12 مئی کے متاثرین کی داد رسی کب ہوگی
اسٹیک ہولڈرز اصل ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے بلیم گیم میں وقت ضایع کرتے رہے
گرفتاری کے بعد ایس آئی یو کو 5لاکھ روپے دے کر رہا ہوا،ملزم کا دعویٰ
سندھ اسمبلی نے جمعہ کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں سانحہ12مئی2007 میںملوث ملزمان کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس دن کراچی میں ان بے گناہ شہریوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کیا گیا جو پرامن طور پر عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ یہ قرارداد پیپلزپارٹی کے پارلیمانی رہنما نثار کھوڑو نے پیش کی، ایم کیوایم سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔
بلاشبہ 12 مئی کا سانحہ دل دہلا دینے والا تھا ، اس روز جمہوری جدوجہد سر نگوں ہوئی ، فسطائی طاقتوں نے شاید سلیمانی ٹوپی پہن کر شہر قائد کو خون میں ڈبو دیا، 55 سے زائد سیاسی کارکن اور شہری ہلاک و متعدد زخمی ہوئے ، شاہراہوں اور داخلی سڑکوں کو راتوں رات کھود کر ٹریفک بند کیا گیا ، یہ احتجاج سابق چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری کی کراچی آمد روکنے کے لیے ہوا تھا جس نے بدترین سانحہ کو جنم دیا ، لیکن اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز اصل ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے بلیم گیم میں وقت ضایع کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک اس سانحہ کے گرفتار ملزمان کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکے ،اس سانحہ کے متاثرین میں پی پی ،ایم کیو ایم اور اے این پی کے کارکن اور وکلا شامل تھے۔
دریں اثنا جمعہ کو سانحہ 12مئی کے 10 سال مکمل ہونے پر ملک بھر کے وکلا نے جمعہ کو یوم سیاہ منایا اور عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین احسن بھون، لاہور ہائیکورٹ بارکے صدر ذوالفقار چوہدری اور لاہور بار کے صدر چوہدری تنویر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سانحہ 12 مئی ملکی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، ذمے داروں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
ادھر سندھ بار کونسل کی اپیل پر کراچی سمیت سندھ بھر میں بھی سانحہ 12مئی کے خلاف وکلاء نے یوم سیاہ منایا، عدالتوں میں ہڑتال کی اور بار رومز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے، سندھ ہائیکورٹ سمیت کراچی کی دیگر عدالتوں میں وکلاء نے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا، سندھ ہائیکورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے تحت علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد ہوئے جس میں سانحہ 12مئی کے خلاف مذمتی قراردادیں پیش کی گئیں۔
آج بھی ضرورت اس سانحہ کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کی ہے ،اس سانحہ کو سابق صدر جنرل مشرف نے اپنی حکومت کی طاقت کے اظہار سے تشبیہ دی تھی تاہم شہر قائد کو ضرورت انصاف کی فراہمی، رواداری اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی ہے۔12 مئی بدامنی کا بدترین استعارہ تھا اسے جھٹلانے کے بجائے متاثرین کی داد رسی ہونی چاہیے۔
بلاشبہ 12 مئی کا سانحہ دل دہلا دینے والا تھا ، اس روز جمہوری جدوجہد سر نگوں ہوئی ، فسطائی طاقتوں نے شاید سلیمانی ٹوپی پہن کر شہر قائد کو خون میں ڈبو دیا، 55 سے زائد سیاسی کارکن اور شہری ہلاک و متعدد زخمی ہوئے ، شاہراہوں اور داخلی سڑکوں کو راتوں رات کھود کر ٹریفک بند کیا گیا ، یہ احتجاج سابق چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری کی کراچی آمد روکنے کے لیے ہوا تھا جس نے بدترین سانحہ کو جنم دیا ، لیکن اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز اصل ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے بلیم گیم میں وقت ضایع کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک اس سانحہ کے گرفتار ملزمان کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکے ،اس سانحہ کے متاثرین میں پی پی ،ایم کیو ایم اور اے این پی کے کارکن اور وکلا شامل تھے۔
دریں اثنا جمعہ کو سانحہ 12مئی کے 10 سال مکمل ہونے پر ملک بھر کے وکلا نے جمعہ کو یوم سیاہ منایا اور عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین احسن بھون، لاہور ہائیکورٹ بارکے صدر ذوالفقار چوہدری اور لاہور بار کے صدر چوہدری تنویر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سانحہ 12 مئی ملکی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، ذمے داروں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
ادھر سندھ بار کونسل کی اپیل پر کراچی سمیت سندھ بھر میں بھی سانحہ 12مئی کے خلاف وکلاء نے یوم سیاہ منایا، عدالتوں میں ہڑتال کی اور بار رومز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے، سندھ ہائیکورٹ سمیت کراچی کی دیگر عدالتوں میں وکلاء نے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا، سندھ ہائیکورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے تحت علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد ہوئے جس میں سانحہ 12مئی کے خلاف مذمتی قراردادیں پیش کی گئیں۔
آج بھی ضرورت اس سانحہ کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کی ہے ،اس سانحہ کو سابق صدر جنرل مشرف نے اپنی حکومت کی طاقت کے اظہار سے تشبیہ دی تھی تاہم شہر قائد کو ضرورت انصاف کی فراہمی، رواداری اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی ہے۔12 مئی بدامنی کا بدترین استعارہ تھا اسے جھٹلانے کے بجائے متاثرین کی داد رسی ہونی چاہیے۔