پانامہ کا فیصلہ کچھ بھی۔ فوری انتخابات کا کوئی امکان نہیں

میاں نوازشریف کوکلین چٹ ملے یا وہ نا اہل ہوں اس نظام کو تب تک چلانا ہے جب تک لوڈ شیڈنگ کاجن بوتل میں بند نہیں ہو جاتا


مزمل سہروردی April 20, 2017
[email protected]

پانامہ کے فیصلہ کی آج آمد ہے۔ لیکن پانامہ کا فیصلہ چاہے عمران خان اور سراج الحق کی امنگوں کے مطابق ہو تب بھی ملک میں فوری انتخابات کا کوئی امکان نہیں۔ اسی طرح اگر فیصلہ میاں نواز شریف کی امنگوں کا ترجمان ہو تب بھی ملک میں فوری انتخابات کا کوئی امکان نہیں۔ میاں نواز شریف کی خدانخواستہ نا اہلی کی صورت میں یا میاں نواز شریف کو کلین چٹ ملنے کی صورت میں بھی حکومت فوری انتخابات کا رسک نہیں لے سکتی۔ فوری انتخابات حکومت کے ایجنڈا میں نہیں ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے تھنک ٹینکس کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ پانامہ کے داغ کے ساتھ تو انتخابات میں حصہ لیا جا سکتا ہے لیکن لوڈشیڈنگ کے جن کے ساتھ انتخابات کے میدان میں نہیں اترا جاسکتا۔ اس لیے جب تک حکومت لوڈشیڈنگ کا جن بوتل میں بند نہیں کر لیتی انتخابات میں جانا خود کشی کے مترادف ہو گا۔

اس لیے میاں نواز شریف کو کلین چٹ ملے یا وہ نا اہل ہوں اس نظام کو تب تک چلانا ہے جب تک لوڈ شیڈنگ کا جن بوتل میں بند نہیں ہو جاتا۔دوسری طرف حکومت کے لیے مشکل یہی ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے جن کو قابو کرنے کے لیے ابھی ایک سال درکار ہے۔ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں لیکن ابھی مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ وہ نظر تو آرہے ہیں لیکن ابھی بجلی نہیں بنا رہے ہیں۔ اس لیے انتظار ن لیگ کا مقدر ہے۔بھیکی پاور پلانٹ کا افتتاح ہو گیا ہے لیکن ایسے تین پلانٹ ابھی آخری مراحل میں ہیں۔ جن کی تکمیل میں ابھی چند ماہ باقی ہیں۔ اس کے بعد چلنے کا ٹرائل پیریڈ ہو گا۔

لوڈ شیدنگ کے ساتھ سینیٹ کے انتخابات بھی آیندہ انتخابات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ سینیٹ کے آیندہ انتخابات مارچ 2018 میں متوقع ہیں اور اس بات کی قوی امید ہے کہ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) سینیٹ میں اپنا چیئرمین لانے کی پوزیشن میں آجائے گی۔ اس لیے مسلم لیگ (ن) سینیٹ کے انتخابات انھی اسمبلیوں سے کروانا چاہتی ہے۔ اس لیے یہ کہا جا رہا ہے کہ انتخابات سینیٹ کے انتخابات کے بعد ہی کروائے جائیں۔ اس لیے پانامہ کا فیصلہ کچھ بھی ہوسینیٹ کے انتخابات تک عام انتخابات کا راستہ روکنے میں ہی ن لیگ کا فائدہ ہے۔ اسی طرح کچھ اور جماعتیں بھی سینیٹ کے انتخابات تک عام انتخابات کے حق میں نہیں ہیں۔ ان میں ایم کیو ایم پاکستان بھی شامل ہے کیونکہ فاروق ستار کو پہلی مرتبہ اپنی مرضی کے ٹکٹ جاری کرنے اور اپنی مرضی کے سینیٹر بنوانے کا موقع ملے گا۔ اس کے بعد عام انتخابات میں نہ جانے کراچی میں کس کو کیا مینڈیٹ ملے۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے لیے بھی پانامہ کا فیصلہ اگر ان کی امنگوں کے مطابق آبھی جاتا ہے تب بھی اگر ملک میں فوری انتخابات نہیں ہوتے تو ان کے لیے اس فیصلہ کے سیاسی ثمرات سمیٹنا مشکل ہو جائے گا۔ اور اگر فیصلہ ان کے خلاف آجاتا ہے تب تو تحریک انصاف اپنی سیاسی گیم کافی کمزور دیکھ رہی ہے۔ تحریک انصاف کے لیے مشکل یہی ہے کہ پانامہ کا فیصلہ بھی ان کے لیے نئے انتخابات کی راہ ہموار نہیں کر رہا۔ اور اگر پانامہ کا فیصلہ حق میں آنے کے بعد بھی انتخابات ایک سال بعد ہی ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف ن لیگ کو سیاسی فائدہ ہو گا بلکہ پانامہ کا جن اپنی تمام تر طاقت کھو دے گا۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو پیپلز پارٹی بھی فوری انتخابات کے حق میں نہیں ہے۔ اس وقت ان کے اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ یہ درست ہے کہ بڑی مشکل سے ڈاکٹر عاصم والا معاملہ حل ہوا ہے۔ وہ بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ لیکن ابھی تمام معاملات حل نہیں ہوئے ہیں۔ سندھ میں رینجرز کا معاملہ دوبارہ بگڑتا جا رہا ہے۔ اس لیے پیپلزپارٹی کو ابھی تمام معاملات کو سمیٹنے کے لیے وقت چاہیے۔ فوری انتخابات ان کے لیے مسائل پیدا کر دیں گے۔پنجاب میں ابھی تنظیم مکمل نہیں۔ ابھی تو پیپلزپارٹی نے سیاسی کھیل شروع کیا ہے۔ لوڈ شیڈنگ پر مظاہرے شروع کیے ہیں۔ انھیں وقت چاہیے۔ انتخابات کا بگل ان کے غبارہ سے بے وقت ہوا نکال دے گا۔

