری کو گرفتار کر کے، ان کے راستے میں مشکلات پیدا کر کے، جمہوریت کی گاڑی کو ڈی ریل کرنے اور انتخابات کو ملتوی کرانے کے الزامات لگا کر ہو سکتا ہے حکمران اور سیاستدان اس بحران کو ٹالنے میں وقتی طور پر کامیاب ہو جائیں لیکن یہ لاوا جلد یا بدیر پھٹے گا اور ان سب کو بہا لے جائے گا جو عوام کے مجرم ہیں، عوام کی زندگی کو جہنم بنانے کے ذمے دار ہیں۔ طاہر القادری چلا جائے گا تو کوئی دوسرا طاہر القادری آ جائے گا، یہ لانگ مارچ ناکام بنا دیا جائے گا تو اس سے بڑا لانگ مارچ ملک کے ہر شہر، ہر گاؤں سے برآمد ہو گا اور ظالموں کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔
ملک میں خیبر سے کراچی تک اندر ہی اندر جو لاوا پک رہا ہے اس کے اصل محرکات پاکستان کی تاریخ کی بدترین مہنگائی ہے، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے جس کی وجہ سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے، صنعتوں کا، ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہو گیا ہے، کرپشن کا طوفان ہے جس نے ملک کی اسّی فیصد دولت کو مٹھی بھر اشرافیہ کی مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ خاندانی سیاست، خاندانی حکمرانی کا نظام ہے جس نے عام با صلاحیت، مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے سیاست میں آنے اور آگے بڑھنے کے سارے راستے روک دیے ہیں۔ انتخابات کا اشرافیائی نظام ہے جس میں شرکت کا عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کا طوفان ہے جس نے ہر شہری کو غیر محفوظ کر دیا ہے، جاگیرداری نظام ہے جس کے ذریعے قانون ساز اداروں، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
ہمارے سیاسی اوتار کہہ رہے ہیں کہ ان سارے مسائل کا حل انتخابات اور صرف انتخابات ہیں۔ یہ لوگ اقتدار کی بھوک میں اس قدر اندھے ہو گئے ہیں کہ انتخابات کو ان سنگین اور انتہائی گمبھیر مسائل کا حل بتا رہے ہیں۔ انتخابات کے آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونے کو ایک بہت بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں، لیکن اس تلخ حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ 2013ء کے ممکنہ انتخابات میں کوئی پارٹی اتنی نشستیں حاصل کر ہی نہیں سکتی کہ وہ اکیلی حکومت بنائے، ایک کمزور اجتماع زرین کی مخلوط حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ حکومتیں ملک کو درپیش مندرجہ بالا مسائل حل کر سکیں۔
آج ''جمہوریت بچانے'' کے لیے ایک دوسرے کی دشمن سیاسی جماعتیں جس یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہیں یہ یکجہتی انتخابی نتائج کے فوری بعد اقتدار میں زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کی لڑائی میں مصروف ہو جائے گی یا اپوزیشن کی حیثیت سے حکومت کی ٹانگیں کھینچنے کی روایتی مہم پر لگ جائے گی، اگر یہ صورت حال پیدا ہو گئی تو وہ لاوا جو آج نہ پھٹ سکا کل اس بری طرح پھٹ جائے گا کہ ظلم و استحصال کا ہر نشان مٹ جائے گا۔
ہمارے سیاسی اکابرین لانگ مارچ کو روکنے کے لیے خودکش حملوں، سانپوں، بچھوؤں، کڑاکے کی سردی، کنٹینروں، میڈیائی حملوں وغیرہ کے جو حربے استعمال کر رہے ہیں ہو سکتا ہے ان حربوں کے ذریعے وقتی طور پر اس طوفان کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں جو سامنے کھڑا ہے، لیکن اگر تین چار لاکھ مایوس مشتعل اور متنفر عوام بھی اس لانگ مارچ میں شامل ہو جائیں تو یہ ایسا طوفان اٹھا سکتے ہیں جو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔
لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر جو صورت حال آج ہمارے سامنے ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور طاقت کے مراکز، حکومت، اپوزیشن، عدلیہ اور فوج ہر حال میں انتخابات کرانے کا تہیہ کر چکے ہیں، انتخابات کی تمام تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، الیکشن کمیشن کی درخواست پر فوج مدد کے لیے آ چکی ہے۔ کراچی میں گھر گھر ووٹروں کی تصدیق کا کام شروع ہو چکا ہے۔ انتخابی عملے کا انتظام ہو گیا ہے، انتخابی مہم بھی زور و شور سے جاری ہے۔
لیکن لگ یہی رہا ہے کہ ملک ایک بحران سے نکل کر (اگر نکل گیا تو) دوسرے اس سے زیادہ سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے بچنے کا ایک یہی طریقہ نظر آتا ہے کہ ہماری عدلیہ دو فیصلے بلا تاخیر کر دے۔ ایک زرعی اصلاحات کا دوسرے انتخابی اصلاحات کا۔ عدلیہ کے لیے یہ آسانی موجود ہے کہ ان دونوں مسئلوں پر عابد حسن منٹو کی طرف سے پٹیشن موجود ہے بلکہ انتخابی اصلاحات کے بارے میں چیف جسٹس صاحب نے فوری اقدامات کا حکم بھی دے دیا ہے۔ اگر یہ دو کام کر دیے جائیں تو لانگ مارچ کی حامی طاقتیں بھی شاید لانگ مارچ روکنے پر رضامند ہو جائیں۔
اس کے بعد ایک ایسی قومی حکومت قائم کی جائے جو پارلیمان اور پارلیمان سے باہر تمام با اثر جماعتوں، ماہرین معاشیات اور ملک کی کچھ اہم اور اچھی شہرت رکھنے والی شخصیات پر مشتمل ہو اور وہ قومی اور بین الاقوامی اہم مسائل کا تعین کر کے اور ان میں ترجیحات طے کر کے ایک مرحلہ وار شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم حکمت عملی تیار کرے جو تین سال میں اپنی ذمے داریاں پوری کر کے الیکشن کرا دے۔ اس کے علاوہ اس بحران سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
آج ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جس اضطراب، بے چینی، گھٹن اور اشتعال کی فضا بن گئی ہے، اس کی ذمے داری ہمارے حکمراں، اپوزیشن، مذہبی جماعتیں، ہمارے دانشور، اینکرز، اور کالم نگار طاہر القادری پر ڈال رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ آگ اسی مولوی کی لگائی ہوئی ہے جس کا مقصد انتخابات کو ملتوی کرانا ہے، جمہوریت کو ڈی ریل کرنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بے چینی، اضطراب و اشتعال کا واحد حل انتخابات ہیں۔
میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ 23 دسمبر کے مولانا کے جلسے نے یہ بحران پیدا کیا ہے لیکن میں اس حقیقت کو بھی جھٹلا نہیں سکتا کہ آج ہم ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جو بے چینی، اضطراب و اشتعال اور نفرت دیکھ رہے ہیں وہ طاہر القادری کی پیدا کی ہوئی نہیں ہے، یہ ان حکمرانوں، ان سیاستدانوں کی بداعمالیوں، لوٹ مار، مہنگائی، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ، جان و مال کے عدم تحفظ، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کی پیدا کی ہوئی ہے۔
یہ لاوا اٹھارہ کروڑ عوام کے ذہنوں میں عشروں سے پک رہا ہے جو اب پھٹنے کو ہے، یہ کارنامہ طاہر القادری کا نہیں خود ان سیاستدانوں کا ہے جو عوام کو 65 سال سے مسلسل دھوکا دے رہے ہیں، 65 سال سے عوام کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے ہیں، طاہر القادری نے تو عوام کی نبض اور سیاستدانوں کی دکھتی رگ پر صرف ہاتھ رکھا ہے۔
میں طاہر القادری پر لگائے جانے والے ہر الزام کو درست مان لیتا ہوں لیکن میں یہ الزام ہر گز نہیں مانتا کہ سارے ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی، اضطراب، نفرت، اشتعال طاہر القادری کا پیدا کردہ ہے۔ طاہر القادری نے تو اس بے چینی، اضطراب، اس اشتعال کو زبان دی ہے، رخ اور سمت دی ہے، لیکن میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ طاہر القادری جس طرح اس بحران کا حل ڈھونڈ رہے ہیں وہ نہ درست ہے نہ اس لانگ مارچ کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے۔
