پنجاب کا اگلا آئی جی پولیس کون ہو گا
پنجاب میں یہ بات درست ہے کہ تقرر و تبادلوں میں آئی جی کو وہ فری ہینڈ حاصل نہیں ہے
msuherwardy@gmail.com
یہ 2013 کی بات ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنے پانچ سالہ دور کے اختتام پر آخری پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ ان کی پوری کابینہ اور بیوروکریسی کی مکمل ٹیم ان کے ساتھ بیٹھی تھی۔ الیکشن کا بگل بج چکا تھا۔ اسمبلیاں تحلیل ہو رہی تھیں اور نگران حکومتوں کی تیاری تھی۔ اور وہ اپنے پانچ سالہ دور کی کامیابیوں کی داستان سنا رہے تھے۔
میٹرو کا افتتاح ہو چکا تھا۔ بتانے کو کافی کچھ تھا۔ یہ کہنا غلط نہ تھا کہ مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف کے اسی پانچ سالہ دور کی کارکردگی پر الیکشن لڑنے جا رہی تھی۔ ایسے میں یکدم میں نے ان سے سوال کیا کہ کامیابیاں تو بہت ہیں کیا آپ اپنی سب سے بڑی ناکامی بتائیں گے۔ سب خاموش ہو گئے ۔ میاں شہباز شریف بھی خاموش ہو گئے۔ الیکشن قریب تھا۔ سوال الیکشن میں ایشو بھی بن سکتا تھا۔ لیکن تھوڑی خاموشی کے بعد شہباز شریف نے کہا کہ شدید کوشش کے باوجود میں پنجاب میں تھانہ کلچر نہیں تبدیل کر سکا۔ اسی کو میں اپنی ناکامی سمجھتا ہوں۔ پھرکامیابیوں کا ذکر دوبارہ شروع ہو گیا۔
میں نے یہ واقعہ اس لیے لکھا ہے کہ پولیس میں اصلاحات ایسا نہیں کہ حکمرانوں کی ترجیح نہیں رہی ہیں ۔ لیکن یہ ایسا پیچیدہ اور مشکل کام ہے کہ اچھے اچھے ایڈمنسٹریٹر بھی اس میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس افسران ہی تھانہ کلچر میں تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ وہ پولیس کے اسی نظام میں رچ بس گئے ہوتے ہیں۔ اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے ذہنی طور پر قائل نہیں ہوتے۔ اور پولیس افسران کی مدد کے بغیر پولیس میں اصلاحات ممکن نہیں۔ یہ ایسا محکمہ نہیں ہے جہاں باہر سے افسران لگا کر اصلاحات کو نافذ کر دیا جائے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اپنے پانچ سالہ دور کے اختتام پر شہباز شریف یہ کہہ رہے تھے کہ محکمہ پولیس میں ان کو ایسی ٹیم نہیں ملی جو تھانہ کلچر کی تبدیلی اور پولیس کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے حوالہ سے اصلاحات کر سکتی۔
لیکن یہ بات خوش آیند ہے کہ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کے پی کے میں پولیس اصلاحات کا بہت شور ہے اور اسی طرح شہباز شریف بھی اب اپنی پولیس اصلاحات کو عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ کے پی کے اور پنجاب کی اصلاحات میں بنیادی فرق ہے۔ کے پی کے میں تقرر و تبادلوں میں آئی جی کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ اور اس ایک فیصلہ پر کہا جا رہا ہے کہ اصلاحات کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ عمران خان کا موقف ہے کہ آئی جی کے اختیارات میں اضافہ کے بعد پولیس نہ صرف غیر سیاسی ہو گئی ہے بلکہ اس میں مزید اصلاحات کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ یہی ایک فیصلہ سب پر بھاری ہے۔
دوسری طرف پنجاب میں یہ بات درست ہے کہ تقرر و تبادلوں میں آئی جی کو وہ فری ہینڈ حاصل نہیں ہے۔ یہاں اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے فیصلے وزیر اعلیٰ خود کرتے ہیں۔ عمران خان اس کو پولیس میں سیاسی مداخلت کہتے ہیں ۔ جب کہ رانا ثناء اللہ کا موقف ہے کہ جب امن وامان قائم رکھنے کی ذمے داری حکومت کی ہے ، جب ہم عوام کو جوابدہ ہیں تو افسران بھی ہم لگائیں گے۔ پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لیے پنجاب کے ہر تھانہ میں فرنٹ ڈیسک قائم ہوئے ہیں۔ جن کی اب آئی جی آفس سے سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ ممکن ہے۔
