الیکشن کمیشن کا فیصلہ اور جمہوری حکمرانوں کی بے بسی
جمہوریت کی تعریف یہی کی جاتی ہے کہ یہ ایک عوامی حکومت ہوتی ہے جو عوام اپنے لیے بناتے ہیں
msuherwardy@gmail.com
ISLAMABAD:
جمہوریت کی تعریف یہی کی جاتی ہے کہ یہ ایک عوامی حکومت ہوتی ہے جو عوام اپنے لیے بناتے ہیں۔ اس میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہوتے ہیں۔ ووٹ اس کی بنیاد کہی جاتی ہے۔ دوسری طرف آمریت طاقت سے حکومت کے حصول کا طریقہ کار ہے۔ لیکن دوسری طرف میرے ایک دوست کا موقف ہے کہ حکمران تو حکمران ہو تا ہے۔ اس میں جمہوری اور غیر جمہوری کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق جمہوری حکمران ہر وقت غیر جمہوری حکمران بننے کی خواہش میں رہتا ہے جب کہ غیر جمہوری حکمران ہر وقت جمہوری حکمران بننے کی کوشش میں رہتا۔ اسی کوشش میں یہ دونوں اپنے اصل سے دور ہو جاتے ہیں اور ان کی چھٹی ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا یہ کیا بات ہوئی اس نے کہا کہ ہر آمر جمہوری بننے کے چکر میں جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگا کر اچھی بھلی آمر یت کو آلودہ کر دیتا ہے۔ جب کہ اچھا بھلا جمہوری حکمران ایک آمر بننے کی خواہش میں جمہوریت سے دور ہو جاتا ہے اور اس کی بھی چھٹی ہو جاتی ہے۔
تا ہم میرے سیاسی فلسفہ کے ماہر دوست کا موقف ہے کہ یہ دنیا ایک جنگل ہے بلکہ یہ غلط ہے کہ انسان پہلے بندر تھا بلکہ انسان اب بھی بندر ہے تا ہم اس نے تھوڑی بہت شکل بدل لی ہے۔ جمہوری طرز حکومت ہی دیکھ لو۔ جمہوری میں عوام اپنی مرضی سے ایک شخص کو اپنا سربراہ چن لیتے ہیں جب کہ آمریت میں طاقتور محض اپنی طاقت کے سر پر حکمران بن جاتا ہے۔ سیاسی فلسفہ کے ماہر میرے اس دوست کا موقف ہے کہ جمہوری دنیا میں جسے اکثریت اپنا جمہوری حکمران بناتی ہے ۔ اس سے لڑ نے کی صلاحیت چھین لیتے ہیں۔ اس کے ناخن کاٹ دیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے مدمقابل پر حملہ کرنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا۔ جب کہ اپوزیشن کو یہ اجازت ہوتی ہے بلکہ کئی مواقع پرتو اس جمہوری حکمران کو اپنا دفاع کا حق بھی نہیں ہو تا۔ جب کہ آمریت میں طاقتور سب پر حملہ کرنے کی بھر پور طاقت رکھتا ہے۔
میرے لیے یہ فلسفہ سمجھنا مشکل تھا۔ اور میں اس کو اکثر مذاق ہی سمجھتاتھا۔ تا ہم گزشتہ روز میرے فلسفی دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے آ ج میرے فلسفہ کا عملی مظاہرہ ہو گیا ۔ میں نے کہا کیسے ۔ اس نے کہا الیکشن کمیشن کا عمران خان کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ اس کی عمدہ مثال ہے۔ میں نے کہا وہ کیسے اس نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنے خلاف اسپیکر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس سے یہ کہہ کرجان چھڑائی ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ حکمران جما عت کو اس ریفرنس سے بہت امیدیں تھیں۔ جو دم توڑ گئی ہیں۔ میں نے کہا کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہو گا۔ الیکشن کمیشن نے قانون کے اندر رہ کر ہی ریفرنس کی سماعت کرنی تھی۔ ہم قانون کے ماتحت ہیں قانون ہمارے ماتحت نہیں۔
