ڈرون حملوں سے متعلق نئی امریکی پالیسی کا معاملہ اعلیٰ سطح پراٹھایاجائے گاحناربانی
ڈرون حملوں سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ یہ حملے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں،حناربانی کھر
ڈرون حملوں سے متعلق میڈیا رپورٹس کا معاملہ امریکی محکمہ خارجہ اور اسلام آباد میں امریکی سفیر کے سامنے اٹھایا جائے گا،حناربانی کھر فوٹو: فائل
وزیرخارجہ حناربانی کھر نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے ڈرون حملوں کی اجازت دینے کے معاملے میں صداقت ہے تو یہ معاملہ واشنگٹن اورپاکستان میں امریکی سفیرکے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
چیئرمین نیئر حسن بخاری کی سربراہی میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیرخارجہ حناربانی کھر نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کی پالیسی جاری رکھنے اور اس حوالے سے امریکی کانگریس کی اجازت دیئے جانے کی میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں۔ ڈرون حملوں سے متعلق پاکستان کا موقف واضح ہے کہ یہ حملے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ معاملہ بھی واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ اور اسلام آباد میں امریکی سفیر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف سی آئی اے اور امریکی فوج کی ٹارگٹڈ کارروائیوں میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے''کاؤنٹرٹیررازم پلے بک'' نامی ایک نئی پالیسی تشکیل دی ہے تاہم امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی موجودہ پالیسی جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
چیئرمین نیئر حسن بخاری کی سربراہی میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیرخارجہ حناربانی کھر نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کی پالیسی جاری رکھنے اور اس حوالے سے امریکی کانگریس کی اجازت دیئے جانے کی میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں۔ ڈرون حملوں سے متعلق پاکستان کا موقف واضح ہے کہ یہ حملے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ معاملہ بھی واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ اور اسلام آباد میں امریکی سفیر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف سی آئی اے اور امریکی فوج کی ٹارگٹڈ کارروائیوں میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے''کاؤنٹرٹیررازم پلے بک'' نامی ایک نئی پالیسی تشکیل دی ہے تاہم امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی موجودہ پالیسی جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