زرداری کی مزاحمت اور سیاست
مفاہمت کا فکس میچز کھیلنے کے بعد آصف زرداری اور میاں نواز شریف اب مزاحمت کا بھی فکس میچ کھیل رہے ہیں
msuherwardy@gmail.com
آجکل سپاٹ فکسنگ کا شور ہے ۔ کرکٹرز معطل ہیں۔ ٹربیونل کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔دوسری طرف سیاست میں فکس میچز کا شور ہو چکا ہے۔ عمران خان کا موقف ہے کہ مفاہمت کا فکس میچز کھیلنے کے بعد آصف زرداری اور میاں نواز شریف اب مزاحمت کا بھی فکس میچ کھیل رہے ہیں۔ جس طرح کرکٹ میں میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ ہوتی ہے اسی طرح سیاست میں بھی میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کی جاتی ہے۔ لیکن کرکٹ میں اس پر کرکٹ کے انتظامی ادارے سزا دیتے ہیں اور کرکٹرزپر پابندی لگا دیتے ہیں جب کہ سیاست میں عوام اس پر سیاستدانوں کو سزا دیتے ہیں اور سیاستدانوں کو سیاست کے کھیل سے آؤٹ کر دیتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ جب آصف ٖ زرداری نے مفاہمت کا کھیل شروع کیا تھا تب بھی اس پر بہت تنقید کی گئی تھی اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ وقتی فائدہ ضرور ہے لیکن بالاخر اس کا نقصان ہو گا۔ اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ وقتی طور پر اس کا فائدہ ہوا اور آج نقصانات سامنے ہیں۔ آج سب یہ کہ رہے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست کا پیپلزپارٹی اور آصف زرداری کو نقصان ہوا ہے۔پیپلزپارٹی کی نظریاتی سیاست کو نقصان ہوا ہے۔ ووٹ بینک کو نقصان ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مفاہمت کسی قومی یا عوامی مفاد میں نہیں تھی بلکہ سیاسی مفاد کے لیے تھی۔ اسی مفاد نے پیپلز پارٹی کے اقتدار کو موقع بخشا لیکن عوام کو ناراض کر دیا۔
پاکستان میں سیاسی میچ فکسنگ کوئی نئی نہیں ہے۔ لیکن آصف زرداری نے اس کو ایک نئی شکل اور نئی جہد دی ہی ہے۔ سیاسی جماعتیں اتحاد بھی بناتی ہیں اور مل کر انتخاب بھی لڑتی ہیں۔ لیکن اپنے اپنے کیمپ میں رہ کر اکٹھے چلنے کا جو رواج آصف زرداری نے پیدا کیا ہے اس کی ماضی قریب میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ آصف زرداری نے مفاہمت کی یہ پالیسی کوئی میاں نواز شریف کے دور اقتدار میں شروع نہیں کی بلکہ دراصل انھوں نے مفاہمت کی پالیسی بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملنے والے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے شروع کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی مفاہمت نے ان کو بے پناہ فوائد دئے اور نقصانات کا آج سامنا ہے۔ فوائد فوری تھے جب کہ نقصان بعد میں سامنے آئے ہیں۔ اسی مفاہمت نے ان کے صدر بننے کی راہ ہموار کی۔ اقتدار کے پانچ سال مکمل کرنے میں مدد کی۔ووٹ کم ہونے کے باوجود حکومت قائم رہی۔ اقتدار سے با عزت رخصتی کا راستہ دیا۔آج جناب زرداری پر کوئی کیس نہیں ہے۔سندھ میں بلا شرکت غیرے دس سال کی حکومت ۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آصف زرداری نے اس مفاہمت کو بہت طویل کر دیا۔ اگر وہ اقتدار چھوڑنے کے بعد اپوزیشن میں آنے کے فوری بعد مفاہمت کو چھوڑ دیتے تو آج ان کی مزاحمت کو فکس میچ نہیں کہا جاتا۔ انھیں یہ ماننا ہو گا کہ انھوں نے مفاہمت کو بہت لمبا کیا۔ اس کی طوالت نے اس کے نہ صرف نقصانات میں اضافہ کر دیا بلکہ اس کے بعد آنے والی مزاحمت کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان پیدا کر دئے ہیں۔