مجھے قادری صاحب کے اس دعوے سے بھی اتفاق نہیں کہ وہ چالیس لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لے جائیں گے، میں حیران ہوں کہ اگر قادری صاحب چالیس لاکھ کے بجائے صرف چار لاکھ لوگوں کو بھی اسلام آباد لے جائیں گے تو یہ ہجوم وہاں کیا کرے گا، کب تک رہے گا، کیسے رہے گا اور کیا حاصل کرے گا، مجھے اس بات پر بھی حیرت ہے کہ پنجاب اور مرکز کے حکمران اس لانگ مارچ کو روکنے کے انتہائی احمقانہ اور بچکانہ طریقے اختیار کر رہے ہیں، خاص طور پر ہمارے وزیر داخلہ۔ میں حیران ہوں کہ ہمارے حکمران، ہماری اپوزیشن اس بحران کا کوئی مثبت حل ڈھونڈنے کے بجائے طاہر القادری کو ٹارگٹ کر رہی ہے۔
جب تک یہ مائنڈ سیٹ یہ انداز فکر تبدیل نہیں ہوگا، جب تک یہ سب، یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ یہ بھونچال نہ اچانک پیدا ہوا ہے نہ اس کا ذمے دار طاہر القادری ہے بلکہ اس کے ذمے دار وہ سیاستدان، وہ فوجی حکمران ہیں جو 65 سال سے اس ملک پر تجربے کر رہے ہیں، لوٹ مار کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور عوام کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے ہیں۔اس حوالے سے ان مطالبات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جو طاہر القادری نے پیش کیے ہیں، جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ، انتخابی اصلاحات، کرپشن کا خاتمہ، خاندانی حکمرانیوں کا بوریا بستر لپیٹنا وغیرہ ان مطالبات میں سے ایک مطالبہ بھی غلط نہیں بلکہ یہ سارے مطالبات درست اور عوام کے دل کی آواز ہیں۔
طاہر القادری کو گرفتار کر کے، ان کے راستے میں مشکلات پیدا کر کے، جمہوریت کی گاڑی کو ڈی ریل کرنے اور انتخابات کو ملتوی کرانے کے الزامات لگا کر ہو سکتا ہے حکمران اور سیاستدان اس بحران کو ٹالنے میں وقتی طور پر کامیاب ہو جائیں لیکن یہ لاوا جلد یا بدیر پھٹے گا اور ان سب کو بہا لے جائے گا جو عوام کے مجرم ہیں، عوام کی زندگی کو جہنم بنانے کے ذمے دار ہیں۔ طاہر القادری چلا جائے گا تو کوئی دوسرا طاہر القادری آ جائے گا، یہ لانگ مارچ ناکام بنا دیا جائے گا تو اس سے بڑا لانگ مارچ ملک کے ہر شہر، ہر گاؤں سے برآمد ہو گا اور ظالموں کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔
ملک میں خیبر سے کراچی تک اندر ہی اندر جو لاوا پک رہا ہے اس کے اصل محرکات پاکستان کی تاریخ کی بدترین مہنگائی ہے، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے جس کی وجہ سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے، صنعتوں کا، ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہو گیا ہے، کرپشن کا طوفان ہے جس نے ملک کی اسّی فیصد دولت کو مٹھی بھر اشرافیہ کی مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ خاندانی سیاست، خاندانی حکمرانی کا نظام ہے جس نے عام با صلاحیت، مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے سیاست میں آنے اور آگے بڑھنے کے سارے راستے روک دیے ہیں۔ انتخابات کا اشرافیائی نظام ہے جس میں شرکت کا عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کا طوفان ہے جس نے ہر شہری کو غیر محفوظ کر دیا ہے، جاگیرداری نظام ہے جس کے ذریعے قانون ساز اداروں، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
