غیر ملکی کمپنیوں نے جولائی تا دسمبر475 کروڑ ڈالر کا منافع باہر بھیجا
گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 53 کروڑ 11 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔
گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 53 کروڑ 11 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران فنانشل سیکٹرسے منافع کی بیرون ملک منتقلی میں اضافہ جبکہ تیل وگیس کی تلاش، پاور اور ٹیلی کام سیکٹر سے منافع کی منتقلی کم رہی۔
ماہرین کے مطابق حکومتی تمسکات میں فنانسنگ سے بینکنگ اور فنانشل سیکٹر کے منافع میں اضافہ ہوا ہے تاہم ملک میں امن و امان کے مسائل اور سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے پاور ٹیلی کام اور ریفائننگ سیکٹر دبائو کا شکار ہیں۔ پاکستان میں کاروبار کرنے والی غیرملکی کمپنیوں نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان میں حاصل کردہ 47 کروڑ49 لاکھ ڈالر کا منافع اپنے ملکوں کو منتقل کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2012 کے دوران منتقل کردہ منافع کی مالیت مالی سال 2011-12 کے اسی عرصے میں منتقل کیے گئے 51 کروڑ37 لاکھ ڈالر منافع سے 7.5 فیصد کم ہے۔
گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 53 کروڑ 11 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی جبکہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا 38کروڑ87 لاکھ ڈالر اور غیرملکی نجی سرمایہ کاری سے حاصل کردہ 12کروڑ49 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 56 کروڑ 28 لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی جس میں ایف ڈی آئی سے ملنے والا 38 کروڑ 15 لاکھ ڈالر جبکہ نجی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا 9 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا، رواں مالی سال سب سے زیادہ 13 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کا منافع فنانشل بزنس سے بیرون ملک منتقل ہوا جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 153.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ مالی سال کے دوران اس شعبے سے 5 کروڑ18 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا تھا، پٹرولیم ریفائننگ کا شعبہ منافع کی منتقلی کے لحاظ سے دوسر ے نمبر پر رہا، 6ماہ کے دوران اس شعبے سے8 کروڑ 38 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9فیصد زائد رہا۔ فوڈ سیکٹر سے منافع کی منتقلی 18فیصد کمی سے 2کروڑ9 لاکھ ڈالر رہی۔
تاہم بیوریجز(مشروبات)بنانے والی کمپنیوں نے24.4 فیصد اضافے سے 5 کروڑ 5 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا، پٹروکیمکلز کے شعبے سے 1 کروڑ38 لاکھ ڈالر، تیل و گیس کی تلاش کے شعبے سے 12.6 فیصد کمی سے 2 کروڑ 33 لاکھ ڈالر، آٹو موبائل سیکٹر سے 114 فیصد اضافے سے 1 کروڑ95 لاکھ ڈالر، کمیونی کیشن و ٹیلی کام سیکٹر سے 85.7 فیصد کمی سے 65 لاکھ ڈالر جبکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر سے 66.4 فیصد کمی سے 2 کروڑ 27 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا۔
فرٹیلائزر سیکٹر سے منافع کی منتقلی 16.3فیصد کمی سے 80 لاکھ ڈالر رہی، سیمنٹ سیکٹر سے 101 فیصد اضافے سے 76 لاکھ ڈالر منافع بیرون ملک منتقل ہوا، پاور سیکٹر سے منافع کی منتقلی 62.7 فیصد کمی سے 3 کروڑ 19 لاکھ ڈالر رہی، گزشتہ سال پاور سیکٹر سے 8 کروڑ 55 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق حکومتی تمسکات میں فنانسنگ سے بینکنگ اور فنانشل سیکٹر کے منافع میں اضافہ ہوا ہے تاہم ملک میں امن و امان کے مسائل اور سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے پاور ٹیلی کام اور ریفائننگ سیکٹر دبائو کا شکار ہیں۔ پاکستان میں کاروبار کرنے والی غیرملکی کمپنیوں نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان میں حاصل کردہ 47 کروڑ49 لاکھ ڈالر کا منافع اپنے ملکوں کو منتقل کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2012 کے دوران منتقل کردہ منافع کی مالیت مالی سال 2011-12 کے اسی عرصے میں منتقل کیے گئے 51 کروڑ37 لاکھ ڈالر منافع سے 7.5 فیصد کم ہے۔
گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 53 کروڑ 11 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی جبکہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا 38کروڑ87 لاکھ ڈالر اور غیرملکی نجی سرمایہ کاری سے حاصل کردہ 12کروڑ49 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 56 کروڑ 28 لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی جس میں ایف ڈی آئی سے ملنے والا 38 کروڑ 15 لاکھ ڈالر جبکہ نجی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا 9 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا، رواں مالی سال سب سے زیادہ 13 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کا منافع فنانشل بزنس سے بیرون ملک منتقل ہوا جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 153.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ مالی سال کے دوران اس شعبے سے 5 کروڑ18 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا تھا، پٹرولیم ریفائننگ کا شعبہ منافع کی منتقلی کے لحاظ سے دوسر ے نمبر پر رہا، 6ماہ کے دوران اس شعبے سے8 کروڑ 38 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9فیصد زائد رہا۔ فوڈ سیکٹر سے منافع کی منتقلی 18فیصد کمی سے 2کروڑ9 لاکھ ڈالر رہی۔
تاہم بیوریجز(مشروبات)بنانے والی کمپنیوں نے24.4 فیصد اضافے سے 5 کروڑ 5 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا، پٹروکیمکلز کے شعبے سے 1 کروڑ38 لاکھ ڈالر، تیل و گیس کی تلاش کے شعبے سے 12.6 فیصد کمی سے 2 کروڑ 33 لاکھ ڈالر، آٹو موبائل سیکٹر سے 114 فیصد اضافے سے 1 کروڑ95 لاکھ ڈالر، کمیونی کیشن و ٹیلی کام سیکٹر سے 85.7 فیصد کمی سے 65 لاکھ ڈالر جبکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر سے 66.4 فیصد کمی سے 2 کروڑ 27 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا۔
فرٹیلائزر سیکٹر سے منافع کی منتقلی 16.3فیصد کمی سے 80 لاکھ ڈالر رہی، سیمنٹ سیکٹر سے 101 فیصد اضافے سے 76 لاکھ ڈالر منافع بیرون ملک منتقل ہوا، پاور سیکٹر سے منافع کی منتقلی 62.7 فیصد کمی سے 3 کروڑ 19 لاکھ ڈالر رہی، گزشتہ سال پاور سیکٹر سے 8 کروڑ 55 لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا تھا۔