اگر یہ مفاہمت اقتدار کے لیے تھی تو اس کا اپوزیشن میں کوئی جواز نہیں تھا۔ اس منطق میں کوئی دلیل نہیں ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بقا کے لیے انھوں نے مفاہمت کو میاں نواز شریف کے چار سالہ دور حکومت میں بھی جاری رکھا۔ تاہم اگر وہ اس کو چار سال کے بجائے دو سال ہی جاری رکھتے تو نقصانات کم ہو سکتے تھے اور مزاحمت کی ساکھ بھی بہتر ہو سکتی تھی۔ آصف زرداری کی مفاہمت کے نتائج تو انھیں فوری مل گئے تھے لیکن ان کو اپنی مزاحمت کے نتائج فوری نہیں مل سکتے۔ مزاحمت مفاہمت کی طرح فوری نتائج نہیں دے سکے گی۔
اس کی ایک مثال بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کے انتخابات کی انتخاب مہم کے نتائج کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بلاول بھٹو نے مزاحمت کی آخری حدوں کو عبور کیا۔ بلکہ انھوں نے انتخاب جیتنے کے لیے سیاست کی ریڈ لائن بھی عبور کی۔ لیکن انتخابات کے موقع پر فوری طور پر شروع کی جانیوالی اس مزاحمت اور بلاول کے لہجہ کی تلخی عوام کو قائل نہ کر سکی اور پیپلزپارٹی کی نہ صرف آزاد کشمیر کی حکومت بھی چلی گئی بلکہ انتخابات میں بری شکست سے بھی دو چار ہونا پڑا۔ ڈر یہی ہے کہ اب بھی انتخابی سال کے آخر میں پانامہ فیصلہ کے قریب شروع کی جانیوالی مزاحمت کا آزاد کشمیر کے انتخابات میں کی جانیوالی مزاحمت جیسا ہی حشر ہو گا۔
وہ دیر کر چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور آصف زرداری مفاہمت مفاہمت کھیلتے ہوئے سیاسی طور پر ایک بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔ مفاہمت کی شاہراہ آگے سے بند ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ وہ جن کے ساتھ مفاہمت کر رہے تھے ان کو بھی اب ان کی مفاہمت کی ضرورت نہیں۔ یہ سیاست کا بے رحم کھیل ہے۔ یہاں کوئی کسی کے ساتھ نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے۔ یہاں ساتھ جینے مرنے کی سب قسمیں جھوٹ اور مفاد پر مبنی ہوتی ہے۔ پل بھر میں دوست دشمن بن جاتے ہیں اور پل بھر میں ہی دشمن دوست بن جاتے ہیں۔ اتحاد بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دوست کل کے دشمن بن جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کھلی آنکھوں کا کھیل ہے۔ آصف زرداری کے ووٹر کو یہ سمجھ آرہی ہے کہ ان کے لیڈر نے ان کی آواز پر مفاہمت شروع نہیں کی بلکہ مفاہمت کے طبعی موت مرنے کے بعد مزاحمت شروع کی ہے۔
سیاست کا سارا کھیل سیاسی بقا اور اقتدار کے حصول کے لیے کھیلا جاتا ہے۔ مفاہمت نے اقتدار دے دیا تھا لیکن کیا مزاحمت اقتدار واپس دے گی۔ مفاہمت نے وقتی طور پر راستے کھولے تھے لیکن کیا مزاحمت بھی اقتدار کے راستے کھول سکے گی۔ مفاہمت نے دشمنوں کو شکست دینے میں مدد دی تھی۔ لیکن کیا مزاحمت دشمنوں کو زیر کرنے میں مدد دے گی۔ عمران خان کو آصف زرداری کی مفاہمت کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا تھا۔ انھیں اس مفاہمت کے نتیجے میںایک خلا ملا۔ انھوں نے اس خلا کو پر کیا۔ انھیں پیپلزپارٹی کا ناراض ووٹ بینک ملا۔ اس ووٹ بینک کی وجہ سے انھیں مختلف انتخابی حلقوں میں مضبوط امیدوار ملے۔ جہانگیر ترین ملے علیم خان ملے، پرویز خٹک ملے۔
آصف زرداری کی مزاحمت سے سب سے زیادہ خطرہ عمران خان کو ہی ہے۔ اگر یہ مزاحمت ناکام ہو جاتی ہے اور ووٹر اس کو مسترد کر دیتا ہے تو عمران خان سندھ کے علاوہ باقی صوبوں میں پیپلزپارٹی کے باقی ماندہ ووٹ بینک پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور اگر اس مزاحمت نے اپنی ساکھ بنا لی تو عمران خان کے نہ صرف ووٹ بینک میں کمی ہو سکتی ہے بلکہ جیت کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
