مردان میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان ہلاک
20 سال کا بلال غنی حافظ قرآن اور ذہنی مریض تھا، ورثا
آئی جی نے ریجنل پولیس افیسر اور ضلعی افیسر کو میرٹ پر تحقیقات کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے
تھانا سٹی کے قریب پولیس کی فائرنگ سے نوجوان ذہنی مریض شہری ہلاک ہوگیا۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق مردان میں ایک نوجوان سٹی پولیس اسٹیشن کے قریب سے مشکوک اندازمیں بھاگ رہا تھا، جس پرٹریفک پولیس اہلکارسعید نے اسے مشکوک جان کر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
ڈی ایس پی تھانہ سٹی کا کہنا ہے کہ ہلاک شخص کی شناخت 20 سالہ بلال کے نام سے ہوئی ہے جو مدرسے کا طالب علم اور ذہنی مریض تھا، لڑکا دوڑتا ہوا پولیس اسٹیشن کے سامنے پہنچا تھا، لڑکے نے اہلکار کو دھکا دیا جس پر اہلکار نے اسے مشکوک سمجھ کر فائرنگ کردی، پولیس اہلکارکوگرفتار کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہیں۔
فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بلال کے ورثا کا کہنا ہے کہ 20 سال کا بلال غنی حافظ قرآن اورجمال گڑھی کا رہائشی تھا، وہ والد کے ہمراہ ڈاکٹر کے پاس جا رہا تھا کہ ایک دم بھاگ نکلا جس پرپولیس نے اس پر فائرنگ کردی۔
دوسری جانب آئی جی پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل اورضلعی پولیس افیسر کو تحقیقات کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق مردان میں ایک نوجوان سٹی پولیس اسٹیشن کے قریب سے مشکوک اندازمیں بھاگ رہا تھا، جس پرٹریفک پولیس اہلکارسعید نے اسے مشکوک جان کر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
ڈی ایس پی تھانہ سٹی کا کہنا ہے کہ ہلاک شخص کی شناخت 20 سالہ بلال کے نام سے ہوئی ہے جو مدرسے کا طالب علم اور ذہنی مریض تھا، لڑکا دوڑتا ہوا پولیس اسٹیشن کے سامنے پہنچا تھا، لڑکے نے اہلکار کو دھکا دیا جس پر اہلکار نے اسے مشکوک سمجھ کر فائرنگ کردی، پولیس اہلکارکوگرفتار کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہیں۔
فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بلال کے ورثا کا کہنا ہے کہ 20 سال کا بلال غنی حافظ قرآن اورجمال گڑھی کا رہائشی تھا، وہ والد کے ہمراہ ڈاکٹر کے پاس جا رہا تھا کہ ایک دم بھاگ نکلا جس پرپولیس نے اس پر فائرنگ کردی۔
دوسری جانب آئی جی پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل اورضلعی پولیس افیسر کو تحقیقات کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