گوادر میں مزدوروں پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ
دہشتگردوں کو ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ ان کے ٹھکانوں، رابطوں اور سہولت کاروں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے
ملک میں امن و امان کی فضا سبوتاژ کرکے وطن کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے خواہشمند اور ترقی کے دشمن ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں، اور انھوں نے اپنے شر انگیزی کا نشانہ معصوم لوگوں کو بنانہ شروع کردیا ہے۔ اگلے روز بلوچستان کے ضلع گوادر کے نواحی علاقے پشگان اورگنز کے مقامات پر روڈ کی تعمیر کا کام کرنیوالے پرائیویٹ کمپنی کے مزدوروں پر نامعلوم مسلح تخریب کاروں نے فائرنگ کردی جس سے دس مزدور جاں بحق جب کہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔
بلاشبہ شواہد کی روشنی میں ملزمان کی تلاش جاری ہے اور تاحال نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے نہ ہی کسی نے واقعے کی ذمے داری قبول کی ہے لیکن یہ امر واضح ہے کہ 'تعمیر' کا کام کرنیوالے مزدوروں کو 'تخریبی سوچ' کے حامل گماشتوں نے نشانہ بنایا ہے جن کی نگاہوں میں گوادر بلکہ پاکستان کی ترقی بری طرح کھٹک رہی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ علاقے کو فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔ مزید کارروائی متعلقہ انتظامیہ کررہی ہے لیکن نتائج آنے تک مطمئن ہوکر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ وطن دشمن عناصر آپریشن ضرب عضب کے بعد وقتی طور پر پسپا تو ہوگئے تھے لیکن اب بھی وقتاً فوقتاً ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جس سے مترشح ہے کہ دہشتگردوں کی باقیات خود کو منظم کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
جمعہ کو مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر خودکش حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سنگلاخ چٹانوں میں گھرا بلوچستان کا خطہ عرصہ دراز سے شورش و بدامنی کا شکار ہے، یہاں نہ صرف اندرونی چپقلش بلکہ 'بیرونی' ہاتھوں نے بھی امن و امان کی فضا کو خون آلود کیا ہے۔ صائب ہوگا کہ پورے ملک میں دہشتگرد عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور بلوچستان میں پنپتے شرپسند گروہوں کی بیخ کنی کے لیے حکومت و سیکیورٹی ادارے مکمل مستعدی کے ساتھ فعال ہوں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف جاری جنگ کا احاطہ بڑھایا جائے اور شرپسندوں کی ان باقیات کا بھی خاتمہ کیا جائے جو وقتی طور پر پسپا ہوکر امن پسندوں کے درمیان چھپ بیٹھی ہیں۔ ایسے افراد کی نشاندہی کرکے پہلے سے زیادہ اور منظم انداز میں ان کے خلاف کارروائی کی ازحد ضرورت ہے۔ دہشتگردوں کو ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ ان کے ٹھکانوں، رابطوں اور سہولت کاروں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو منظم ہونے کی ضرورت ہے۔