تھانہ میں سائل کے ساتھ ہونے والا سلوک اب کیمرہ میں ریکارڈ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آئی ٹی کی مدد سے پنجاب پولیس میں اہم اصلاحات کی گئی ہیں۔ جن کے نتائج ابھی آنے ہیں۔ بہر حال اس ساری بحث کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ پولیس اصلاحات آیندہ انتخابات میں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا ایک اہم پیمانہ ہو نگی۔اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ کے پی کے میں ناصردرانی اور پنجاب میں مشتاق سکھیرا بھی ریٹائر ہو رہے ہیں اور دونوں صوبوں کی حکومتوں کو اب نئے آئی جی کی تلاش ہے۔ کے پی کے، کے نئے آئی جی پر اگلے کسی کالم میں بات کریں گے تاہم پنجاب میں نئے آئی جی کی تعیناتی کے حوالہ سے بات فائنل راؤنڈ میں داخل ہو گئی ہے۔
اب تک کی صورتحال کے مطابق پنجاب کے نئے متوقع آئی جی کے لیے پانچ نام گردش کر رہے ہیں، ان میںلاہورکے سی سی پی اوکیپٹن ریٹائرڈ امین وینس، اسلام آباد کے آئی جی طارق مسعود ، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی امجد جاوید سلیمی ، ایڈیشنل آئی جی فیصل شاہکار اسپیشل برانچ اور ایڈیشنل آئی جی آپریشن عارف نواز شامل ہیں۔ یہ سب افسران اپنی اپنی جگہ قابل ، تجربہ کار اور بہترین ہیں۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان میں سے کسی کو بھی لگا دیا جائے تو وہ بہترین چوائس ہو گی۔ ان میں سے کسی کے کیریئر پر کوئی داغ نہیں ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ اس وقت حکومت کو کیسے آئی جی کی ضرورت ہے۔ یہ حکومت کا آخری سال ہے اور یقینا میاں شہباز شریف اس بار کبھی بھی یہ نہیں کہنا چاہیں گے کہ پولیس میں اصلاحات اور تھانہ کلچر میں تبدیلی ہی ان کی سب سے بڑی ناکامی رہی ہے۔ اس لیے وہ ایسے آئی جی کی تلاش میں ہوںگے جو پنجاب پولیس میں جاری اصلاحات کو نہ صرف آگے بڑھا سکے بلکہ ان کے نتائج بھی لائے۔
بعض حلقوں کی جانب سے اس ضمن میں اس وقت سی سی پی او لاہور امین وینس کا نام آگے نظر آرہا ہے۔ ارباب اقتدار میں ان کی لاہور پولیس میں اصلاحات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ پنجاب بھر کے تھانوں میں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کے فرنٹ ڈیسک کے قیام سے پہلے لاہور کے تھانوں میں ایڈمن افسران کی تعیناتی ہی دراصل وہ قدم تھا جس نے تھانہ کلچر میں تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد چائلڈ فرنٹ ڈیسک کا منصوبہ لاہور کے چند تھانوں میں آزمائشی طور پر شروع کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کو پنجاب بھر میں پھیلایا گیا ہے۔
ویسے تو ریس کے تمام پولیس افسران غیر سیاسی ہیں اور کسی پر بھی کوئی سیاسی داغ نہیں ہے۔ لیکن امین وینس آئی جی پنجاب کے عہدے کے زیادہ فیورٹ لگتے ہیں ۔آگے کیا ہوگا مجھے یہ علم نہیں ہے ۔ ادھر عارف نوازجو ایک پروفیشنل اور دیانتدار پولیس افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں کو موجودہ آئی جی مشتاق سکھیرا کی حمایت حاصل ہے۔ جب کہ امجد جاوید سلیمی بھی فیلڈ کے افسر سمجھے جاتے ہیں اور ان کی قابلیت میں بھی کوئی شک نہیں اور اسلام آباد میں گیارہ ماہ آئی جی رہنے کے بعد پنجاب آنے والے طارق مسعود کے اس موقع پر پنجاب آنے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے تو ایڈیشنل آئی جی عثمان خٹک کا نام بھی آرہا ہے لیکن ان کی ریٹائرمنٹ جلدی ہے۔