لیکن میرے دوست نے کہا کہ اگر یہی ریفرنس میاں نواز شریف کے خلاف ہو تا ۔ اور میاں نواز شریف الیکشن کمیشن کے سامنے یہ موقف رکھتے کہ الیکشن کمیشن کے پاس ان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کا اختیار نہیں ہے تو اپوزیشن شور مچا دیتی کہ نواز شریف نے تلاشی دینے سے انکارکیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ الیکشن کمیشن تب بھی میاں نواز شریف کو بری کر دیتا تب اپوزیشن الیکشن کمیشن کے خلاف نہ صرف سڑکوں پر نکل آتی بلکہ حکومت کے خلاف بھی تحریک چلاتی۔ لیکن یہ جمہوریت کا حسن ہے حکمران الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر سڑکوں پر نہیں آسکتے۔ کوئی لانگ مارچ نہیں کر سکتے۔ الیکشن کمیشن کے دفاتر کا گھیراؤ نہیں کر سکتے۔ جلسہ نہیں کر سکتے جلوس نہیں کر سکتے۔بلکہ تنقید بھی ایک حد سے زیادہ نہیں کی جا سکتی۔ ورنہ حکومت اور الیکشن کمیشن کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر کو سیاسی اجتماعات میں للکارا نہیں جا سکتا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ جمہور ی حکمران کے ناخن نہیں ہو تے۔ حملہ تو دور کی بات وہ تو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنی تلاشی نہیں دی۔لیکن وہ وزیر اعظم کی تلاشی لے رہے ہیں۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت میں جب ن لیگ کے سپر اسٹار روز پیپلزپارٹی پر حملہ کرتے تھے اور جواب میں پیپلزپارٹی خاموش رہتی تھی تو یہ کہا جاتا تھا کہ پیپلزپارٹی اپنا نقصان کر رہی ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ آصف زرداری کی مفاہمت کی پالیسی نے پیپلزپارٹی کا سیاسی جنازہ نکال دیا ہے۔ خاموشی اور جواب نہ دینے کی پالیسی نے پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ شاید اسی لیے ن لیگ نے دانیال عزیز طلال چوہدری پر مشتمل ایک ٹیم بنائی جو ان کے مخالفین کو ان کی زبان میں جواب دے سکے۔ لیکن اس کو بھی جمہوریت کا حسن ہی کہا جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف نے خود براہ راست جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ن لیگ کی ٹیم نے اپوزیشن کے حملوں کا جواب دیا ہے لیکن اس ٹیم کا سیاسی قد حملہ کرنیو الوں کے جواب میں چھوٹا ہے۔ عمران خان کی بات کا جواب دانیال عزیز دیں تو جواب کم رہ جاتا ہے۔ لیکن جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ وزیر اعظم خاموش رہیں۔ اس لیے خاموش ہیں۔ جمہوری حکومت حالات کو ٹھیک رکھنے کی کوشش میں رہتی ہے جب کہ اپوزیشن حالات کو خراب کرنے کی کوشش میں رہتی ہے۔ اس طرح دونوں قوتیں مخالف سمت میں ہی زور لگا رہی ہوتی ہیں۔
عمران خان نے تلاشی نہ دیکر کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر وزیر اعظم تلاشی نہ دے تو معافی نہیں ہے۔ عمران خان یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ قانونی سقم کا سہارا لے کر تلاشی دینے سے بچ سکتے ہیں ۔ تا ہم وزیر اعظم جائز قانونی حق استعمال کر بھی تلاشی سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ وزیر اعظم عدالت کا دائرہ اختیار بھی چیلنج نہیں کر سکتے۔ انھیں اپنے بچوں کو بھی عدالت کے سامنے احتساب کے لیے پیش کرنا ہے ۔ جب کہ دوسری طرف عمران خان سے کچھ بھی پوچھا نہیں جا سکتا ہے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جمہوریت میں حکمران ہر وقت عوام کو ہر سطح پر جوابدہ ہوتے ہیں۔ وہ جواب دینے سے انکار نہیں کر سکتے۔ عوام کے سامنے یہی جوابدہی جمہوریت اور آمریت میں بنیادی فرق ہے۔ جن لوگوں کو پاکستان میں جمہوریت کے فوائد نظر نہیں آرہے وہ یہ بھی دیکھیں کہ ایک طرف پانامہ کا ہنگامہ ہے۔ الیکشن کمیشن میں ریفرنس ہیں۔ اور دوسری طرف پارلیمنٹ میں فوجی عدالتوں پر تعاون بھی جاری ہے لیکن میرا دوست کہتا ہے کہ یہ جمہوریت کا حسن نہیں بلکہ ا س بات کا ثبوت ہے کہ ان سب کو لڑانے اور اکٹھے بٹھانے کی طاقت کہیں اور ہے اور وہ جب چاہیں جن حالات میں چاہیں ان کو اکٹھا بھی بٹھا لیں۔ اور مفاہمت بھی کروالیں۔ یہ فوجی عدالتوں کے قیام پر مفاہمت کوئی جمہوریت کا حسن نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت جمہوریت کے باوجود کہیں اور بھی سرنگوں ہیں ۔
کل تک فوجی عدالتوں کے خلاف لمبی لمبی اے پی سی اور مطالبات رکھنے والوں نے بند کمروں میں کب سرنڈر کیا کسی کو علم ہی نہ وہ سکا۔ یہ مفاہمت کوئی پاکستان کی جمہوریت کا حسن نہیں بلکہ اس کا تاریک پہلو ہے۔کاش سیاسی جماعتیں پہلے دن ہی اس کا ادراک کر لیتی تو اتنی رسوائی نہ ہوتی۔ بھرم ہی رہ جاتا۔ بہر حال یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت ہوئی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کل بھی سیاسی جماعتوں سے اپنی بات منوانے کی صلاحیت رکھتی تھی اور آج بھی رکھتی۔ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت اسٹبلشمنٹ کی سیٹی پر اکٹھے کھڑے ہونے میں دیر نہیں لگاتیں۔
جمہوریت کی تعریف یہی کی جاتی ہے کہ یہ ایک عوامی حکومت ہوتی ہے جو عوام اپنے لیے بناتے ہیں۔ اس میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہوتے ہیں۔ ووٹ اس کی بنیاد کہی جاتی ہے۔ دوسری طرف آمریت طاقت سے حکومت کے حصول کا طریقہ کار ہے۔ لیکن دوسری طرف میرے ایک دوست کا موقف ہے کہ حکمران تو حکمران ہو تا ہے۔ اس میں جمہوری اور غیر جمہوری کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق جمہوری حکمران ہر وقت غیر جمہوری حکمران بننے کی خواہش میں رہتا ہے جب کہ غیر جمہوری حکمران ہر وقت جمہوری حکمران بننے کی کوشش میں رہتا۔ اسی کوشش میں یہ دونوں اپنے اصل سے دور ہو جاتے ہیں اور ان کی چھٹی ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا یہ کیا بات ہوئی اس نے کہا کہ ہر آمر جمہوری بننے کے چکر میں جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگا کر اچھی بھلی آمر یت کو آلودہ کر دیتا ہے۔ جب کہ اچھا بھلا جمہوری حکمران ایک آمر بننے کی خواہش میں جمہوریت سے دور ہو جاتا ہے اور اس کی بھی چھٹی ہو جاتی ہے۔
