غریب غرق ہے
ضیاء الحق کے دور میں ’’نماز پڑھو‘‘ کا جملہ ایجاد ہوا تھا
barq@email.com
ہو سکتا ہے کہ سکہ بند قسم کے سرکاری اور چینلی طور پر منظور شدہ دانشوروں کو علم نہ ہو لیکن ہم جیسے گلی کوچوں اور عامی امی قسم کے لوگوں کو علم ہے کہ پاکستان میں ہر حکومت کے دور میں ایک خاص قسم کا جملہ ایجاد بھی ہو جاتا ہے اور عوام میں بڑا مقبول اور مروج بھی ہو جاتا ہے، مثلاً گذشتہ اے این پی کے دور میں یہ جملہ خاصا بیسٹ سیلر جارہا تھا کہ ''بابا کو ایزی لوڈ کر دو'' دروں پر دیواروں پر رکشوں گاڑیوں کی پشت پر ہر جگہ ایزی لوڈ ایزی لوڈ کی گونج سنائی دیتی تھی۔
پیپلز پارٹی کے ہر دور حکومت بھٹو سے لے کر زرداری تک یہ جملہ زبان زد عام و خواص تھا کہ جو اس دور میں پاگل نہیں ہوا وہ واقعی پاگل ہے، ضیاء الحق کے دور میں ''نماز پڑھو'' کا جملہ ایجاد ہوا تھا، ایوب خان کے دور میں مشہور ہوا کہ جو اس دور میں مالدار نہیں ہوا وہ ہے ہی نہیں، یحییٰ خان کے دور میں کرش انڈیا، یا اس کا ترجمہ بھارت کو کچل دو تمام در و دیوار اور گاڑیوں کی زینت بنا تھا، بھٹو کے دور میں ''شکر ہے پاکستان بچ گیا'' مقبول نعرہ تھا اور جنرل مشرف کے دور میں ''دور شجاعت'' کا غلغلہ تھا، نیکو کاروں کے دور میں ''دعا کرو دعا کرو'' ایک مقبول نعرہ تھا، ویسے چوہدری شجاعت کے مختصر دور میں بھی مختصر سا ''مٹی پا'' مشہور ہوا تھا، حالانکہ ہم نے اس پر بھی اپنا علم تحقیق آزمایا ہوا ہے لیکن پتہ بالکل نہیں لگا پائے کہ ان نعروں یا جملوں کا اصل مخزن و سرچشمہ کہاں واقع ہے، بس اچانک ہی کہیں سے ایک جملہ نکل آتا ہے اور لوگوں کی زبان سے چپک جاتا ہے۔
یہ گویا پشتو کے ٹپے جیسی چیز ہے کہ اس وقت یہ ٹپے لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں، برابر نئے نئے ٹپے تخلیق بھی ہو رہے ہیں، مشہور بھی ہوں گے لیکن کسی کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ ''سبزہ و گل'' کہاں سے آتے ہیں، یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ خالص عوامی فکر کا نتیجہ ہوتے ہیں، یعنی آواز خلق اور نعرہ خدا ہوتے ہیں یوں موجودہ دور میں جو تازہ ترین اور لیٹسٹ ماڈل کا آوازہ حق اور نعرہ خدا مارکیٹ میں ہر جگہ دستیاب ہے وہ ہے ''غریب غرق ہے'' اگر دو لوگ ملتے ہیں تو سلام دعا سے پہلے بھی ''غریب غرق ہے'' اور کوشش کرتے ہیں کہ پہل کی جائے، چنانچہ اکثر تو دونوں کے منہ سے بیک وقت نکل آتا ہے ''غریب غرق ہے'' دوسرا صرف ''ہاں'' کا اضافہ کر کے لوٹا دیتا ہے ہاں ''غریب غرق ہے'' پہلے تو ہم اسے چند لوگوں کا مخصوص تکیہ کلام سمجھے لیکن جب چترال سے ڈی آئی خان تک ... ''غریب غرق ہے'' کی حکمرانی دیکھی تو سمجھے کہ معاشرے نے یہی نیا بچھڑا دیا ہے۔
غریب غرق ہے۔ موضوع کوئی بھی ہو لوگ کیسے بھی ہوں مقام کہیں بھی ہو ، محفل ہو یا بازار،گھر ہو یا محلہ،اپنوں سے ملنا ہو یا غیروں سے،بس ہر طرف صبح و شام بلا سوچے سمجھے سب کی زبان یہی کہہ رہی ہے کہ نطق نے بوسے میری زباں کے لیے ''غریب غرق ہے'' ۔ اسے ہم ایک طرح سے مشترکہ تکیہ کلام بھی کہہ سکتے ہیں جو لوگوں کی زبانوں پر مستقل چڑھ کر چپک گیا ہے، ''غریب غرق ہے'' نہ کوئی موقع نہ دلیل نہ جواز نہ کچھ اور بس اچانک ہی آواز آئے گی غریب غرق ہے، حالانکہ یہ کوئی نئی اطلاع بھی نہیں غریب تو ایک زمانے میں غرق تھا غرق ہے اور غرق رہے گا،غریب کبھی اس غرق سے باہر نہیں نکلا۔ آخر آج کل یہ چیز بریکنگ نیوز کیوں بن گئی ہے ... کہ غریب غرق ہے۔