یہ درست ہے کہ ملک میں فوری انتخابات تحریک انصاف کی سیاسی ضرورت ہیں۔ لیکن تحریک انصاف تو تین سال سے ملک میں فوری انتخابات کے لیے کوشاں ہے۔ عمران خان تو تین سال سے ہر لمحہ فوری انتخابات کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ دھاندلی اور دھرنوں کے ڈرامہ کے پیچھے بھی فوری انتخابات کی خواہش تھی۔ اور پانامہ کا اصل مقصد بھی فوری انتخابات ہی ہے۔تاہم تحریک انصاف کو اپنی یہ منزل ابھی قریب نظر نہیں آرہی ہے۔

یہ درست ہے کہ عدلیہ اس سے پہلے یوسف رضا گیلانی کی صورت میں ایک وزیر اعظم کو گھر بھیج چکی ہے اور اس سے ملک میں جمہوری تسلسل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی تھی۔ لیکن یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کا موازنہ بنتا نہیں ہے۔ تب سب کو معلوم تھا کہ ملک میں حکومت آصف زرداری کی تھی اور یوسف رضا گیلانی کی حیثیت آصف زرداری کے سیاسی ورکر سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ اس لیے ورکر بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاہم اب حکومت میاں نواز شریف کی ہے۔ اس لیے یہ موازنہ درست نہیں ہے۔

پانامہ کا فیصلہ کچھ بھی ہو۔ کسی بھی فریق کے حق میں ہو۔ لیکن اس کا بلوچستان کی سیاست پر کوئی اثر نہیں ہے۔آپ مانیں یا نہ مانیں پانامہ کے فیصلہ سے بلوچستان کی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کا بلوچستان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح کے پی کے میں بھی پانامہ کا محدود اثر ہے۔ وہاں تحریک انصاف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

اس میں پانامہ اہم نہیں بلکہ اہم ان کی حکومت کی کارکردگی ہے۔ شائد تحریک انصاف کی قیادت کو اب یہ بات سمجھ میں آنا شروع ہو گئی ہے کہ کے پی کے میں اب عمران خان کو ووٹ کسی سیاسی نعرہ پر نہیں بلکہ کارکردگی پر ملنے ہیں۔ اس لیے اگر عمران خان پانامہ کا مقدمہ جیت بھی جاتے ہیں تب بھی یہ کے پی کے میں جیت کے لیے کافی نہیں ۔ یہ وہی بات ہے جیسے 2013 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا خیال تھا کہ انھیں آئین کی اس کی اصل شکل میں بحالی کی وجہ سے ووٹ مل جائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ اسی طرح کے پی کے میں پانامہ نہیں تحریک انصاف کی کارکردگی پر الیکشن ہونا ہے۔ پانامہ کے فیصلہ کا بہت محدود اثر ہو گا۔ اسی طرح سندھ میں بھی پانامہ کا فیصلہ سیاسی طور پر کوئی اہم نہیں ہے۔ پانامہ کا فیصلہ اندرون سندھ کی سیاست میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی نہیں لا سکتا۔ اسی طرح کراچی کی گیم میں بھی پانامہ کا کوئی اثر نہیں ہے۔ فیصلہ کچھ بھی آئے کراچی پر کوئی اثر نہیں۔

البتہ پنجاب کی صورتحال مختلف ہے۔ پانامہ کے فیصلہ کا پنجاب میں کیا اثر ہو گا۔ اس پر ابہام ہی ابہام ہے ۔ تلہ گنگ کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی جیت نے یہ تاثر ضرور دیا ہے کہ پنجاب کا ووٹر پانامہ کو اہمیت نہیں دے رہا۔ تلہ گنگ میں سب جماعتیں تحریک انصاف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن ) کے خلاف انتخابات لڑ رہی تھیں۔ عمران خان نے تلہ گنگ میں بہت بڑا جلسہ بھی کیا۔ جواب میں مسلم لیگ (ن) نے کوئی بڑا جلسہ بھی نہیں کیا۔ کوئی بڑا لیڈر تلہ گنگ بھی نہیں گیا۔ صرف حمزہ شہباز گئے۔ لیکن پھر بھی ن لیگ نے یہ سیٹ ایک بڑے مارجن سے جیت لی ہے۔ کیا یہ جیت مسلم لیگ (ن) کوفوری انتخابات کے لیے قائل کر سکتی ہے یہ تو مشکل لگتا ہے۔ یہ درست ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے برے سے برے حالات میں بھی بہت سے ضمنی انتخابات جیتے ہیں۔ تاہم پھر بھی ضمنی انتخابات کی جیت فوری انتخابات پر حکمران جماعت کو قائل نہیں کر سکتی۔

پانامہ کا پنجاب پر کیا اثر ہو گا۔ کیا نواز شریف کی جیت تحریک انصاف کا بوریا بستر گول کر دے گی۔ کیا عمران خان کی جیت میاں نواز شریف کا بوریا بستر گو ل کر دے گی۔ شاید صورتحال ایسے نہ ہو۔ لیکن پھر بھی پنجاب کے شہروں میں مڈل کلاس اور پڑھے لکھے ووٹر پر اس کا اثر ہو گا۔ کتنا زیادہ اور کم، یہ الگ بات ہے لیکن پھر بھی لوڈ شیڈنگ پانامہ سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہی حقیقت ہے ۔

مقبول خبریں