ہمارے سیاسی اوتار کہہ رہے ہیں کہ ان سارے مسائل کا حل انتخابات اور صرف انتخابات ہیں۔ یہ لوگ اقتدار کی بھوک میں اس قدر اندھے ہو گئے ہیں کہ انتخابات کو ان سنگین اور انتہائی گمبھیر مسائل کا حل بتا رہے ہیں۔ انتخابات کے آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونے کو ایک بہت بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں، لیکن اس تلخ حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ 2013ء کے ممکنہ انتخابات میں کوئی پارٹی اتنی نشستیں حاصل کر ہی نہیں سکتی کہ وہ اکیلی حکومت بنائے، ایک کمزور اجتماع زرین کی مخلوط حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ حکومتیں ملک کو درپیش مندرجہ بالا مسائل حل کر سکیں۔
آج ''جمہوریت بچانے'' کے لیے ایک دوسرے کی دشمن سیاسی جماعتیں جس یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہیں یہ یکجہتی انتخابی نتائج کے فوری بعد اقتدار میں زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کی لڑائی میں مصروف ہو جائے گی یا اپوزیشن کی حیثیت سے حکومت کی ٹانگیں کھینچنے کی روایتی مہم پر لگ جائے گی، اگر یہ صورت حال پیدا ہو گئی تو وہ لاوا جو آج نہ پھٹ سکا کل اس بری طرح پھٹ جائے گا کہ ظلم و استحصال کا ہر نشان مٹ جائے گا۔
ہمارے سیاسی اکابرین لانگ مارچ کو روکنے کے لیے خودکش حملوں، سانپوں، بچھوؤں، کڑاکے کی سردی، کنٹینروں، میڈیائی حملوں وغیرہ کے جو حربے استعمال کر رہے ہیں ہو سکتا ہے ان حربوں کے ذریعے وقتی طور پر اس طوفان کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں جو سامنے کھڑا ہے، لیکن اگر تین چار لاکھ مایوس مشتعل اور متنفر عوام بھی اس لانگ مارچ میں شامل ہو جائیں تو یہ ایسا طوفان اٹھا سکتے ہیں جو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔
لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر جو صورت حال آج ہمارے سامنے ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور طاقت کے مراکز، حکومت، اپوزیشن، عدلیہ اور فوج ہر حال میں انتخابات کرانے کا تہیہ کر چکے ہیں، انتخابات کی تمام تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، الیکشن کمیشن کی درخواست پر فوج مدد کے لیے آ چکی ہے۔ کراچی میں گھر گھر ووٹروں کی تصدیق کا کام شروع ہو چکا ہے۔ انتخابی عملے کا انتظام ہو گیا ہے، انتخابی مہم بھی زور و شور سے جاری ہے۔
لیکن لگ یہی رہا ہے کہ ملک ایک بحران سے نکل کر (اگر نکل گیا تو) دوسرے اس سے زیادہ سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے بچنے کا ایک یہی طریقہ نظر آتا ہے کہ ہماری عدلیہ دو فیصلے بلا تاخیر کر دے۔ ایک زرعی اصلاحات کا دوسرے انتخابی اصلاحات کا۔ عدلیہ کے لیے یہ آسانی موجود ہے کہ ان دونوں مسئلوں پر عابد حسن منٹو کی طرف سے پٹیشن موجود ہے بلکہ انتخابی اصلاحات کے بارے میں چیف جسٹس صاحب نے فوری اقدامات کا حکم بھی دے دیا ہے۔ اگر یہ دو کام کر دیے جائیں تو لانگ مارچ کی حامی طاقتیں بھی شاید لانگ مارچ روکنے پر رضامند ہو جائیں۔
اس کے بعد ایک ایسی قومی حکومت قائم کی جائے جو پارلیمان اور پارلیمان سے باہر تمام با اثر جماعتوں، ماہرین معاشیات اور ملک کی کچھ اہم اور اچھی شہرت رکھنے والی شخصیات پر مشتمل ہو اور وہ قومی اور بین الاقوامی اہم مسائل کا تعین کر کے اور ان میں ترجیحات طے کر کے ایک مرحلہ وار شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم حکمت عملی تیار کرے جو تین سال میں اپنی ذمے داریاں پوری کر کے الیکشن کرا دے۔ اس کے علاوہ اس بحران سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