ہمارے خیال میں تو یہ موسمی لحاظ سے بھی قطعی غلط ہے نہ کوئی سیلاب آیا ہے نہ زیادہ بارش ہوئی ہے بلکہ نسبتاً اس سال بارشیں بھی کم ہوئی ہیں لیکن پھر بھی غریب غرق ہے بلکہ بعض لوگ شاید اس بات کا احساس رکھتے ہیں یا مزاجاً کچھ اصلاح پسند واقع ہوتے ہیں چنانچہ وہ غریب تباہ ہے بھی کہہ دیتے ہیں جو غرق ہونے سے تھوڑا زیادہ فصیح بھی ہے بلیغ بھی اور حسب حال بھی ... کیوں کہ غرق ہونے کے لیے بہرحال پانی چاہیے ہوتا ہے چلو بھر ہی سہی جب کہ تباہ ہونے کے لیے کسی آفت ارضی و سماوی ضروری نہیں صرف لیڈر ہی کافی ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے تجربے کو بلکہ ستر سالہ تجربے کو کوئی چیلنج بھی نہیں کر سکتا ہے۔
غریب تباہ ہے، بجائے خود ایک اطلاعیہ جملہ بھی ہے چاہے سرکاری محکمہ اطلاعات کو اس کی اطلاع ہو یا نہ ہو، لیکن ''غریب تباہ ہے'' کے اندر خود یہ اطلاع موجود ہے کہ اس ملک میں لیڈر ضرور پائے جاتے ہیں کیوں کہ یہ کام بغیر لیڈروں کے کوئی اور کر بھی نہیں سکتا، لیکن ''غریب غرق ہے'' کے لیے پانی کا ہونا ضروری ہے اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے پانی کی اس ملک میں شدید قلت بھی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت لیڈروں کی موجودگی ہے، ورنہ یہ چلو بھر پانی تو ہر کسی کو میسر ہے اور اتنا کٹھور کون ہو سکتا ہے کہ کوئی لیڈر چلو بھر پانی نہ دے اور کوئی بخل سے کام لے کر نہ دے، حالانکہ ضرورت اس کی بھی نہیں کیوں کہ کہا گیا ہے کہ
ایسے تیراک بھی دیکھے ہیں مظفر ہم نے
غرق ہونے کے لیے بھی جو سہارا چاہیں
اور یہ بالکل امر واقعہ ہے کیوں کہ اہل پاکستان ایسا ہی کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ غرق ہونے کے لیے اتنی محنت اور جاں فشانی کے لیے لیڈر پالتے ہیں جو شاید آخر کار اپنا فرض ادا کر چکے ہیں اس لیے کہ ''غریب غرق ہے'' کی آوازیں تواتر سے آرہی ہیں اندازہ اس سے لگائیں کہ اس دن ایک ایسے شاعر سے ملاقات ہوئی جس کی ایک دو غزلیں ہمیشہ ناک پر رہتی تھیں اور جہاں کہیں دو کان ملے دے مارنا شروع کر دیتے لیکن اس نے بھی چھوٹتے ہی ''عرض ہے'' کی جگہ غریب غرق ہے سے ابتدا کی ہے اور پھر ہر ہر شعر کے اختتام پر دہراتے رہے غریب غرق ہے۔
ایک شخص کو کسی شادی میں دیکھا جو سامنے آنے والی ہر چیز کو نگل رہا تھا اور شدت کا اندازہ ہمیں اس کی ناک سے ٹپکنے والے پسینے سے ہوا، سوچا یہ تو بالکل بھی نہیں کہے گا لیکن اس نے بھی ہمارے کیسے ہو؟ کے جواب میں غریب غرق ہے کہا تو عرض کیا یہ سامنے اتنا مال غنیمت دھرا ہے اور تم بے تحاشا چر رہے ہو ... تو پھر کیسے غریب غرق ہے ۔ بولا ... اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کہ غریب غرق ہے اتنے سارے ''مال'' کے یہاں جمع ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ غریب غرق ہے۔ اس پر اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں اس کے علاوہ کہ غریب غرق ہے، ویسے اس جملے کا استعمال ان لوگوں میں اور زیادہ ہے جو کسی سرکاری دفتر سے نکلتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے ہر دور حکومت بھٹو سے لے کر زرداری تک یہ جملہ زبان زد عام و خواص تھا کہ جو اس دور میں پاگل نہیں ہوا وہ واقعی پاگل ہے، ضیاء الحق کے دور میں ''نماز پڑھو'' کا جملہ ایجاد ہوا تھا، ایوب خان کے دور میں مشہور ہوا کہ جو اس دور میں مالدار نہیں ہوا وہ ہے ہی نہیں، یحییٰ خان کے دور میں کرش انڈیا، یا اس کا ترجمہ بھارت کو کچل دو تمام در و دیوار اور گاڑیوں کی زینت بنا تھا، بھٹو کے دور میں ''شکر ہے پاکستان بچ گیا'' مقبول نعرہ تھا اور جنرل مشرف کے دور میں ''دور شجاعت'' کا غلغلہ تھا، نیکو کاروں کے دور میں ''دعا کرو دعا کرو'' ایک مقبول نعرہ تھا، ویسے چوہدری شجاعت کے مختصر دور میں بھی مختصر سا ''مٹی پا'' مشہور ہوا تھا، حالانکہ ہم نے اس پر بھی اپنا علم تحقیق آزمایا ہوا ہے لیکن پتہ بالکل نہیں لگا پائے کہ ان نعروں یا جملوں کا اصل مخزن و سرچشمہ کہاں واقع ہے، بس اچانک ہی کہیں سے ایک جملہ نکل آتا ہے اور لوگوں کی زبان سے چپک جاتا ہے۔
یہ گویا پشتو کے ٹپے جیسی چیز ہے کہ اس وقت یہ ٹپے لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں، برابر نئے نئے ٹپے تخلیق بھی ہو رہے ہیں، مشہور بھی ہوں گے لیکن کسی کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ ''سبزہ و گل'' کہاں سے آتے ہیں، یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ خالص عوامی فکر کا نتیجہ ہوتے ہیں، یعنی آواز خلق اور نعرہ خدا ہوتے ہیں یوں موجودہ دور میں جو تازہ ترین اور لیٹسٹ ماڈل کا آوازہ حق اور نعرہ خدا مارکیٹ میں ہر جگہ دستیاب ہے وہ ہے ''غریب غرق ہے'' اگر دو لوگ ملتے ہیں تو سلام دعا سے پہلے بھی ''غریب غرق ہے'' اور کوشش کرتے ہیں کہ پہل کی جائے، چنانچہ اکثر تو دونوں کے منہ سے بیک وقت نکل آتا ہے ''غریب غرق ہے'' دوسرا صرف ''ہاں'' کا اضافہ کر کے لوٹا دیتا ہے ہاں ''غریب غرق ہے'' پہلے تو ہم اسے چند لوگوں کا مخصوص تکیہ کلام سمجھے لیکن جب چترال سے ڈی آئی خان تک ... ''غریب غرق ہے'' کی حکمرانی دیکھی تو سمجھے کہ معاشرے نے یہی نیا بچھڑا دیا ہے۔
غریب غرق ہے۔ موضوع کوئی بھی ہو لوگ کیسے بھی ہوں مقام کہیں بھی ہو ، محفل ہو یا بازار،گھر ہو یا محلہ،اپنوں سے ملنا ہو یا غیروں سے،بس ہر طرف صبح و شام بلا سوچے سمجھے سب کی زبان یہی کہہ رہی ہے کہ نطق نے بوسے میری زباں کے لیے ''غریب غرق ہے'' ۔ اسے ہم ایک طرح سے مشترکہ تکیہ کلام بھی کہہ سکتے ہیں جو لوگوں کی زبانوں پر مستقل چڑھ کر چپک گیا ہے، ''غریب غرق ہے'' نہ کوئی موقع نہ دلیل نہ جواز نہ کچھ اور بس اچانک ہی آواز آئے گی غریب غرق ہے، حالانکہ یہ کوئی نئی اطلاع بھی نہیں غریب تو ایک زمانے میں غرق تھا غرق ہے اور غرق رہے گا،غریب کبھی اس غرق سے باہر نہیں نکلا۔ آخر آج کل یہ چیز بریکنگ نیوز کیوں بن گئی ہے ... کہ غریب غرق ہے۔
