سپر لیگ ایک ٹیم پر7 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی
ڈومیسٹک پلیئرز کو بھی معقول معاوضے دینگے، کراچی، لاہور یا پنڈی میں سے ایک میزبان۔
مختلف کیٹیگریز میں پاکستانی کھلاڑیوں کو غیر ملکیوں کے برابر ہی رقم ملے گی، سلمان سرور فوٹو: فائل
پاکستان سپر لیگ میں ایک16 رکنی ٹیم پر7 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔
آئیکون پلیئرز کا فیصلہ بی سی بی کی طرف سے فہرست جاری کیے جانے کے بعد ہوگا، ڈومیسٹک کرکٹرز کو بھی معقول معاوضے ملیں گے۔ان خیالات کا اظہار ایونٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر سلمان سرور بٹ نے ایک انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ فرنچائزز کے کرکٹرز کی بنیادی قیمت اور آئیکون پلیئرز کا فیصلہ بی سی بی کے طرف سے 80 پلیئرز کی فہرست ملنے کے بعد کریں گے، فی الحال تو اتنا طے کیا گیا ہے کہ ایک 16 رکنی ٹیم پر مجموعی طور پر 7 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ لیگ سے انٹرنیشنل کے ساتھ ڈومیسٹک پلیئرز کو بھی رقم کمانے کا موقع ملے گا، کرکٹ کی ریجنل مارکیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف کیٹیگریز میں پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی اتنی ہی رقم ملے گی جتنی غیر ملکیوں کو دیں گے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ بگ بیش ایک اسپانسر لیگ ہے، بھارتی مارکیٹ پاکستان سے 10 گنا بڑی ہونے کی وجہ سے آئی پی ایل سے موازنہ درست نہیں ہوگا، پی ایس ایل کو بنگلہ دیشی اور سری لنکن لیگ کے ہم پلہ قرار دینا زیادہ مناسب ہے، کوشش ہوگی کہ ہمارا ایونٹ ان سے زیادہ کامیاب ثابت ہو۔
چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف ایونٹ کو ٹیکس فری قرار دلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں کاروباری حضرات کی حوصلہ افزائی اور وہ اسپورٹس بزنس میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔ سلمان سرور بٹ نے کہا کہ کم وقت کے باوجود امور منظم انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، براڈ کاسٹنگ سمیت چند رائٹس کیلیے اشتہار جاری کردیا،فرنچائزز سمیت مختلف حقوق کے مراحل فروری میں مکمل کرکے پلیئرز کے ساتھ متعلقہ امور کو حتمی شکل دینے کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سپر لیگ کیلیے کراچی لاہوراور راولپنڈی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے حالات کے مطابق مثبت اور منفی پہلو زیر غور لائے جائینگے۔ سلمان سرور نے کہا کہ جاوید میانداد ڈی جی ہونے کے ناطے کرکٹ کے معاملات کو سمجھتے ہیں، ٹیموں، میچزکی تعداد اور فارمیٹ کی تشکیل میں سابق کپتان سے مشاورت کی گئی، پلیئرز پول کی تیاری میں بھی ان سے مدد لیں گے۔
آئیکون پلیئرز کا فیصلہ بی سی بی کی طرف سے فہرست جاری کیے جانے کے بعد ہوگا، ڈومیسٹک کرکٹرز کو بھی معقول معاوضے ملیں گے۔ان خیالات کا اظہار ایونٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر سلمان سرور بٹ نے ایک انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ فرنچائزز کے کرکٹرز کی بنیادی قیمت اور آئیکون پلیئرز کا فیصلہ بی سی بی کے طرف سے 80 پلیئرز کی فہرست ملنے کے بعد کریں گے، فی الحال تو اتنا طے کیا گیا ہے کہ ایک 16 رکنی ٹیم پر مجموعی طور پر 7 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ لیگ سے انٹرنیشنل کے ساتھ ڈومیسٹک پلیئرز کو بھی رقم کمانے کا موقع ملے گا، کرکٹ کی ریجنل مارکیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف کیٹیگریز میں پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی اتنی ہی رقم ملے گی جتنی غیر ملکیوں کو دیں گے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ بگ بیش ایک اسپانسر لیگ ہے، بھارتی مارکیٹ پاکستان سے 10 گنا بڑی ہونے کی وجہ سے آئی پی ایل سے موازنہ درست نہیں ہوگا، پی ایس ایل کو بنگلہ دیشی اور سری لنکن لیگ کے ہم پلہ قرار دینا زیادہ مناسب ہے، کوشش ہوگی کہ ہمارا ایونٹ ان سے زیادہ کامیاب ثابت ہو۔
چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف ایونٹ کو ٹیکس فری قرار دلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں کاروباری حضرات کی حوصلہ افزائی اور وہ اسپورٹس بزنس میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔ سلمان سرور بٹ نے کہا کہ کم وقت کے باوجود امور منظم انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، براڈ کاسٹنگ سمیت چند رائٹس کیلیے اشتہار جاری کردیا،فرنچائزز سمیت مختلف حقوق کے مراحل فروری میں مکمل کرکے پلیئرز کے ساتھ متعلقہ امور کو حتمی شکل دینے کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سپر لیگ کیلیے کراچی لاہوراور راولپنڈی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے حالات کے مطابق مثبت اور منفی پہلو زیر غور لائے جائینگے۔ سلمان سرور نے کہا کہ جاوید میانداد ڈی جی ہونے کے ناطے کرکٹ کے معاملات کو سمجھتے ہیں، ٹیموں، میچزکی تعداد اور فارمیٹ کی تشکیل میں سابق کپتان سے مشاورت کی گئی، پلیئرز پول کی تیاری میں بھی ان سے مدد لیں گے۔