کامران کیس نیب کا مقدمہ درج نہ کرانا کوتاہی ہے یاسمین رحمن
بیٹے کو قتل کیا گیا، سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد کسی نتیجے پر پہنچ جائینگے،عبدالحمید
بیٹے کو قتل کیا گیا، سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد کسی نتیجے پر پہنچ جائینگے،عبدالحمید فوٹو : فائل
پیپلزپارٹی کی رہنما یاسمین رحمٰن نے کہا ہے کہ کامران فیصل کی ہلاکت افسوسنا ک ہے نیب کوچاہیے تھا کہ وہ ایف آئی آر درج کراتا اور تحقیقات ہوتیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' میں اینکر پرسن طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ نیب نے ایف آئی آردرج نہ کرا کے کوتاہی برتی ہے۔ عوام کا اداروں پر اعتماد ہی اٹھ چکا ہے ہم سب اداروں کو چھوڑ کر سیدھے سپریم کورٹ کی طرف جاتے ہیں۔ جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو تقرریاں ہوتی ہیں لیکن تقرریوں کے بعد آزادانہ طور پر کام کیا جا سکتا ہے، سسٹم میں خامیاں ہیں بہتری لانے کی امید کی جانی چاہیے۔
آج جمہوریت کی وجہ سے ہی میڈیا آزاد ہے اور اس معاملے پر بے لاگ بات چیت ہورہی ہے۔ کامران فیصل کے والد حاجی عبدالحمید نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اب ہم کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہوجائینگے۔کامران فیصل کی ہلاکت سوفی صد قتل ہے سپریم کورٹ کے فیصلے بول رہے ہیں لیکن ان فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا کیونکہ عملدرآمد کرنے والے خود ان فیصلوں کے رگڑے میں آرہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کبھی تو اس قوم کی حالت سنوارے گا۔ میرا بچہ عملی طور پر مسلمان تھا لیکن اس کو خودکشی کے چکر میں پھنسایا جا رہا ہے اس کے ہاتھوں پر رسی اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ ہمیں کھلونوں سے بہلایا جارہا ہے۔ نیب کو چاہیے تھا کہ وہ ایف آئی آر درج کراتے کیونکہ وہ ان کے محکمے میں تھا۔ اس عدالت کے بعد ایک عدالت اوپر بھی ہے ہمارا کیس وہاں ضرور چلے گا۔
انسانی حقوق کی ترجمان فرزانہ باری نے کہا کہ ہماراسسٹم گل سڑ چکا ہے کرپشن بے حد ہوچکی ہے میرٹ ختم ہوچکا ہے اگر کوئی اپنے ضمیر کے مطابق کام کرنا بھی چاہے تو اس کو بہت سے پریشر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انشاء اللہ گلاسڑا سسٹم ٹھیک ہوگا ہمیں اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' میں اینکر پرسن طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ نیب نے ایف آئی آردرج نہ کرا کے کوتاہی برتی ہے۔ عوام کا اداروں پر اعتماد ہی اٹھ چکا ہے ہم سب اداروں کو چھوڑ کر سیدھے سپریم کورٹ کی طرف جاتے ہیں۔ جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو تقرریاں ہوتی ہیں لیکن تقرریوں کے بعد آزادانہ طور پر کام کیا جا سکتا ہے، سسٹم میں خامیاں ہیں بہتری لانے کی امید کی جانی چاہیے۔
آج جمہوریت کی وجہ سے ہی میڈیا آزاد ہے اور اس معاملے پر بے لاگ بات چیت ہورہی ہے۔ کامران فیصل کے والد حاجی عبدالحمید نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اب ہم کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہوجائینگے۔کامران فیصل کی ہلاکت سوفی صد قتل ہے سپریم کورٹ کے فیصلے بول رہے ہیں لیکن ان فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا کیونکہ عملدرآمد کرنے والے خود ان فیصلوں کے رگڑے میں آرہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کبھی تو اس قوم کی حالت سنوارے گا۔ میرا بچہ عملی طور پر مسلمان تھا لیکن اس کو خودکشی کے چکر میں پھنسایا جا رہا ہے اس کے ہاتھوں پر رسی اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ ہمیں کھلونوں سے بہلایا جارہا ہے۔ نیب کو چاہیے تھا کہ وہ ایف آئی آر درج کراتے کیونکہ وہ ان کے محکمے میں تھا۔ اس عدالت کے بعد ایک عدالت اوپر بھی ہے ہمارا کیس وہاں ضرور چلے گا۔
انسانی حقوق کی ترجمان فرزانہ باری نے کہا کہ ہماراسسٹم گل سڑ چکا ہے کرپشن بے حد ہوچکی ہے میرٹ ختم ہوچکا ہے اگر کوئی اپنے ضمیر کے مطابق کام کرنا بھی چاہے تو اس کو بہت سے پریشر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انشاء اللہ گلاسڑا سسٹم ٹھیک ہوگا ہمیں اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