ہمارے خیال میں تو یہ موسمی لحاظ سے بھی قطعی غلط ہے نہ کوئی سیلاب آیا ہے نہ زیادہ بارش ہوئی ہے بلکہ نسبتاً اس سال بارشیں بھی کم ہوئی ہیں لیکن پھر بھی غریب غرق ہے بلکہ بعض لوگ شاید اس بات کا احساس رکھتے ہیں یا مزاجاً کچھ اصلاح پسند واقع ہوتے ہیں چنانچہ وہ غریب تباہ ہے بھی کہہ دیتے ہیں جو غرق ہونے سے تھوڑا زیادہ فصیح بھی ہے بلیغ بھی اور حسب حال بھی ... کیوں کہ غرق ہونے کے لیے بہرحال پانی چاہیے ہوتا ہے چلو بھر ہی سہی جب کہ تباہ ہونے کے لیے کسی آفت ارضی و سماوی ضروری نہیں صرف لیڈر ہی کافی ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے تجربے کو بلکہ ستر سالہ تجربے کو کوئی چیلنج بھی نہیں کر سکتا ہے۔
غریب تباہ ہے، بجائے خود ایک اطلاعیہ جملہ بھی ہے چاہے سرکاری محکمہ اطلاعات کو اس کی اطلاع ہو یا نہ ہو، لیکن ''غریب تباہ ہے'' کے اندر خود یہ اطلاع موجود ہے کہ اس ملک میں لیڈر ضرور پائے جاتے ہیں کیوں کہ یہ کام بغیر لیڈروں کے کوئی اور کر بھی نہیں سکتا، لیکن ''غریب غرق ہے'' کے لیے پانی کا ہونا ضروری ہے اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے پانی کی اس ملک میں شدید قلت بھی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت لیڈروں کی موجودگی ہے، ورنہ یہ چلو بھر پانی تو ہر کسی کو میسر ہے اور اتنا کٹھور کون ہو سکتا ہے کہ کوئی لیڈر چلو بھر پانی نہ دے اور کوئی بخل سے کام لے کر نہ دے، حالانکہ ضرورت اس کی بھی نہیں کیوں کہ کہا گیا ہے کہ
ایسے تیراک بھی دیکھے ہیں مظفر ہم نے
غرق ہونے کے لیے بھی جو سہارا چاہیں
اور یہ بالکل امر واقعہ ہے کیوں کہ اہل پاکستان ایسا ہی کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ غرق ہونے کے لیے اتنی محنت اور جاں فشانی کے لیے لیڈر پالتے ہیں جو شاید آخر کار اپنا فرض ادا کر چکے ہیں اس لیے کہ ''غریب غرق ہے'' کی آوازیں تواتر سے آرہی ہیں اندازہ اس سے لگائیں کہ اس دن ایک ایسے شاعر سے ملاقات ہوئی جس کی ایک دو غزلیں ہمیشہ ناک پر رہتی تھیں اور جہاں کہیں دو کان ملے دے مارنا شروع کر دیتے لیکن اس نے بھی چھوٹتے ہی ''عرض ہے'' کی جگہ غریب غرق ہے سے ابتدا کی ہے اور پھر ہر ہر شعر کے اختتام پر دہراتے رہے غریب غرق ہے۔
ایک شخص کو کسی شادی میں دیکھا جو سامنے آنے والی ہر چیز کو نگل رہا تھا اور شدت کا اندازہ ہمیں اس کی ناک سے ٹپکنے والے پسینے سے ہوا، سوچا یہ تو بالکل بھی نہیں کہے گا لیکن اس نے بھی ہمارے کیسے ہو؟ کے جواب میں غریب غرق ہے کہا تو عرض کیا یہ سامنے اتنا مال غنیمت دھرا ہے اور تم بے تحاشا چر رہے ہو ... تو پھر کیسے غریب غرق ہے ۔ بولا ... اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کہ غریب غرق ہے اتنے سارے ''مال'' کے یہاں جمع ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ غریب غرق ہے۔ اس پر اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں اس کے علاوہ کہ غریب غرق ہے، ویسے اس جملے کا استعمال ان لوگوں میں اور زیادہ ہے جو کسی سرکاری دفتر سے نکلتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