ٹریفک حادثات میں بڑھتی ہوئی اموات

ٹریفک پولیس کا غیر پروفیشنل رویہ اور ہائی ویز پر روشنی کا انتظام نہ ہونابھی ایک مسئلہ ہے


Editorial May 02, 2017
۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز

پاکستان شاید دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ٹریفک حادثات اور ان کے نتیجے میں اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے' گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا میں لواری ٹاپ کے قریب ایک مسافر کوچ کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں14افراد جاں بحق ہو گئے' لاہور میں بھی ایک ٹرک نے رکشے کو ٹکر ماری جس سے رکشے میں سوار ڈرائیور اور تین بچے جاں بحق ہو گئے' کراچی میں تو ٹریفک حادثات روز مرہ کا معمول ہیںاور روزانہ شہر میں کہیں نہ کہیں ٹریفک حادثے میں کوئی نہ کوئی موت ہوتی ہے۔

اگر ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں' قصبوں اور ہائی ویز پر ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی یومیہ تعداد کا تخمینہ لگایا جائے تو انتہائی تشویشناک صورت حال سامنے آئے گی۔ لیکن اتنے اہم ایشو پر حکومتی سطح پر کبھی کوئی سنجیدہ نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے' ٹریفک سے متعلقہ قوانین اور انتظامی امور چونکہ صوبائی اور ضلعی سطح تک ہوتے ہیں' اس لیے اس معاملے پر میڈیا بھی زیادہ توجہ نہیں دیتا اور ارکان اسمبلی کی ترجیحات میں بھی یہ ایشو شامل نہیں ہوتا' اس لیے ٹریفک حادثات دن بدن بڑھ رہے ہیں' ٹریفک حادثات کی وجوہات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

پہلے نمبر تو غیر تربیت یافتہ ڈرائیور ہیں' پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ڈرائیوروں کو ٹریفک سگنل اور دیگر قوانین کا علم نہیں ہوتا' ٹریفک پولیس کا غیر پروفیشنل رویہ اور ہائی ویز پر روشنی کا انتظام نہ ہونابھی ایک مسئلہ ہے' دریاؤں'کھائیوں اور گھاٹیوں سے گزرنے والی سڑکیں عموماً تنگ ہوتی ہیں اور وہاں حفاظتی اقدامات بھی نہیں ہوتے جن کی بنا پر ٹریفک حادثات زیادہ ہوتے ہیں' اگر حکومتیں ان وجوہات کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں تو ٹریفک حادثات میں کمی کی جا سکتی ہے۔