محاذ آرائی کا خاتمہ سب کے مفاد میں ہے
پاک فوج کی جانب سے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دینا ‘ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔اسے سنجیدہ لینا چاہیے
۔ فوٹو: فائل
نیوز لیکس انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر وزیراعظم ہاؤس کے نوٹیفکیشن کے بعدملک میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے' اس کے تناظر میں گزشتہروز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں جاتی امرا رائیونڈ لاہور میں ایک اہم اجلاس ہوا جو تقریباً اڑھائی گھنٹے تک جاری رہا۔
اجلاس میں وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان،وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار، حمزہ شہباز اور پرنسپل سیکریٹری پرائم منسٹر فواد حسن فواد شریک ہوئے۔ اس اجلاس کے حوالے سے میڈیا میں جو اطلاعات آئی ہیں' ان کے مطابق اس اہم اجلاس میں نیوز لیکس نوٹیفیکیشن کے حوالے سے پاک فوج اورحکومت کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنے پر اتفاق کیاگیا ہے' نیوز لیکس رپورٹ کی سفارشات پر مزید کارروائی پر بھی غور کیا گیا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ کے پیرا 18میں دی گئی سفارشات کی منظوری دی گئی جب کہ اس پر مزید نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بارے میں بھی فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں کہا گیا کہ مزید کارروائی اس طریقے سے کی جائے کہ پاک فوج کے تحفظات دور ہو جائیں۔
وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھاکہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے عسکری اداروں کا اہم کردار ہے۔ تمام فیصلے جمہوریت اور قوم کے مفاد میں کیے گئے ہیں، ہم پہلے بھی محاذ آرائی کی سیاست سے دور رہے ہیں اور آیندہ بھی دور رہیں گے۔ بلاشبہ اداروں کے درمیان محاذ آرائی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے' اس لیے محاذ آرائی کی شدت کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے' نیوز لیکس پر نوٹیفکیشن کے بعد خاصی سنگین صورت حال سامنے آئی ہے۔
پاک فوج کی جانب سے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دینا 'ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔اسے سنجیدہ لینا چاہیے۔ زیادہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ رپورٹ کو من و عن شایع کر دیا جائے تاکہ کسی کو اعتراض ہی نہ ہو ' بہر حال اگر حکومت نے صورت حال کی سنگینی کا احساس کیا ہے اور معاملات کو سدھارنے کی جانب قدم بڑھانے کا اشارہ دیا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے' حکومت کو اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ اس ایشو پرجتنی تاخیر ہوتی جائے گی معاملات اتنے ہی زیادہ الجھتے چلے جائیں گے۔بعض قوتیں ایسے حالات کو مزید گمبھیر بنانے کی خواہشمند ہو سکتی ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ محاذ آرائی کم نہ ہو۔
حکومت کو ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اداروں کے درمیان محاذ آرائی کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کمزور ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے' اس لیے فریقین کو ٹکراؤ اور محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے باہمی افہام و تفہیم سے معاملات کو حل کرنا چاہیے تاکہ معاملات درست ٹریک پر آ سکیں۔ محاذ آرائی کا خاتمہ سب کے مفاد میں ہے اور اسی میں ملک و قوم کا بھلا ہے۔
اجلاس میں وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان،وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار، حمزہ شہباز اور پرنسپل سیکریٹری پرائم منسٹر فواد حسن فواد شریک ہوئے۔ اس اجلاس کے حوالے سے میڈیا میں جو اطلاعات آئی ہیں' ان کے مطابق اس اہم اجلاس میں نیوز لیکس نوٹیفیکیشن کے حوالے سے پاک فوج اورحکومت کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنے پر اتفاق کیاگیا ہے' نیوز لیکس رپورٹ کی سفارشات پر مزید کارروائی پر بھی غور کیا گیا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ کے پیرا 18میں دی گئی سفارشات کی منظوری دی گئی جب کہ اس پر مزید نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بارے میں بھی فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں کہا گیا کہ مزید کارروائی اس طریقے سے کی جائے کہ پاک فوج کے تحفظات دور ہو جائیں۔
وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھاکہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے عسکری اداروں کا اہم کردار ہے۔ تمام فیصلے جمہوریت اور قوم کے مفاد میں کیے گئے ہیں، ہم پہلے بھی محاذ آرائی کی سیاست سے دور رہے ہیں اور آیندہ بھی دور رہیں گے۔ بلاشبہ اداروں کے درمیان محاذ آرائی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے' اس لیے محاذ آرائی کی شدت کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے' نیوز لیکس پر نوٹیفکیشن کے بعد خاصی سنگین صورت حال سامنے آئی ہے۔
پاک فوج کی جانب سے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دینا 'ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔اسے سنجیدہ لینا چاہیے۔ زیادہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ رپورٹ کو من و عن شایع کر دیا جائے تاکہ کسی کو اعتراض ہی نہ ہو ' بہر حال اگر حکومت نے صورت حال کی سنگینی کا احساس کیا ہے اور معاملات کو سدھارنے کی جانب قدم بڑھانے کا اشارہ دیا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے' حکومت کو اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ اس ایشو پرجتنی تاخیر ہوتی جائے گی معاملات اتنے ہی زیادہ الجھتے چلے جائیں گے۔بعض قوتیں ایسے حالات کو مزید گمبھیر بنانے کی خواہشمند ہو سکتی ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ محاذ آرائی کم نہ ہو۔
حکومت کو ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اداروں کے درمیان محاذ آرائی کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کمزور ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے' اس لیے فریقین کو ٹکراؤ اور محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے باہمی افہام و تفہیم سے معاملات کو حل کرنا چاہیے تاکہ معاملات درست ٹریک پر آ سکیں۔ محاذ آرائی کا خاتمہ سب کے مفاد میں ہے اور اسی میں ملک و قوم کا بھلا ہے۔