دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے
پاک افواج اور سیکیورٹی ادارے مکمل تندہی کے ساتھ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے کے لیے فعال ہیں
کوئٹہ کو گوادر سے ملانے والی شاہراہ ریشم پر ایک بار پھر دہشت گردی کے شاخسانے میں 3 مزدور جاں بحق ہوگئے۔ تربت میں دہشت گردوں نے سڑک کی تعمیر کرنے والے ایف ڈبلیو او کے 4 مزدوروں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ چھٹی کے باعث جمعہ کو اپنے کیمپ سے اشیائے خوردنی کی خریداری کے کے لیے پیدل بازار جارہے تھے۔ فائرنگ سے بازار میں بھگدڑ مچ گئی۔
مکران ڈویژن میں سات روز میں 13 مزدور جاں بحق اور دو زخمی ہوچکے ہیں۔ چند روز قبل گوادر میں بھی مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 10 مزدوروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا تھا۔ سڑک کی تعمیر کرنے والے مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے مترشح ہے کہ یہ دہشت گردی سی پیک اور صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔
دوسری جانب چارسدہ کی تحصیل شب قدر کے مختلف علاقوں میں 5 دھماکوں میں 7 بچوں سمیت 14 افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دھماکے دستی بم کے تھے ۔ دھماکوں کے بعد علاقے کی سیکیورٹی سخت کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردالفساد اور دیگر ٹارگٹڈ آپریشنز کے بعد بظاہر یہ دہشت گرد عناصر پسپا ہوگئے تھے لیکن اب تواتر سے ہونے والے دہشت گردانہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عناصر چراغ شب آخر کی طرح بجھنے سے پہلے بھڑک رہے ہیں، ان شرپسند عناصر کی مکمل بیخ کنی کے کے لیے آہنی ہاتھوں کا استعمال کرنا ہوگا۔
حکومت اور سیکیورٹی ادارے مکمل فعال ہیں اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے ساتھ روٹھے ہوئے ہم وطنوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایک خوش کن اطلاع موصول ہوئی ہے کہ کالعدم تنظیم بی ایل ایف کے 3 کمانڈروں سمیت 26 فراری ایف سی کیمپ خضدار میں ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ اب پہاڑوں پر بہت تھوڑے لوگ رہ گئے ہیں جو دشمن کے ہاتھوں میں کھیل کر اپنی دنیا تباہ کررہے ہیں، ان عاقبت نااندیش لوگوں کو بھی ہوش کے ناخن لینا ہوں گے، غیروں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے وہ بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ملک کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔
ہتھیار ڈالنے والے فراری کمانڈر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہم اپنے ماضی کے کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، ہمیں سنہرے خواب دکھا کر ورغلایا گیا۔ امید کی جانی چاہیے کہ باقی ماندہ باغی بھی راہ راست پر آجائیں گے۔ وطن دشمن عناصر کی نہتے مزدوروں پر فائرنگ اور اسکول کے بچوں پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور مکروہ فعل ہے، یہ دشمنان وطن کی بھول ہے کہ اس طرح کے واقعات پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے روک سکتے ہیں۔
پاک افواج اور سیکیورٹی ادارے مکمل تندہی کے ساتھ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے کے لیے فعال ہیں اور دہشت گردوں کا عبرتناک انجام اب زیادہ دور نہیں لیکن صائب ہوگا کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے، سیکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات سے بچا جاسکے۔