میٹرو کا افتتاح ہو چکا تھا۔ بتانے کو کافی کچھ تھا۔ یہ کہنا غلط نہ تھا کہ مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف کے اسی پانچ سالہ دور کی کارکردگی پر الیکشن لڑنے جا رہی تھی۔ ایسے میں یکدم میں نے ان سے سوال کیا کہ کامیابیاں تو بہت ہیں کیا آپ اپنی سب سے بڑی ناکامی بتائیں گے۔ سب خاموش ہو گئے ۔ میاں شہباز شریف بھی خاموش ہو گئے۔ الیکشن قریب تھا۔ سوال الیکشن میں ایشو بھی بن سکتا تھا۔ لیکن تھوڑی خاموشی کے بعد شہباز شریف نے کہا کہ شدید کوشش کے باوجود میں پنجاب میں تھانہ کلچر نہیں تبدیل کر سکا۔ اسی کو میں اپنی ناکامی سمجھتا ہوں۔ پھرکامیابیوں کا ذکر دوبارہ شروع ہو گیا۔
میں نے یہ واقعہ اس لیے لکھا ہے کہ پولیس میں اصلاحات ایسا نہیں کہ حکمرانوں کی ترجیح نہیں رہی ہیں ۔ لیکن یہ ایسا پیچیدہ اور مشکل کام ہے کہ اچھے اچھے ایڈمنسٹریٹر بھی اس میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس افسران ہی تھانہ کلچر میں تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ وہ پولیس کے اسی نظام میں رچ بس گئے ہوتے ہیں۔ اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے ذہنی طور پر قائل نہیں ہوتے۔ اور پولیس افسران کی مدد کے بغیر پولیس میں اصلاحات ممکن نہیں۔ یہ ایسا محکمہ نہیں ہے جہاں باہر سے افسران لگا کر اصلاحات کو نافذ کر دیا جائے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اپنے پانچ سالہ دور کے اختتام پر شہباز شریف یہ کہہ رہے تھے کہ محکمہ پولیس میں ان کو ایسی ٹیم نہیں ملی جو تھانہ کلچر کی تبدیلی اور پولیس کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے حوالہ سے اصلاحات کر سکتی۔
لیکن یہ بات خوش آیند ہے کہ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کے پی کے میں پولیس اصلاحات کا بہت شور ہے اور اسی طرح شہباز شریف بھی اب اپنی پولیس اصلاحات کو عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ کے پی کے اور پنجاب کی اصلاحات میں بنیادی فرق ہے۔ کے پی کے میں تقرر و تبادلوں میں آئی جی کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ اور اس ایک فیصلہ پر کہا جا رہا ہے کہ اصلاحات کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ عمران خان کا موقف ہے کہ آئی جی کے اختیارات میں اضافہ کے بعد پولیس نہ صرف غیر سیاسی ہو گئی ہے بلکہ اس میں مزید اصلاحات کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ یہی ایک فیصلہ سب پر بھاری ہے۔
دوسری طرف پنجاب میں یہ بات درست ہے کہ تقرر و تبادلوں میں آئی جی کو وہ فری ہینڈ حاصل نہیں ہے۔ یہاں اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے فیصلے وزیر اعلیٰ خود کرتے ہیں۔ عمران خان اس کو پولیس میں سیاسی مداخلت کہتے ہیں ۔ جب کہ رانا ثناء اللہ کا موقف ہے کہ جب امن وامان قائم رکھنے کی ذمے داری حکومت کی ہے ، جب ہم عوام کو جوابدہ ہیں تو افسران بھی ہم لگائیں گے۔ پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لیے پنجاب کے ہر تھانہ میں فرنٹ ڈیسک قائم ہوئے ہیں۔ جن کی اب آئی جی آفس سے سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ ممکن ہے۔