تا ہم میرے سیاسی فلسفہ کے ماہر دوست کا موقف ہے کہ یہ دنیا ایک جنگل ہے بلکہ یہ غلط ہے کہ انسان پہلے بندر تھا بلکہ انسان اب بھی بندر ہے تا ہم اس نے تھوڑی بہت شکل بدل لی ہے۔ جمہوری طرز حکومت ہی دیکھ لو۔ جمہوری میں عوام اپنی مرضی سے ایک شخص کو اپنا سربراہ چن لیتے ہیں جب کہ آمریت میں طاقتور محض اپنی طاقت کے سر پر حکمران بن جاتا ہے۔ سیاسی فلسفہ کے ماہر میرے اس دوست کا موقف ہے کہ جمہوری دنیا میں جسے اکثریت اپنا جمہوری حکمران بناتی ہے ۔ اس سے لڑ نے کی صلاحیت چھین لیتے ہیں۔ اس کے ناخن کاٹ دیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے مدمقابل پر حملہ کرنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا۔ جب کہ اپوزیشن کو یہ اجازت ہوتی ہے بلکہ کئی مواقع پرتو اس جمہوری حکمران کو اپنا دفاع کا حق بھی نہیں ہو تا۔ جب کہ آمریت میں طاقتور سب پر حملہ کرنے کی بھر پور طاقت رکھتا ہے۔
میرے لیے یہ فلسفہ سمجھنا مشکل تھا۔ اور میں اس کو اکثر مذاق ہی سمجھتاتھا۔ تا ہم گزشتہ روز میرے فلسفی دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے آ ج میرے فلسفہ کا عملی مظاہرہ ہو گیا ۔ میں نے کہا کیسے ۔ اس نے کہا الیکشن کمیشن کا عمران خان کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ اس کی عمدہ مثال ہے۔ میں نے کہا وہ کیسے اس نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنے خلاف اسپیکر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس سے یہ کہہ کرجان چھڑائی ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ حکمران جما عت کو اس ریفرنس سے بہت امیدیں تھیں۔ جو دم توڑ گئی ہیں۔ میں نے کہا کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہو گا۔ الیکشن کمیشن نے قانون کے اندر رہ کر ہی ریفرنس کی سماعت کرنی تھی۔ ہم قانون کے ماتحت ہیں قانون ہمارے ماتحت نہیں۔
لیکن میرے دوست نے کہا کہ اگر یہی ریفرنس میاں نواز شریف کے خلاف ہو تا ۔ اور میاں نواز شریف الیکشن کمیشن کے سامنے یہ موقف رکھتے کہ الیکشن کمیشن کے پاس ان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کا اختیار نہیں ہے تو اپوزیشن شور مچا دیتی کہ نواز شریف نے تلاشی دینے سے انکارکیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ الیکشن کمیشن تب بھی میاں نواز شریف کو بری کر دیتا تب اپوزیشن الیکشن کمیشن کے خلاف نہ صرف سڑکوں پر نکل آتی بلکہ حکومت کے خلاف بھی تحریک چلاتی۔ لیکن یہ جمہوریت کا حسن ہے حکمران الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر سڑکوں پر نہیں آسکتے۔ کوئی لانگ مارچ نہیں کر سکتے۔ الیکشن کمیشن کے دفاتر کا گھیراؤ نہیں کر سکتے۔ جلسہ نہیں کر سکتے جلوس نہیں کر سکتے۔بلکہ تنقید بھی ایک حد سے زیادہ نہیں کی جا سکتی۔ ورنہ حکومت اور الیکشن کمیشن کے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر کو سیاسی اجتماعات میں للکارا نہیں جا سکتا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ جمہور ی حکمران کے ناخن نہیں ہو تے۔ حملہ تو دور کی بات وہ تو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتا۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنی تلاشی نہیں دی۔لیکن وہ وزیر اعظم کی تلاشی لے رہے ہیں۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت میں جب ن لیگ کے سپر اسٹار روز پیپلزپارٹی پر حملہ کرتے تھے اور جواب میں پیپلزپارٹی خاموش رہتی تھی تو یہ کہا جاتا تھا کہ پیپلزپارٹی اپنا نقصان کر رہی ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ آصف زرداری کی مفاہمت کی پالیسی نے پیپلزپارٹی کا سیاسی جنازہ نکال دیا ہے۔ خاموشی اور جواب نہ دینے کی پالیسی نے پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ شاید اسی لیے ن لیگ نے دانیال عزیز طلال چوہدری پر مشتمل ایک ٹیم بنائی جو ان کے مخالفین کو ان کی زبان میں جواب دے سکے۔ لیکن اس کو بھی جمہوریت کا حسن ہی کہا جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف نے خود براہ راست جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ن لیگ کی ٹیم نے اپوزیشن کے حملوں کا جواب دیا ہے لیکن اس ٹیم کا سیاسی قد حملہ کرنیو الوں کے جواب میں چھوٹا ہے۔ عمران خان کی بات کا جواب دانیال عزیز دیں تو جواب کم رہ جاتا ہے۔ لیکن جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ وزیر اعظم خاموش رہیں۔ اس لیے خاموش ہیں۔ جمہوری حکومت حالات کو ٹھیک رکھنے کی کوشش میں رہتی ہے جب کہ اپوزیشن حالات کو خراب کرنے کی کوشش میں رہتی ہے۔ اس طرح دونوں قوتیں مخالف سمت میں ہی زور لگا رہی ہوتی ہیں۔
عمران خان نے تلاشی نہ دیکر کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر وزیر اعظم تلاشی نہ دے تو معافی نہیں ہے۔ عمران خان یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ قانونی سقم کا سہارا لے کر تلاشی دینے سے بچ سکتے ہیں ۔ تا ہم وزیر اعظم جائز قانونی حق استعمال کر بھی تلاشی سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ وزیر اعظم عدالت کا دائرہ اختیار بھی چیلنج نہیں کر سکتے۔ انھیں اپنے بچوں کو بھی عدالت کے سامنے احتساب کے لیے پیش کرنا ہے ۔ جب کہ دوسری طرف عمران خان سے کچھ بھی پوچھا نہیں جا سکتا ہے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جمہوریت میں حکمران ہر وقت عوام کو ہر سطح پر جوابدہ ہوتے ہیں۔ وہ جواب دینے سے انکار نہیں کر سکتے۔ عوام کے سامنے یہی جوابدہی جمہوریت اور آمریت میں بنیادی فرق ہے۔ جن لوگوں کو پاکستان میں جمہوریت کے فوائد نظر نہیں آرہے وہ یہ بھی دیکھیں کہ ایک طرف پانامہ کا ہنگامہ ہے۔ الیکشن کمیشن میں ریفرنس ہیں۔ اور دوسری طرف پارلیمنٹ میں فوجی عدالتوں پر تعاون بھی جاری ہے لیکن میرا دوست کہتا ہے کہ یہ جمہوریت کا حسن نہیں بلکہ ا س بات کا ثبوت ہے کہ ان سب کو لڑانے اور اکٹھے بٹھانے کی طاقت کہیں اور ہے اور وہ جب چاہیں جن حالات میں چاہیں ان کو اکٹھا بھی بٹھا لیں۔ اور مفاہمت بھی کروالیں۔ یہ فوجی عدالتوں کے قیام پر مفاہمت کوئی جمہوریت کا حسن نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت جمہوریت کے باوجود کہیں اور بھی سرنگوں ہیں ۔
کل تک فوجی عدالتوں کے خلاف لمبی لمبی اے پی سی اور مطالبات رکھنے والوں نے بند کمروں میں کب سرنڈر کیا کسی کو علم ہی نہ وہ سکا۔ یہ مفاہمت کوئی پاکستان کی جمہوریت کا حسن نہیں بلکہ اس کا تاریک پہلو ہے۔کاش سیاسی جماعتیں پہلے دن ہی اس کا ادراک کر لیتی تو اتنی رسوائی نہ ہوتی۔ بھرم ہی رہ جاتا۔ بہر حال یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت ہوئی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کل بھی سیاسی جماعتوں سے اپنی بات منوانے کی صلاحیت رکھتی تھی اور آج بھی رکھتی۔ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت اسٹبلشمنٹ کی سیٹی پر اکٹھے کھڑے ہونے میں دیر نہیں لگاتیں۔