شیشہ مینڈک دریافت جس کا دل باہر سے دھڑکتا دیکھا جاسکتا ہے

ماہرین نے حال ہی میں ایک نیا شفاف مینڈک دریافت کیا ہے لیکن اس کی بقا کو سخت خطرہ لاحق ہے

ایکواڈور سے مینڈک کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے جس کے بدن میں دل دھڑکتا دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ نیوسائنٹسٹ

سائنسدانوں نے شفاف ترین مینڈک کی ایک نایاب قسم دریافت کی ہے اگر اس مینڈک کو آپ الٹا کریں تو اس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

مینڈک ایمیزون علاقے میں ایکواڈور کے پاس دریافت ہوا ہے جس کا حیاتیاتی نام Hyalinobatrachium yaku ہے اور اسے ''شیشہ مینڈک'' (گلاس فراگ) کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین نے فوری طور پر اس کا ڈی این اے تجزیہ بھی کرلیا ہے تاکہ اس کے انوکھے ہونے کی اہم وجوہ معلوم کی جاسکیں۔



اس کے بدن پر گہرے سبز رنگ کے دھبے ہیں اور یہ اب تک دریافت ہونے والے دیگر مینڈکوں سے مختلف بھی ہے۔ جس علاقے میں اس کا مسکن ہے وہ تیل کی پیداوار سے متاثر ہے اور اس کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ایکواڈور کی یونیورسٹی سے وابستہ ماہر جوآن گیاسمن نے نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسے دیکھا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مادہ پتوں کی نچلی سطح پر انڈے دیتی ہے اور نر ان کی نگرانی کرتا ہے جب کہ یہ اب تک ملنے والا خوبصورت ترین مینڈک بھی ہے ۔


ایک این جی او بایوڈائیورسٹی گروپ کے ماہر پال ہیملٹن کہتے ہیں کہ تمام مینڈکوں میں دل نمایاں نظر نہیں آتا کیونکہ بعض جانوروں میں یہ سفید ہے اور سرخ خون دکھائی نہیں دیتا۔

https://www.youtube.com/watch?v=kl3PmGDXwiA

لیکن ایک بات طے ہے کہ اس پر تحقیق سے مینڈکوں کے ارتقا اور ان کی دلچسپ خواص پر ہماری معلومات میں اضافہ ضرور ہوگا۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ خشکی اور پانی میں رہنے والے جاندار مثلاً سلامینڈر اور مینڈکوں کی بڑی تعداد اب بھی دریافت نہیں ہوئی ہے۔ لیکن سیارہ زمین پر اس مخلوق کو سب زیادہ خطرات لاحق ہیں مگر پھر بھی ہرسال ان کی 100 سے 200 اقسام دریافت ہوتی رہتی ہیں۔

یہ مینڈک بہتے چشموں میں زندہ رہتے ہیں اور اگر وہ خشک یا آلودہ ہوجائے تو یہ حساس جانور مرنے لگتے ہیں، جہاں یہ پایا جاتا ہے وہاں تیل نکالا جارہا ہے جو اس کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔
Load Next Story