لاجسٹک مسائل آم کی برآمد کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں رہا
فروغ پر عدم توجہ، شپنگ کمپنیوں اور پی آئی اے کا عدم تعاون اورایران پرعالمی پابندیاں اہم وجوہ ہیں، ایکسپورٹرز
برآمد میں مسائل ، فروغ پر عدم توجہ، شپنگ کمپنیوں اور پی آئی اے کا عدم تعاون اورایران پرعالمی پابندیاں اہم وجوہ ہیں، ایکسپورٹرز۔ فائل فوٹو
PESHAWAR:
پاکستان کیلیے آم کی برآمد کا ہدف مسلسل دوسرے سال بھی حاصل نہیں ہوسکے گا،ڈیڑھ لاکھ ٹن کے ہدف کوپوراکرنے کیلیے اب تک ایک لاکھ ٹن آم برآمدہونا تھاتاہم 2 ماہ کے دوران صرف 27ملین ڈالر کا 73ہزارٹن آم برآمدکیاگیاہے،آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل امپورٹرز ایکسپورٹرزاینڈمرچنٹس ایسوسی ایشن کے شریک چیئرمین وحیداحمدکے مطابق آم کی برآمدکا1.5لاکھ ٹن کاہدف پوراکرنامشکل ہے،دوماہ میں66فیصدہدف پوراکرنا تھاتاہم اب تک صرف50فیصدہدف ہی بمشکل پوراہواہے،آم کی برآمدکاسیزن ستمبرکے اوائل تک جاری رہیگا جس میںمشکل سے25ہزار ٹن آم مزیدبرآمدکیاجائے گا۔
اس طرح رواںسال آم کی برآمد ایک لاکھ ٹن کے آس پاس ہی رہنے کا خدشہ ہے،وحید احمد کے مطابق آم کی برآمدمیںلاجسٹک کے مسائل سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، انھوں نے کہاکہ برآمد میں حائل مشکلات کو دور نہ کرنا، ایکسپورٹ بڑھانے کیلیے کوششوں کا فقدان شپنگ کمپنیوں اور پی آئی اے کی جانب سے عدم تعاون اورایران پر عائد عالمی پابندیاں اس ناکامی کی اہم وجوہ میں شامل ہیں، انھوں نے بتایا کہ شپنگ کمپنیوں اور قومی ایئرلائن کی ناکافی سہولتوں اور غیرذمے دارانہ طرز عمل سے آم کی برآمدکوشدیدنقصان پہنچاہے۔
اسی طرح کسٹم کی سطح پر اے این ایف کے ذریعے پھلوںکی کنسائمنٹ کی100فیصدجانچ سے ایکسپورٹ آرڈرز تاخیرکا شکارہوئے اورمعیار متاثر ہوا، اس کے نتیجے میں برآمدی آرڈرز میںکمی ہوگئی، وحید احمد نے شکایت کی کہ متعدد مرتبہ شپنگ کمپنیاںپاکستانی آم کی کنسائمنٹ پورٹ پرچھوڑکرچلی گئیں، دبئی کیلیے ایک بڑی کنسائمنٹ مسقط پہنچادی گئی،دوسری جانب قومی ایئرلائن کے حکام بالا سے بارہا اپیلوں کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوسکی قومی ایئرلائن کے پاس ایئرکارگوکیلیے پیلیٹ اورکنٹینرز نہ ہونے کی وجہ سے کنسائمنٹ متاثرہوئیں، قومی ایئرلائن کی بہت سے شپمنٹس کراچی سے لوڈ کرکے دیگرشہروںمیںآف لوڈکردی گئیںاورفضائی راستے سے آم کی ایکسپورٹ میں 30فیصد تک کمی کاسامنا کرناپڑا۔
انھوں نے کہا کہ ایران پر عالمی پابندیاں اور پاکستانی بینکوں کا ایرانی بینکوں سے لین دین سے انکار بھی آم کی برآمد میں کمی کی اہم وجہ ہے، ایران پاکستانی آم کی 30ہزار ٹن کی منڈی ہے جو عالمی پابندیوں کے نتیجے میں ہاتھ سے نکل گئی، رواں سال جنوبی کوریا نے پاکستان کو آم برآمد کرنے کی اجازت دی تاہم کمرشل بنیادوں پر اسے آم برآمد نہیںہوسکا،اسی طرح گزشتہ سال کھلنے والی جاپان اور امریکا کی منڈیوں کو بھی کمرشل ایکسپورٹ نہیں ہوسکی،ویچ ایچ ٹی پلانٹ نصب نہ ہونے سے جاپان کی منڈی جو قیمت کے لحاظ سے اہم ہے بدستور بند رہی۔
امریکا کے لیے آم کی کنسائمنٹ کی شکاگو میں اری ڈیشن کی شرط کے باعث امریکاکو بھی خاطر خواہ مقدار میں آم برآمد نہ ہوسکا،اس سال آم کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے کوئی بڑی پروموشن نہ ہوسکی، فروٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھارت میں پاکستانی آم کی تشہیر کے لیے فیسٹیول کے انعقاد اور تجارتی وفد کے دورے کی تجویز وزارت تجارت کو پیش کی جو منظور نہیں ہوسکی، اس تجویز کی منظوری سے رواں سیزن ہی بھارت کو 15ہزار ٹن آم برآمد ہونے کی امید تھی جو پوری نہ ہوسکی، وحید احمد کے مطابق آم کی نئی منڈیوںکو مستحکم کرنے کیلیے لاجسٹکس کے مسائل کا حل بہت ضروری ہے، انھوں نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں پر مشتمل خصوصی لائژن کمیٹی کے قیام سے شپنگ اور ایئرلائنز کے مسائل ختم کیے جاسکتے ہیں۔
