سعودی شہری نے 2 بیٹوں کے قاتل کو اللہ کی رضا کیلیے معاف کردیا

قریبی خاندانی تعلقات کی بنا پر یہ کیس میرے لیے بڑے صدمہ کا سبب تھا، سعد محمد عبداللہ

قریبی خاندانی تعلقات کی بنا پر یہ کیس میرے لیے بڑے صدمہ کا سبب تھا، سعد محمد عبداللہ- فوٹو: فائل

KARACHI:
سعودی شہری نے اللہ کی رضا کے لیے اپنے 2 بیٹوں کے قاتل کو معاف کردیا اور ان کا خون بہا بھی نہیں لیا۔

عرب خبر رساں ویب سائٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی شہری سعد محمد عبداللہ کے 2 بیٹوں کو 6 ماہ قبل ان کے کزن اور بہنوئی نے قتل کردیا تھا تاہم انہوں نے ان سے خون بہا لیے بغیر محض اللہ کی رضا اور خاندان کے اتحاد کی خاطر انہیں معاف کردیا۔ سعد محمد عبداللہ کا کہنا تھا کہ میرے چچا کے پوتے اور میری بیٹی کے خاوند نے ایک تنازع پر فائرنگ کرکے میرے 28 سالہ بڑے بیٹے اور 26 سالہ منجھلے بیٹے کو قتل کردیا تھا اور ان کے چھوٹے بھائی کو زخمی کردیا تھا جب کہ قریبی خاندانی تعلقات کی بنا پر یہ کیس میرے لیے بڑے صدمہ کا سبب تھا اور جب قاتل کے باپ اور میرے چچا زاد بھائی کو پولیس نے گرفتار کیا تو میں مزید افسردہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بذات خود اپنے اس بھائی کی ضمانت کے لیے رقم ادا کی تھی کیونکہ اس کو اس کے بیٹے کے جُرم کا قصور وار قرار نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔


سعد محمد عبداللہ نے کہا کہ مجھے اپنے اس بھائی کی صحت سے متعلق تشویش لاحق تھی اور میں نہیں چاہتا تھا کہ انھیں پکڑ کر جیل لے جایا جائے لہٰذا میں نے انہیں معاف کردیا اور پولیس افسروں سے کہا کہ جب تک میرے اس بھائی کو رہا نہیں کردیا جاتا تو اس وقت تک میں بھی جیل میں رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے اس غیرمعمولی کردار اور اپنے بیٹوں کے قاتل کے باپ سے اس طرح ہمدردی پر پولیس افسر بھی حیران رہ گئے تھے جب کہ ہمارے قبیلے کے سردار اور زعما بھی میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے قاتل کو معاف کرنے کے لیے کہا تھا، میں ان کی گفتگو سے متاثر ہوا اور اپنے بیٹوں کے قاتل کو اللہ کی رضا کی خاطر معاف کردیا۔

سعد عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بڑے مقتول بیٹے کا ایک بیٹا ہے اور اس کو قاتل سے خون بہا لینے کا حق حاصل ہے لیکن میں نے اپنے طور پر اس قاتل کو معاف کردیا ہے۔
Load Next Story