ترقیاتی بجٹ جمہوری ثمرات کی نوید لائے

آئندہ مالی سال کے دوران آٹھ سے دس ہزار میگاواٹ بجلی قومی نظام میں شامل ہوگی

۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں 26 فیصد اضافہ کے ساتھ ملکی تاریخ کے ریکارڈ 21 کھرب 13 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گورنر خیبر پختونخوا، وزیراعظم آزاد کشمیر، وفاقی و صوبائی وزراء نے شرکت کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے ملکی ترقی پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔

پاکستان کے معاشی اشاریے نمایاں بہتری دکھا رہے ہیں اور عالمی مالیاتی ریٹنگ کے ادارے پاکستانی معیشت میں بہتری کا اعتراف بھی کرتے ہیں، جی ڈی پی کی 5.28 فیصد شرح نمو قابل تحسین ہے، پاکستان اب تیز ترین ترقی کرنے والی معیشت ہے۔

قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومتیں ترقی کے لیے ہم آہنگی سے کام کر رہی ہیں، سی پیک منصوبے تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں جب کہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں تمام وزرائے اعلیٰ میرے ہمراہ تھے۔ دنیا نے دیکھا پاکستان ترقی کے لیے متحد کھڑا ہے، ملکی ترقی کے لیے ہمارا اتحاد دنیا کے لیے مثبت پیغام تھا۔

ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کے جمہوریت کے ثمرات سے بہر ور ہونے کے لیے ترقیاتی بجٹ کی منظوری اس اعتبار سے بلاشبہ ایک خوش آئند اقدام ہے کہ ملکی سیاست میں سخت کشیدگی ، محاذ آرائی کے باوجود حکومت نے مناسب تحمل کے ساتھ بجٹ سازی کی اور ملکی تقدیر بدلنے کے لیے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے ان پر شفاف طریقے سے عملدرآمد ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بن کر ابھر نہ سکے۔

اگر سی پیک کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمہ جہت ترقی اور اقتصادی پیش رفت کو ملکی و غیر ملکی معاشی ماہرین اور ممالک گیم چینجر منصوبہ سے تعبیر کررہے ہیں، پاکستان کی معاشی ترقی کے چرچے بھارتی اخبارات میں ہوئے ہیں جب کہ عالمی مالیاتی ادارے اور ریٹنگ ایجنسیز کی طرف سے بھی دل خوش کن جائزے ملکی اقتصادی صورتحال کی بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن جو چیز سالانہ ترقیاتی بجٹ کی منظوری میں اہمیت کی حامل ہے وہ زمینی سیاسی، سماجی اور اقتصادی حقائق ہیں جو بجٹ کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے نکال کر قومی میزانئے کی معاشی اور قومی قلب ماہیت سے جوڑنے کی حرکیات کا تعین کرتے ہیں۔

اب وقت ہی بتائے گا کہ جن اقدامات اور انقلابی منصوبوں کا بجٹ میں ذکر ہے ان سے غربت کیسے ختم ہوگی اور قوم کی معاشی امنگوں کی کس حد تک سچی ترجمانی ہوسکے گی ، در حقیقت یہی وہ پیمانہ ہوگا جو موجودہ حکومت کے اس بجٹ کے اقتصادی ، سماجی اور دیگر دور رس اثرات و مضمرات اور مثبت نتائج کا احاطہ کریگا۔

قومی اقتصادی کونسل کے اجلا س کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے بتایا کہ نئے ترقیاتی بجٹ میں اقتصادی راہداری منصوبوں کے لیے180ارب، وزیر اعظم ہیلتھ انشورنس اسکیم کے لیے10اور اسپتالوں کی تعمیر کے لیے بھی 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے دوران آٹھ سے دس ہزار میگاواٹ بجلی قومی نظام میں شامل ہوگی۔ انھوں نے کہا قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 2ہزار 113ارب روپے مقرر کرنے کی منظوری دی، وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے1ہزار1ارب روپے جب کہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کے لیے1ہزار 112ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔


معیشت کا حجم 300ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے اور 2017-18کے دوران یہ 350ارب ڈالر سے بڑھ جائیگا، اس سال گروتھ ریٹ 5.3فیصد ہے جس میں زراعت کا حصہ 3.5فیصد ہے، مینوفکچرنگ اس سال 5.3 فیصد رہی جو گزشتہ سال 3.7فیصد تھی، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بہتری سے صنعتی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، آئندہ سال مزید بجلی سسٹم میں شامل ہونے سے صنعتی ترقی میں مزید مدد ملے گی، خدمات کے شعبے میں اس سال6 فیصد گروتھ دیکھنے میں آئی جو گزشتہ سال 5.6 فیصد تھی، اس سال خدمات کا شعبہ اپنے ہدف سے بھی بہتر رہا جس کی وجہ اقتصادی بحالی اور اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔

جولائی سے اب تک محصولات 3.146 ٹریلین ہیں جو گزشتہ سال 2.9 ٹریلین تھیں۔ اگلے سال کے لیے برآمدات کا ہدف 23 ارب 10کروڑ ڈالر رکھا گیا ہے، ا س سال برآمدات21ارب سترکروڑ جب کہ گزشتہ سال 22 ارب ڈالر رہی تھیں جب کہ اس سال درآمدات45.7 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال 40.5ارب ڈالر تھیں۔

درآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ توانائی اور تعمیرات کے شعبے میں درآمد کی جانے والی مشینری ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کارپوریشن کا بجٹ 400ارب روپے ہوگا، 411ارب انفرااسٹرکچر، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے 320ارب ، ریلوے کے لیے 43ارب ، ایوی ایشن 44 ارب اور توانائی منصوبوں کے لیے404ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں سے87 ارب پی ایس ڈی پی میں سے جب کہ این ٹی ڈی سی، جینکوز اور واپڈا اپنے وسائل سے 317 ارب روپے دینگی، رواں سال ریونیو نمایاں اضافہ سے3.146 ٹریلین رہا جو گزشتہ سال2.9 ٹریلین تھے۔

احسن اقبال نے کہا آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف 6 فیصد مقررکیا گیا ہے ، مینوفیکچرنگ اور خدمات کا شعبے کا ہدف 6.4 فیصد مقررکیا ہے، آئندہ مالی سال کے لیے افراط زر کی شرح 6 فیصد مقرر کی گئی ہے جب کہ سرمایہ کاری کا ہدف 17.2فیصد مقررکیا گیا ہے ، 180ارب روپے اقتصادی راہداری منصوبوں کے لیے، بلوچستان کے لیے 17ارب روپے رکھے گئے ہیں، کچھی کینال منصوبہ اسی سال مکمل کرلیا جائیگا جس سے ڈیرہ بگٹی کا وسیع علاقہ سیراب ہوگا، گوادر کی ترقی کے لیے 31 منصوبے رکھے گئے ہیں جب کہ فاٹا، کشمیر، گلگت بلتستان کے لیے بھی کثیر رقم رکھی گئی۔

این ای سی اجلاس میں وزیر اعظم نے گلگت بلتستان اور فاٹا کا مقدمہ پیش کیا اور چاروں صوبوں سے درخواست کی کہ این ایف سی کے اند ران علاقوں کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا فارمولا بنایا جائے۔ آزاد کشمیر کی 12ارب بلاک ایلوکیشن کو بڑھا کر 22ارب کیا گیا، گلگت بلتستان کے لیے بلاک ایلوکیشن 9ارب روپے سے بڑھا کر 12ارب کیا جا رہا ہے جوگلگت بلتستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ اضافہ ہے، آئندہ سال کے دوران گلگت بلتستان کو تین ارب روپے کا خصوصی پیکج دیا جا رہا ہے۔

فاٹا کا بجٹ21ارب روپے تھا جس میں اضافہ کرکے ساڑھے چوبیس ارب کیا جا رہا ہے۔ سماجی تحفظ کے شعبے کے لیے بجٹ کو 90ارب سے بڑھا کر 153ارب کیا جار ہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے بجٹ 35ارب 50کروڑ روپے مقررکیا ہے، ثقافت اور ادب کے فروغ کے لیے اکادمی ادبیات کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے، 12ارب 50کروڑ روپے کی لاگت سے انرجی فارآل پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، ساڑھے بارہ ارب روپے کی لاگت سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا پروگرام شروع کیاجا رہا ہے ، تعلیمی اداروں میں منشیات کے رجحان کے خاتمے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خصوصی گرانٹ دے رہے ہیں، انٹر یونیورسٹی اسپورٹس پروگرام کے لیے دو ارب روپے فراہم کئے جا رہے ہیں جب کہ ہیلتھ انشورنس کے لیے دس ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت نے عالمی اقتصادی حالات ، دہشتگردی اور داخلی سیاسی کشمکش میں بھی ملک کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی توجہ کا مرکزبنانے کی طرف پیش قدمی کی، مگر ابھی عوام کو بجٹ سے کماحقہ فیضیاب کرنے کا سفر دشوار ضرور ہے نا ممکن نہیں، ضرورت سائنس و ٹیکنالوجی میں بریک تھرو اور تعلیمی ، زرعی و صنعتی شعبوں میںجدت و تحقیق کے کاموں میں مزید سرمایہ کاری کی ہے، جبھی بجٹ تقدیر پلٹ ثابت ہوسکتا ہے۔

 
Load Next Story