ہفتہ رفتہ پھٹی کی رسد میں اضافہ کاٹن مارکیٹس میں مندی

سودوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث برآمدات رکنے کاخدشہ،کثیر زر مبادلہ پاکستان کے ہاتھ سے نکل سکتاہے،جنرز/بروکرز


Ehtisham Mufti July 30, 2012
سودوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث برآمدات رکنے کاخدشہ،کثیر زر مبادلہ پاکستان کے ہاتھ سے نکل سکتاہے،جنرز/بروکرز۔ فائل فوٹو

پاکستان سے مختلف ممالک کے لیے روئی کے برآمدی سودوں کی ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے رجسٹریشن شروع نہ ہونے اور بین الاقوامی سطح پرروئی کی قیمت میں کمی کے اثرات گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے، گزشتہ ہفتے کے دوران پھٹی کی رسد میں اضافے ، ٹیکسٹائل واسپننگ ملوں اور برآمدی شعبوں کی خریداری میں عدم دلچسپی کے سبب مارکیٹ مندی سے دوچار رہی جس سے فی من روئی کی قیمت میں 200 تا300 روپے کی کمی واقع ہوئی۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بھارت میں کپاس کی نئی فصل نہ آنے کے باعث بھارتی روئی درآمد کنندگان کی جانب سے پاکستان سے روئی درآمد کرنے میں غیر معمولی دلچسپی کے پیش نظر توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان سے ملکی تاریخ میں پہلی بار جولائی اگست کے دوران بھارت کو بڑے پیمانے پر روئی کی برآمد شروع ہوجائے گی اور عملی طور پر پاکستانی کاٹن ایکسپورٹرز نے بھارت سے ابتدائی طور پر تقریباً ایک ہزار ٹن روئی کے برآمدی معاہدوں کو بھی حتمی شکل دیدی تھی لیکن ٹی ڈی اے پی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ستمبر 2009ء میں جاری ہونے والی تجارتی پالیسی کو غیر موثر قرار دے کر روئی کے برآمدی سودوں کے رجسٹریشن کرنے سے انکار کردیا۔

جبکہ ایس آر او 767(I) کے تحت 4 ستمبر 2009ء میں جاری ہونیوالی تجارتی پالیسی میں کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ یہ پالیسی 3 سال تک قابل عمل رہے گی لیکن اس کے باوجود ٹی ڈیپ کی جانب سے روئی کے برآمدی سودوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ اس سے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مزید مندی کا رجحان سامنے آنے کے ساتھ ساتھ پاکستان لاکھوں ملین ڈالر زر مبادلہ سے بھی محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسی ٹریڈ پالیسی کے تحت سوتی دھاگے سمیت باقی اشیاء کی برآمد متواتر جاری ہے لیکن غیر متوقع طور پر روئی کی برآمدی سودوں کی رجسٹریشن نہیں کی جارہی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت تجارت کی جانب سے اب 31 اگست کو نئی تجارتی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لئے اسلام آباد میں ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جس کے بعد ستمبر کے پہلے ہفتے میں نئی تجارتی پالیسی کا اعلان متوقع ہے۔ احسان الحق نے مزید بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کے وائس چیئرمین کا عہدہ پرائیویٹ سیکٹر کو دیا گیا ہے اور اپٹما کے سابق وائس چئرمین کو اس کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جس سے توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ ملک بھر میں کپاس بارے حقیقی معنوں میں تحقیقی عمل شروع ہونے سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں آئندہ کچھ عرصہ کے دوران خاطر خواہ اضافہ سا منے آئے گا۔

یاد رہے کہ کپاس کی تحقیق کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق کرنے کے لئے اپٹما نے کاٹن سیس 20 روپے فی بیل سے بڑھا کر 50 روپے فی بیل دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پنجاب میں روئی کی قیمتیں 300 فی من مندی جبکہ سندھ میں 200 روپے فی من مندی کے بعد 5700 روپے فی من تک گرگئیں جبکہ نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 2.11 فیصد کمی کے بعد 83.45 سینٹ فی پائونڈ' اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے 1.85 فیصد مندی کے بعد 70.73 سینٹ فی پائونڈ' چائنا میں 1.75 فیصد کمی کے بعد 18ہزار 510 یوآن فی ٹن' بھارت میں 300 روپے فی کینڈی کمی کے بعد 37 ہزار 500 روپے فی کینڈی تک گرگئیں۔

جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے بھی گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں مندی کے رجحان کے باعث روئی کی سپاٹ ریٹ 200 روپے فی من مندی کے بعد 5ہزار 600 روپے فی من تک گر گئے انہوں نے مزید بتایا کہ بعض پاکستانی ٹیکسٹائل ملز نے پچھلے کچھ عرصہ سے برازیل اور مغربی افریقی ممالک سے آلودگی سے پاک روئی کی درآمد بھی شروع کر دی ہے جو اسی سے بیاسی سینٹ فی پائونڈ کے حساب سے درآمد کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2012-13ء میں دنیا بھر میں کپاس کی قیمتوں میں تیزی یا مندی کا رجحان چائنا کی جانب سے اسٹریٹیجک ریزروز کیلئے نئی روئی کی خریداری' پرانے ریزروز میں پڑی ہوئی روئی کی فروخت اور بھارت کی جانب سے روئی کی برآمدی پالیسی کے حتمی فیصلوں کے بعد سامنے آئے گا۔

اگر چائنا کی جانب سے پرانے ریزروز سے روئی کی فروخت کا فیصلہ سامنے آیا تو اس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان سامنے آنے کا خدشہ ہے، کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ اس سال پھٹی کی رسد تسلی بخش ہے۔ صوبہ سندھ و پنجاب میں تقریباً 160 جننگ فیکٹریاں شروع ہوچکی ہیں۔ روزانہ تقریباً 18 تا 20 ہزار گانٹھوں کی آمد ہورہی ہے تاحال 31 جولائی تک تقریباً 3 لاکھ گانٹھوں کی آمد ہوگی جو ایک ریکارڈ ہے۔ نسیم عثمان کے مطابق بھارت میں بارشوں میں تاخیر کے سبب بھارت اور بنگلہ دیش کے ٹیکسٹائل واپنگ ملز نے پاکستان سے روئی کی درآمد شروع کردی ہے تاحال بھارت اور بنگلہ دیش کو پاکستان کے کپاس کے برآمد کنندگان نے تقریباً روئی 25 تا 30 ہزار گانٹھیں فروخت کی ہیں تاہم TDAP نے برآمدی اجازت نامہ جاری نہیں کیا جس کے باعث رکاوٹ ہورہی ہے۔

مقبول خبریں