پاکستان کیلیے آم کی برآمد کا ہدف مسلسل دوسرے سال بھی حاصل نہیں ہوسکے گا،ڈیڑھ لاکھ ٹن کے ہدف کوپوراکرنے کیلیے اب تک ایک لاکھ ٹن آم برآمدہونا تھاتاہم 2 ماہ کے دوران صرف 27ملین ڈالر کا 73ہزارٹن آم برآمدکیاگیاہے،آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل امپورٹرز ایکسپورٹرزاینڈمرچنٹس ایسوسی ایشن کے شریک چیئرمین وحیداحمدکے مطابق آم کی برآمدکا1.5لاکھ ٹن کاہدف پوراکرنامشکل ہے،دوماہ میں66فیصدہدف پوراکرنا تھاتاہم اب تک صرف50فیصدہدف ہی بمشکل پوراہواہے،آم کی برآمدکاسیزن ستمبرکے اوائل تک جاری رہیگا جس میںمشکل سے25ہزار ٹن آم مزیدبرآمدکیاجائے گا۔
اس طرح رواںسال آم کی برآمد ایک لاکھ ٹن کے آس پاس ہی رہنے کا خدشہ ہے،وحید احمد کے مطابق آم کی برآمدمیںلاجسٹک کے مسائل سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، انھوں نے کہاکہ برآمد میں حائل مشکلات کو دور نہ کرنا، ایکسپورٹ بڑھانے کیلیے کوششوں کا فقدان شپنگ کمپنیوں اور پی آئی اے کی جانب سے عدم تعاون اورایران پر عائد عالمی پابندیاں اس ناکامی کی اہم وجوہ میں شامل ہیں، انھوں نے بتایا کہ شپنگ کمپنیوں اور قومی ایئرلائن کی ناکافی سہولتوں اور غیرذمے دارانہ طرز عمل سے آم کی برآمدکوشدیدنقصان پہنچاہے۔
اسی طرح کسٹم کی سطح پر اے این ایف کے ذریعے پھلوںکی کنسائمنٹ کی100فیصدجانچ سے ایکسپورٹ آرڈرز تاخیرکا شکارہوئے اورمعیار متاثر ہوا، اس کے نتیجے میں برآمدی آرڈرز میںکمی ہوگئی، وحید احمد نے شکایت کی کہ متعدد مرتبہ شپنگ کمپنیاںپاکستانی آم کی کنسائمنٹ پورٹ پرچھوڑکرچلی گئیں، دبئی کیلیے ایک بڑی کنسائمنٹ مسقط پہنچادی گئی،دوسری جانب قومی ایئرلائن کے حکام بالا سے بارہا اپیلوں کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوسکی قومی ایئرلائن کے پاس ایئرکارگوکیلیے پیلیٹ اورکنٹینرز نہ ہونے کی وجہ سے کنسائمنٹ متاثرہوئیں، قومی ایئرلائن کی بہت سے شپمنٹس کراچی سے لوڈ کرکے دیگرشہروںمیںآف لوڈکردی گئیںاورفضائی راستے سے آم کی ایکسپورٹ میں 30فیصد تک کمی کاسامنا کرناپڑا۔
انھوں نے کہا کہ ایران پر عالمی پابندیاں اور پاکستانی بینکوں کا ایرانی بینکوں سے لین دین سے انکار بھی آم کی برآمد میں کمی کی اہم وجہ ہے، ایران پاکستانی آم کی 30ہزار ٹن کی منڈی ہے جو عالمی پابندیوں کے نتیجے میں ہاتھ سے نکل گئی، رواں سال جنوبی کوریا نے پاکستان کو آم برآمد کرنے کی اجازت دی تاہم کمرشل بنیادوں پر اسے آم برآمد نہیںہوسکا،اسی طرح گزشتہ سال کھلنے والی جاپان اور امریکا کی منڈیوں کو بھی کمرشل ایکسپورٹ نہیں ہوسکی،ویچ ایچ ٹی پلانٹ نصب نہ ہونے سے جاپان کی منڈی جو قیمت کے لحاظ سے اہم ہے بدستور بند رہی۔
امریکا کے لیے آم کی کنسائمنٹ کی شکاگو میں اری ڈیشن کی شرط کے باعث امریکاکو بھی خاطر خواہ مقدار میں آم برآمد نہ ہوسکا،اس سال آم کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے کوئی بڑی پروموشن نہ ہوسکی، فروٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھارت میں پاکستانی آم کی تشہیر کے لیے فیسٹیول کے انعقاد اور تجارتی وفد کے دورے کی تجویز وزارت تجارت کو پیش کی جو منظور نہیں ہوسکی، اس تجویز کی منظوری سے رواں سیزن ہی بھارت کو 15ہزار ٹن آم برآمد ہونے کی امید تھی جو پوری نہ ہوسکی، وحید احمد کے مطابق آم کی نئی منڈیوںکو مستحکم کرنے کیلیے لاجسٹکس کے مسائل کا حل بہت ضروری ہے، انھوں نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں پر مشتمل خصوصی لائژن کمیٹی کے قیام سے شپنگ اور ایئرلائنز کے مسائل ختم کیے جاسکتے ہیں۔