تھانہ میں سائل کے ساتھ ہونے والا سلوک اب کیمرہ میں ریکارڈ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آئی ٹی کی مدد سے پنجاب پولیس میں اہم اصلاحات کی گئی ہیں۔ جن کے نتائج ابھی آنے ہیں۔ بہر حال اس ساری بحث کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ پولیس اصلاحات آیندہ انتخابات میں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا ایک اہم پیمانہ ہو نگی۔اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ کے پی کے میں ناصردرانی اور پنجاب میں مشتاق سکھیرا بھی ریٹائر ہو رہے ہیں اور دونوں صوبوں کی حکومتوں کو اب نئے آئی جی کی تلاش ہے۔ کے پی کے، کے نئے آئی جی پر اگلے کسی کالم میں بات کریں گے تاہم پنجاب میں نئے آئی جی کی تعیناتی کے حوالہ سے بات فائنل راؤنڈ میں داخل ہو گئی ہے۔
اب تک کی صورتحال کے مطابق پنجاب کے نئے متوقع آئی جی کے لیے پانچ نام گردش کر رہے ہیں، ان میںلاہورکے سی سی پی اوکیپٹن ریٹائرڈ امین وینس، اسلام آباد کے آئی جی طارق مسعود ، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی امجد جاوید سلیمی ، ایڈیشنل آئی جی فیصل شاہکار اسپیشل برانچ اور ایڈیشنل آئی جی آپریشن عارف نواز شامل ہیں۔ یہ سب افسران اپنی اپنی جگہ قابل ، تجربہ کار اور بہترین ہیں۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان میں سے کسی کو بھی لگا دیا جائے تو وہ بہترین چوائس ہو گی۔ ان میں سے کسی کے کیریئر پر کوئی داغ نہیں ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ اس وقت حکومت کو کیسے آئی جی کی ضرورت ہے۔ یہ حکومت کا آخری سال ہے اور یقینا میاں شہباز شریف اس بار کبھی بھی یہ نہیں کہنا چاہیں گے کہ پولیس میں اصلاحات اور تھانہ کلچر میں تبدیلی ہی ان کی سب سے بڑی ناکامی رہی ہے۔ اس لیے وہ ایسے آئی جی کی تلاش میں ہوںگے جو پنجاب پولیس میں جاری اصلاحات کو نہ صرف آگے بڑھا سکے بلکہ ان کے نتائج بھی لائے۔
بعض حلقوں کی جانب سے اس ضمن میں اس وقت سی سی پی او لاہور امین وینس کا نام آگے نظر آرہا ہے۔ ارباب اقتدار میں ان کی لاہور پولیس میں اصلاحات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ پنجاب بھر کے تھانوں میں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کے فرنٹ ڈیسک کے قیام سے پہلے لاہور کے تھانوں میں ایڈمن افسران کی تعیناتی ہی دراصل وہ قدم تھا جس نے تھانہ کلچر میں تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد چائلڈ فرنٹ ڈیسک کا منصوبہ لاہور کے چند تھانوں میں آزمائشی طور پر شروع کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کو پنجاب بھر میں پھیلایا گیا ہے۔
ویسے تو ریس کے تمام پولیس افسران غیر سیاسی ہیں اور کسی پر بھی کوئی سیاسی داغ نہیں ہے۔ لیکن امین وینس آئی جی پنجاب کے عہدے کے زیادہ فیورٹ لگتے ہیں ۔آگے کیا ہوگا مجھے یہ علم نہیں ہے ۔ ادھر عارف نوازجو ایک پروفیشنل اور دیانتدار پولیس افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں کو موجودہ آئی جی مشتاق سکھیرا کی حمایت حاصل ہے۔ جب کہ امجد جاوید سلیمی بھی فیلڈ کے افسر سمجھے جاتے ہیں اور ان کی قابلیت میں بھی کوئی شک نہیں اور اسلام آباد میں گیارہ ماہ آئی جی رہنے کے بعد پنجاب آنے والے طارق مسعود کے اس موقع پر پنجاب آنے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے تو ایڈیشنل آئی جی عثمان خٹک کا نام بھی آرہا ہے لیکن ان کی ریٹائرمنٹ جلدی ہے۔