لاہور میں 6 ماہ کے دوران 20 ارب روپے کی بجلی چوری
لیسکو کو 6 ماہ میں 12 ارب یونٹ بجلی فراہم کی گئی جس میں ایک ایک ارب 36 کروڑ یونٹ چوری ہوگئی
لیسکو کے سسٹم سے مجموعی طور پر 1 ارب 36 کروڑ یونٹس کا نقصان کیا گیا فوٹو: فائل
KARACHI:
لیسکو کے لائن لاسز اور بجلی چوری کی مد میں صرف 6 ماہ کے دوران 1 ارب یونٹس ضائع ہوگئے۔
پورے ملک میں توانائی بحران اور لوڈ شیڈنگ سے پریشان حال عوام گزشتہ 10 سال کے زائد عرصے سے اپنے مسیحا کی تلاش میں ہے جو انہیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔ پورے ملک میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں اور دوسری جانب پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بجلی کو بے دردی سے ضائع کردیا گیا ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: لاہور میں بجلی کے بل کی مد میں ہر ماہ 12 ارب روپے وصول کئے جانے کا انکشاف
ایکسپریس نیوز کے مطابق صرف لاہور میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 1 ارب 36 کروڑ یونٹس کو ضائع کردیا گیا ہے اور اس طرح لیسکو کو 20 ارب روپے کی مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: کرپشن میں ملوث لیسکو کے 22 افسر اور ملازمین برطرف
نیشنل گرڈ اسٹیشن سے لیسکو کو 12 ارب یونٹس فراہم کئے گئے لیکن لیسکو نے ایک ارب یونٹس لاسز اور بجلی چوری میں ہی ضائع کردئے جب کہ مجموعی طور پر سسٹم سے 1 ارب 36 کروڑ یونٹس کا نقصان کیا گیا اور بجلی عوام کے گھروں میں پہنچنے کے بجائے ہوا میں اڑ گئی۔
لیسکو کے لائن لاسز اور بجلی چوری کی مد میں صرف 6 ماہ کے دوران 1 ارب یونٹس ضائع ہوگئے۔
پورے ملک میں توانائی بحران اور لوڈ شیڈنگ سے پریشان حال عوام گزشتہ 10 سال کے زائد عرصے سے اپنے مسیحا کی تلاش میں ہے جو انہیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔ پورے ملک میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں اور دوسری جانب پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بجلی کو بے دردی سے ضائع کردیا گیا ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: لاہور میں بجلی کے بل کی مد میں ہر ماہ 12 ارب روپے وصول کئے جانے کا انکشاف
ایکسپریس نیوز کے مطابق صرف لاہور میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 1 ارب 36 کروڑ یونٹس کو ضائع کردیا گیا ہے اور اس طرح لیسکو کو 20 ارب روپے کی مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: کرپشن میں ملوث لیسکو کے 22 افسر اور ملازمین برطرف
نیشنل گرڈ اسٹیشن سے لیسکو کو 12 ارب یونٹس فراہم کئے گئے لیکن لیسکو نے ایک ارب یونٹس لاسز اور بجلی چوری میں ہی ضائع کردئے جب کہ مجموعی طور پر سسٹم سے 1 ارب 36 کروڑ یونٹس کا نقصان کیا گیا اور بجلی عوام کے گھروں میں پہنچنے کے بجائے ہوا میں اڑ گئی۔