اگر عمران خان اپنے ووٹر کو یہ یقین دلوانے میں کامیاب ہو گئے کہ زرداری کی مزاحمت کی پالیسی کا فائدہ بھی نواز شریف کوہی ہو گا تو پھر پیپلزپارٹی کے لیے مزید مشکل ہو جائے گی۔ یہ وہی صورتحال ہے جس سے جماعت اسلامی دوچار رہی ہے۔ اسلامی جمہوری اتحاد سے علیحدگی کے بعد جماعت اسلامی بھی اہنے ووٹرکا یہ ڈر ختم نہیں کر سکی تھی کہ اگر وہ جماعت اسلامی کو ووٹ دے گا تو پیپلزپارٹی جیت جائے گی۔ آج پیپلزپارٹی کے ووٹر کو یہ خوف ہو سکتا ہے کہ اس کے پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے سے نواز شریف جیت سکتا ہے۔ اسی لیے وہ عمران خان کو ووٹ دے سکتا ہے۔ یہی مزاحمت کی ناکامی ہو گی۔
یہ درست ہے کہ جب آصف ٖ زرداری نے مفاہمت کا کھیل شروع کیا تھا تب بھی اس پر بہت تنقید کی گئی تھی اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ وقتی فائدہ ضرور ہے لیکن بالاخر اس کا نقصان ہو گا۔ اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ وقتی طور پر اس کا فائدہ ہوا اور آج نقصانات سامنے ہیں۔ آج سب یہ کہ رہے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست کا پیپلزپارٹی اور آصف زرداری کو نقصان ہوا ہے۔پیپلزپارٹی کی نظریاتی سیاست کو نقصان ہوا ہے۔ ووٹ بینک کو نقصان ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مفاہمت کسی قومی یا عوامی مفاد میں نہیں تھی بلکہ سیاسی مفاد کے لیے تھی۔ اسی مفاد نے پیپلز پارٹی کے اقتدار کو موقع بخشا لیکن عوام کو ناراض کر دیا۔
پاکستان میں سیاسی میچ فکسنگ کوئی نئی نہیں ہے۔ لیکن آصف زرداری نے اس کو ایک نئی شکل اور نئی جہد دی ہی ہے۔ سیاسی جماعتیں اتحاد بھی بناتی ہیں اور مل کر انتخاب بھی لڑتی ہیں۔ لیکن اپنے اپنے کیمپ میں رہ کر اکٹھے چلنے کا جو رواج آصف زرداری نے پیدا کیا ہے اس کی ماضی قریب میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ آصف زرداری نے مفاہمت کی یہ پالیسی کوئی میاں نواز شریف کے دور اقتدار میں شروع نہیں کی بلکہ دراصل انھوں نے مفاہمت کی پالیسی بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملنے والے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے شروع کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی مفاہمت نے ان کو بے پناہ فوائد دئے اور نقصانات کا آج سامنا ہے۔ فوائد فوری تھے جب کہ نقصان بعد میں سامنے آئے ہیں۔ اسی مفاہمت نے ان کے صدر بننے کی راہ ہموار کی۔ اقتدار کے پانچ سال مکمل کرنے میں مدد کی۔ووٹ کم ہونے کے باوجود حکومت قائم رہی۔ اقتدار سے با عزت رخصتی کا راستہ دیا۔آج جناب زرداری پر کوئی کیس نہیں ہے۔سندھ میں بلا شرکت غیرے دس سال کی حکومت ۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آصف زرداری نے اس مفاہمت کو بہت طویل کر دیا۔ اگر وہ اقتدار چھوڑنے کے بعد اپوزیشن میں آنے کے فوری بعد مفاہمت کو چھوڑ دیتے تو آج ان کی مزاحمت کو فکس میچ نہیں کہا جاتا۔ انھیں یہ ماننا ہو گا کہ انھوں نے مفاہمت کو بہت لمبا کیا۔ اس کی طوالت نے اس کے نہ صرف نقصانات میں اضافہ کر دیا بلکہ اس کے بعد آنے والی مزاحمت کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان پیدا کر دئے ہیں۔
اگر یہ مفاہمت اقتدار کے لیے تھی تو اس کا اپوزیشن میں کوئی جواز نہیں تھا۔ اس منطق میں کوئی دلیل نہیں ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بقا کے لیے انھوں نے مفاہمت کو میاں نواز شریف کے چار سالہ دور حکومت میں بھی جاری رکھا۔ تاہم اگر وہ اس کو چار سال کے بجائے دو سال ہی جاری رکھتے تو نقصانات کم ہو سکتے تھے اور مزاحمت کی ساکھ بھی بہتر ہو سکتی تھی۔ آصف زرداری کی مفاہمت کے نتائج تو انھیں فوری مل گئے تھے لیکن ان کو اپنی مزاحمت کے نتائج فوری نہیں مل سکتے۔ مزاحمت مفاہمت کی طرح فوری نتائج نہیں دے سکے گی۔
اس کی ایک مثال بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کے انتخابات کی انتخاب مہم کے نتائج کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بلاول بھٹو نے مزاحمت کی آخری حدوں کو عبور کیا۔ بلکہ انھوں نے انتخاب جیتنے کے لیے سیاست کی ریڈ لائن بھی عبور کی۔ لیکن انتخابات کے موقع پر فوری طور پر شروع کی جانیوالی اس مزاحمت اور بلاول کے لہجہ کی تلخی عوام کو قائل نہ کر سکی اور پیپلزپارٹی کی نہ صرف آزاد کشمیر کی حکومت بھی چلی گئی بلکہ انتخابات میں بری شکست سے بھی دو چار ہونا پڑا۔ ڈر یہی ہے کہ اب بھی انتخابی سال کے آخر میں پانامہ فیصلہ کے قریب شروع کی جانیوالی مزاحمت کا آزاد کشمیر کے انتخابات میں کی جانیوالی مزاحمت جیسا ہی حشر ہو گا۔
وہ دیر کر چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور آصف زرداری مفاہمت مفاہمت کھیلتے ہوئے سیاسی طور پر ایک بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔ مفاہمت کی شاہراہ آگے سے بند ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ وہ جن کے ساتھ مفاہمت کر رہے تھے ان کو بھی اب ان کی مفاہمت کی ضرورت نہیں۔ یہ سیاست کا بے رحم کھیل ہے۔ یہاں کوئی کسی کے ساتھ نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے۔ یہاں ساتھ جینے مرنے کی سب قسمیں جھوٹ اور مفاد پر مبنی ہوتی ہے۔ پل بھر میں دوست دشمن بن جاتے ہیں اور پل بھر میں ہی دشمن دوست بن جاتے ہیں۔ اتحاد بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دوست کل کے دشمن بن جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کھلی آنکھوں کا کھیل ہے۔ آصف زرداری کے ووٹر کو یہ سمجھ آرہی ہے کہ ان کے لیڈر نے ان کی آواز پر مفاہمت شروع نہیں کی بلکہ مفاہمت کے طبعی موت مرنے کے بعد مزاحمت شروع کی ہے۔
سیاست کا سارا کھیل سیاسی بقا اور اقتدار کے حصول کے لیے کھیلا جاتا ہے۔ مفاہمت نے اقتدار دے دیا تھا لیکن کیا مزاحمت اقتدار واپس دے گی۔ مفاہمت نے وقتی طور پر راستے کھولے تھے لیکن کیا مزاحمت بھی اقتدار کے راستے کھول سکے گی۔ مفاہمت نے دشمنوں کو شکست دینے میں مدد دی تھی۔ لیکن کیا مزاحمت دشمنوں کو زیر کرنے میں مدد دے گی۔ عمران خان کو آصف زرداری کی مفاہمت کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا تھا۔ انھیں اس مفاہمت کے نتیجے میںایک خلا ملا۔ انھوں نے اس خلا کو پر کیا۔ انھیں پیپلزپارٹی کا ناراض ووٹ بینک ملا۔ اس ووٹ بینک کی وجہ سے انھیں مختلف انتخابی حلقوں میں مضبوط امیدوار ملے۔ جہانگیر ترین ملے علیم خان ملے، پرویز خٹک ملے۔
آصف زرداری کی مزاحمت سے سب سے زیادہ خطرہ عمران خان کو ہی ہے۔ اگر یہ مزاحمت ناکام ہو جاتی ہے اور ووٹر اس کو مسترد کر دیتا ہے تو عمران خان سندھ کے علاوہ باقی صوبوں میں پیپلزپارٹی کے باقی ماندہ ووٹ بینک پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور اگر اس مزاحمت نے اپنی ساکھ بنا لی تو عمران خان کے نہ صرف ووٹ بینک میں کمی ہو سکتی ہے بلکہ جیت کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
اگر عمران خان اپنے ووٹر کو یہ یقین دلوانے میں کامیاب ہو گئے کہ زرداری کی مزاحمت کی پالیسی کا فائدہ بھی نواز شریف کوہی ہو گا تو پھر پیپلزپارٹی کے لیے مزید مشکل ہو جائے گی۔ یہ وہی صورتحال ہے جس سے جماعت اسلامی دوچار رہی ہے۔ اسلامی جمہوری اتحاد سے علیحدگی کے بعد جماعت اسلامی بھی اہنے ووٹرکا یہ ڈر ختم نہیں کر سکی تھی کہ اگر وہ جماعت اسلامی کو ووٹ دے گا تو پیپلزپارٹی جیت جائے گی۔ آج پیپلزپارٹی کے ووٹر کو یہ خوف ہو سکتا ہے کہ اس کے پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے سے نواز شریف جیت سکتا ہے۔ اسی لیے وہ عمران خان کو ووٹ دے سکتا ہے۔ یہی مزاحمت کی ناکامی ہو گی۔